خود کو مثالی بنائیں


گھر ہو یا سیاست کا میدان، کوئی محفل ہو یا دفتر، وجود کی خوبصورتی انسان کو مثالی بناتی ہے۔ جھوٹ جلسے میں بولا جائے یا گھر میں، جھوٹ ہی ہوتا ہے اور بد زبانی دفتر میں ہو یا سڑک پر وہ بری عادات میں ہی شمار ہوتی ہے۔ لالچ، بے ایمانی، نفرت، کینہ، حسد اور غیبت کے لئے بھی یہی اصول ہیں۔ بچے جب گھر میں ماں، باپ یا کسی اور بڑے کو آئیڈیل مانتے ہیں تو اس کی وجہ ان کی عمر نہیں ہوتی بلکہ شخصیت اور کردار کی وہ کشش ہوتی ہے جو بچوں کو متاثر کرتی ہے۔ ایک کمزور شخصیت پر نیکی کا خول چڑھا کر دکھاوا تو کیا جا سکتا ہے لیکن پول کب کھل جائے، کوئی نہیں بتا سکتا ہے۔

اگر پیشہ ورانہ زندگی کی بات کریں تو دفتر میں ایک افسر اپنے ماتحتوں کا نگران ہوتا ہے اور

پر اثر بننے کے لئے اس میں ایسی خصوصیات کا ہونا لازمی ہے جنہیں دیکھ کر دوسرے پیروی کریں۔ ایسا انسان نا صرف اپنی شخصیت اور عمل کے ذریعے لوگوں کے لئے متاثر کن بنتا ہے بلکہ مجموعی طور پر ادارے کے لئے بھی مفید ہوتا ہے۔ کسی بھی مینیجر کا اہم ہتھیار اس کا اختیار ہوتا ہے جو وہ اپنے ماتحتوں کے لیے انعام یا سزا کی شکل میں استعمال کرتا ہے اور ایک اچھا لیڈر بننے کے لئے گفتار، اخلاق اور کردار بہت اہمیت رکھتے ہیں۔

ایک کمپنی میں کسی صاحب نے ایڈمن کی اونچی کرسی سنبھالی تو وہ آپے سے ہی باہر ہو گئے۔ جیب میں ہاتھ ڈال کر پورے دفتر میں ہر وقت گشت کرتے نظر آتے تھے۔ مائکرو مینیجمنٹ کا شوق رکھتے تھے، ٹیم کو بھی عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا، اپنے جونیئر کو ساتھ لے کر خود واش روم کی انسپیکشن کرتے اور لیکیج ڈھونڈتے پھرتے تھے، کسی ٹریننگ سیشن کے دوران مستقل چائے کا انتظام ہونے کے باوجود بریک ٹائم کے علاوہ کوئی چائے پینے کے لئے اٹھے تو بٹھا دیتے تھے کہ پہلے لیکچر سنیں، چائے بعد میں، دین اسلام میں ادب اور اخلاقیات کا درس اپنی جگہ لیکن ان کا افسری کا شوق حاوی نظر آتا تھا اور اخلاقی تربیت کی کمی تھی یا شاید خالی برتن شور کر کے اپنی موجودگی اور اہمیت کا احساس دلانا چاہتا تھا۔ جس دن خود نو بجے سے پہلے دفتر آ جائیں تو اپنے ماتحتوں میں سے ہر کسی کا دفتر آنے کا وقت دیکھتے اور طنزیہ انداز میں شرمندہ کرتے تھے۔ خاص بات یہ تھی کہ ہر وقت منہ پر مصنوعی مسکراہٹ سجائے رکھتے تھے۔ کارپوریٹ سیکٹر میں ہوتے ہوئے بھی وہ کلچر، روایات اور طور طریقوں سے ناواقف لگتے تھے۔

ایک دوست کا کہنا ہے کہ اس کی ملٹی نیشنل کمپنی میں ایک شعبے کے مینیجر نے حاضری والی مشین کے ہوتے ہوئے بھی اپنے کیبن میں پروفیشنل اور تجربہ کار ٹیم کی حاضری لگانے کے لئے ایک عدد رجسٹر رکھ دیا تھا اور اس عجیب حرکت کا احساس اس افسر کے علاوہ سب کو تھا۔

ٹھرک اچھے بھلے انسان کی عزت کو خاک میں ملا دیتی ہیں۔ ہمیں ارد گرد کچھ حضرات ایسے بھی نظر آتے ہیں جو ٹھرک کی بیماری میں مبتلا ہوتے ہوئے خواتین کی قربت کے لئے پہلی سیڑھی انہیں بیٹی کہہ کر چڑھتے ہیں، خوبصورت اور پاکیزہ رشتے کی توہین نہ کریں۔

ہمارے معاشرے میں لوگوں کی نفسیات ایسی ہے کہ غلط کو غلط کہہ کر ہم خود غلط کرتے ہیں۔ یہاں شرابی کو گناہ گار کہہ کر خود شراب پی جاتی ہے اور شادی شدہ کا نکاح نامہ چیک کر کے خود زنا کیا جاتا ہے، یعنی کہ خود فرشتہ اور باقی سب گناہ گار نظر آتے ہیں۔ بقول شاعر

اسی لئے تو یہاں اب بھی اجنبی ہوں میں
تمام لوگ فرشتے ہیں آدمی ہوں میں

مثالی بننا چاہتے ہیں تو اچھا بننے کی کوشش کریں، صرف اچھا نظر آنا کافی نہیں ہے۔ اچھا بننا ہے تو خود کو کامل سمجھنا چھوڑ دیں اور اپنے اندر خامیاں تلاش کریں کیونکہ اچھائی ہمارے اندر اس وقت تک داخل نہیں ہو سکتی جب تک ہم اپنی خامیوں کو پہچان نہ لیں۔ قدر دانی کرنا سیکھیں خواہ آپ کے سامنے گھر کے افراد ہوں، دفتر میں ماتحت، یا کوئی اجنبی۔ کسی کی تربیت کرنے سے پہلے خود کا تربیت یافتہ ہونا بہت اہم ہوتا ہے۔

Facebook Comments HS