زرداری صاحب مفاہمت کے بادشاہ ہیں یا مفادات کے؟


گزشتہ چند سالوں سے پاکستانی سیاسی اور صحافتی حلقوں میں زرداری صاحب بطور زیرک سیاستدان اور مفاہمت کے گرو کے طور پر مشہور ہیں۔ آج تک کسی نے اس مفروضے پر تنقیدی جائزہ لینے کی زحمت نہیں کی کہ موصوف کے مفاہمتی اور زیرک پن سے خود ان کے سیاسی مفادات کے علاوہ عوام کو کیا ریلیف ملے اور سیاسی کشیدگی کم ہونے میں ان کا کیا کردار رہا؟ کہیں ایسا تو نہیں بقول مولانا فضل الرحمن دراصل ”زرداری صاحب مفادات کے بادشاہ ہیں“ ؟

ہمارے ہاں گاوٴں میں قول مشہور ہے کہ ”زرداری صاحب چالاکی میں لومڑی کو بھی مات دے سکتا ہے“ اب ہمارے فوک روایات میں لومڑی ہوشیاری اور مکاری دونوں کی علامت ہے۔ اب زرداری صاحب ہوشیار ہیں یا چالاک اس کو سمجھنے کے لیے گزشتہ چند سالوں سے ان کی سیاست پر تنقیدی جائزے کی اشد ضرورت ہے۔

بی بی شہید کی شہادت کے بعد سے زرداری صاحب سیاست میں سرگرم ہیں۔ ان کی زیرک پن کے چرچے تب سے مشہور ہیں جب وہ صدر بنے تھے۔ ان کے بارے میں مشہور ہے کہ اپنی مفاہمت اور زیرک پن سے ہی اپنی جماعت کی پانچ سالہ دور اقتدار کو پورا کرنے میں کامیاب ہوئے۔ البتہ اس زیرک پن کی پارٹی کو کیا قیمت چکانا پڑی کسی نے سوچنے کی زحمت نہیں کی۔ مفاہمت میں گرو اتنے آگے گئے کہ پیپلز پارٹی پنجاب سے سکڑ کر اندرون سندھ تک محدود ہو گئی۔

زیرک سابق صدر مفاہمت کے اتنے گرو ہیں کہ عوامی سیاست کی بجائے ڈرائنگ روم سے ہی جوڑ توڑ کر کے سیاسی مفادات حاصل کرنے کو ترجیح دیتے ہیں اور صحافتی حلقوں میں واہ واہ ہو جاتی ہے۔ آزاد امیدواروں اور سینٹ کے انتخابات جب ہوتے ہیں تو موصوف جوڑ توڑ سے سیٹیں نکال لیتے ہیں لیکن اس گیم میں ہارس ٹریڈنگ پر کسی کی نظر نہیں پڑتی۔ سینٹ کے کئی انتخابات میں زرداری صاحب اپنے حصے سے زیادہ نشستیں لیتے آئے ہیں۔

2014 سے آگے نون لیگ کے ساتھ جو کھیل شروع ہوا تب سے زرداری صاحب اپنے گیمز خوب کھیلتے رہے ہیں۔ 2014 کے دھرنے سے 2022 کے عدم اعتماد تک سیاسی اور ذاتی مشکلات نون لیگ اور قوم کے حصے میں آئیں۔ اس وقت ایسا لگا کہ میاں صاحب اور قوم مشکلات کے باوجود درست سمیت میں جا رہے جو بالآخر فطری طور پر الیکشن کے ذریعے حقیقی عوامی حکومت قائم ہو جاتی۔ لیکن زرداری صاحب نے اپنے زیرک پن سے ایسے گیم کھیلی کہ اپنے مفادات حاصل کر کے پھندا نون لیگ اور مہنگائی قوم کے گلے میں ڈال دی۔

عدم اعتماد سے لے کر اب تک اگر کسی کے مفادات حاصل ہوئے ہیں تو وہ صرف پیپلز پارٹی کے ہیں جس کی قیمت نون لیگ اور تحریک انصاف سمیت پوری پاکستانی قوم نے چکائی ہے۔ نون لیگ اپنے بیانیے سمیت عوامی پذیرائی سے محروم ہوئی تو تحریک انصاف جبر سے گزری اور عوام کے مسائل ہیں کہ ڈھیر لگے ہیں۔

انتخابات کے بعد حالات سنبھلنے کی بجائے مزید خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ مسائل کے اتنے انبار لگے ہیں کہ کوئی بھی جماعت حکومت لینے کو تیار نہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ نون لیگ اور پیپلز پارٹی مل کر یہ بوجھ اٹھاتیں اور ملک کو بحرانوں سے باہر نکالتیں لیکن زرداری صاحب گالیاں اور بوجھ نون لیگ کے اوپر ڈال کر خود سندھ حکومت اور آئینی عہدوں کے مزے لینا چاہتا ہے تاکہ مستقبل میں پھر سے سیاسی جدوجہد کی بجائے موقع پرستی سے نشستیں اور اقتدار حاصل کرتا رہے۔

لگتا ہے زرداری صاحب کی قیادت میں پیپلز پارٹی اپنے زیرک پن کی اسی سیاست کو جاری رکھے گی جو دراصل مفاہمت اور زیرک پن کی بجائے مفادات کی سیاست ہے۔ مولانا صاحب نے درست ہی کہا ہے کہ ”زرداری صاحب مفادات کے بادشاہ ہیں“ ۔

ملک معاشی اور سیاسی بحرانوں سے دوچار ہے، ایسے میں نون لیگ اور پیپلز پارٹی کی ذمہ داری ہے کہ وفاق میں حکومت سنبھال کر حالات کو مزید کشیدہ ہونے سے بچا لیں۔ صحافتی اور عوامی حلقوں کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ پیپلز پارٹی پر دباوٴ ڈالیں کہ مفادات کی بجائے اب مفاہمت کی سیاست کریں۔ اسی طرح تحریک انصاف سے بھی ڈائیلاگ کر کے بند گلیوں کو کھولنا ہی آگے کی طرف واحد حل ہے۔

اب بہت ہو چکا تمام ادارے اپنے اپنے آئینی کرداروں تک محدد ہو جائیں اور آئینی کردار ہی ادا کریں۔ اسی طرح سیاستدان ذاتی مفادات کو پس پشت ڈال کر کچھ عرصہ عوامی سیاست کر کے بھی دیکھ لیں۔ جس اقتدار کو پی ڈی ایم اب کانٹوں کا بستر سمجھتی ہے وہ کانٹے دراصل عوام کے حلق میں کب سے پڑے ہیں۔ اس وقت سے ڈریں جب یہی کانٹے بھوکے ننگے اور پسے ہوئے عوام حکمرانوں کے گلے میں ڈال دیں۔

Facebook Comments HS