پاکستان میں درکار اصلاحات۔ ایک خاکہ


پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس قومی سطح کا ایک معتبر تھنک ٹینک ہے۔ جو کئی سالوں سے پاکستان کی معاشی نظام میں موجود خامیوں کو ڈھونڈنے اور اس کو دور کرنے کے لئے تحقیق کر رہا ہے۔ گزشتہ ماہ انھوں نے چار سالہ تحقیق کے بعد اصلاح کے نام سے ایک منشور کو پیش کیا ہے۔ جس میں سیاسی اور معاشی مشکلات پر قابو پانے کے لئے متعدد تجاویز پیش کی ہے۔

88 صفحات پر مشتمل انگریزی کی یہ کتاب دس ابواب پر مشتمل ہے۔ جس میں سیاست اور پارلیمنٹ، انتظامیہ، کاروبار، مستقبل کو توانائی کی فراہمی اور آبادی وغیرہ شامل ہیں مگر ہم یہاں عوامی دلچسپی اور اہمیت کے پیش نظر صرف دو ابواب یعنی سیاست، پارلیمنٹ اور بیوروکریسی و عدالتی نظام میں مجوزہ تبدیلیوں سے چند نکات پیش کرتے ہیں۔

1۔ سب سے پہلے تو انھوں نے سیاسی جماعتوں کی تعداد پر سوال اٹھایا ہے کہ 174 سیاسی جماعتوں کی موجودگی کا کوئی جواز نہیں اس کو کم کرنے کے لئے رجسٹریشن کے عمل کو مزید سخت بنانے، ممبران کی تعداد کو بڑھانے اور پارٹی کے اندر ہر تین سال بعد جمہوری انداز میں انتخابات کو لازمی قرار دینے کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی ہر سیاسی جماعت کو سالانہ بجٹ بتانے اور آزاد فرم سے سالانہ آڈٹ رپورٹ پبلک کرنے کا قانون ضروری ہے۔ تاکہ پارٹی کے آمدن و خرچ کو شفاف بنا کر غیر قانونی سیاسی خرچوں اور سیاست میں بلیک منی کے استعمال کو کم کیا جا سکے۔

2۔ انھوں نے اب تک گزرنے والے 24 وزرا اعظم کے دور حکمرانی کا جائزہ لے کر تجویز دی ہے کہ پارلیمنٹ اور حکومت کے دورانئے کو 5 سال کی بجائے 4 سال تک محدود کیا جائے۔ کیونکہ 24 وزرا اعظم میں سے ہر ایک کا اوسط دورانیہ 2 سال اور 10 مہینے بنتا ہے جبکہ ان میں سے کسی ایک نے بھی 5 سال کا دور حکومت پورا نہیں کیا ہے۔ پائڈ تجویز کرتا ہے کہ ہر سال بالترتیب قومی اسمبلی سینیٹ صوبائی اسمبلی اور بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ہو، وہ سینیٹ، اقلیتوں اور خواتین کی مخصوص نشستوں پر بھی براہ راست انتخابات کرانے کی تجویز دیتے ہیں۔ تاکہ ان ارکان کے انتخاب میں سیاسی جماعتوں کے سربراہان کی اجارہ داری اور اختیار کو محدود کیا جا سکے۔ اس طرح ایک ہی خاندان سے پارلیمنٹ جانے والے افراد کی تعداد بھی محدود ہونی چاہیے۔

3۔ انتخابات کے اخراجات اور اس کے کشش کو کم کرنے کے لئے جدید دور کے تقاضوں کے مطابق بنک ٹرانزیکشن کی طرح آن لائن ووٹنگ، مختص کیے گئے مقامات پر محدود جلسوں اور میڈیا کے ذریعے اپنے منشور کے مطابق عوام سے اپیل کرنے اور انہیں مائل کرنے کو رواج دیا جائے۔

4۔ الیکشن کمیشن کی خود مختاری کو یقینی بنانا اور انتخابات کے لئے نگران حکومت بنانے کا خاتمہ بھی ناگزیر ہے۔ دنیا کے محدودے چند ممالک میں نگران حکومت بنانے کا رواج ہے۔ جو انتخابات میں غیر ضروری تاخیر اور اضافی اخراجات کا سبب بنتا ہے۔ آئینی طور پر اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ ہر منتخب حکومت اپنے دور کے آخری مہینے میں خودمختار الیکشن کمیشن کو تمام سہولیات دینے اور انتخابات کرانے کا پابند ہو گا۔

5۔ کسی بھی شخص کو صدر، وزیر اعظم، سپیکر اور چئیر مین سینیٹ جیسے عہدے پر دو مرتبہ سے زیاد منتخب ہونے پر پابندی ہونی چاہیے۔ اسی طرح قانون ساز ادارے یعنی پارلیمنٹ سے زیادہ سے زیادہ 10 افراد کو وزیر بنایا جائے باقی کابینہ پارلیمنٹ کے باہر سے مختلف فیلڈز کے ماہرین پر مشتمل ہونی چاہیے۔

6۔ ممبران پارلیمان صرف قانون ساز اور پالیسی ساز رہے۔ ان کے ذریعے ترقیاتی کاموں کی سفارش اور انہیں فنڈز دینے پر مکمل پابندی ہونی چاہیے۔ اجلاس کے دوران ممبران کی چھٹی کی حد مقرر کی جائے اضافی چھٹیوں کی صورت میں ان کی تنخواہ و مراعات سے کٹوتی کی جائے۔ اور قانون سازی میں تمام ممبران کی سالانہ کا کردگی رپورٹ کو پبلک کیا جائے۔

7۔ قومی اسمبلی یا سینیٹ میں بل پیش کرنے اور منظوری کا واضح طریقہ کار ہونا چاہیے۔ ہر بل کم از کم 10 ممبران پیش کرے اور اس پر کم از کم ایک ہفتہ تک بحث کے بغیر منظور ہونے پر پابندی لگائی جائے۔

8۔ کوئی بھی شخص ایک سے زیادہ حلقوں سے بیک وقت انتخابی امیدوار بننے پر پابندی ہونی چاہیے یا سیٹ چھوڑنے کے بعد دوبارہ انتخاب کا تمام خرچہ اس استعفی دینے والے امیدوار سے وصول کرنے کا قانون بنانا چاہیے۔

حقیقت یہ ہے کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد چونکہ زیادہ تر وزارتیں، محکمے اور اختیارات چاروں صوبوں کو تفویض کیے گئے ہیں اس کے باوجود مرکزی حکومت درجنوں وزرا پر مشتمل ہوتی ہے جو غیر آئینی اور ایک دوسرے کو نوازنے کی دانستہ کوشش ہے۔ بد قسمتی دیکھئے کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد بھی یوسف رضا گیلانی کی کابینہ 91 افراد پر مشتمل تھی راجہ پرویز اشرف 70 نواز شریف 56 شاہد خاقان 69 عمران خان 85 اور شہباز شریف 88 رکنی کابینہ کو نوازتے رہے۔

اسی طرح اب بھی سول سیکرٹریٹ میں 14000 ملازمین کام کرتے ہیں۔ ملک بھر میں وفاقی ملازمین کی تعداد 575354 ہے یاد رہے کہ یہ تعداد فوجی افسران واہلکاروں کے علاوہ ہے۔ ملازمین کی تعداد اور بوجھ کا اندازہ کیجئے کہ اس وقت مرکز میں 53 وزارتیں کام کر رہی ہے۔ جو محکموں کے لئے پالیسی بناتی ہے یہ وزارتیں مزید 206 خودمختار اداروں کو ریگولیٹ کرتی ہے۔ جن کا کام بھی پالیسی بنانا اور اس پر عملدرآمد کرانا ہے۔ جبکہ 100 سے زیادہ ڈونر ایجنسیاں ان لوگوں کی صلاحیت میں اضافے اور پالیسی بنانے میں مدد و تعاون فراہم کرتی ہے۔ ملازمین کی یہ تعداد اور درجاتی نظام غلامانہ دور کی یاد تازہ کرتا ہے۔ جس کو بدلنے کی شدید ضرورت ہے۔

پائڈ کی تحقیق کے مطابق پاکستان کی معیشت کو غیر ضروری اور ناکارہ ریگولیشنز کی وجہ سے اس وقت اجازت نامہ معیشت کہا جاسکتا ہے۔ جس کو عرف عام میں سرخ فیتہ کہا جاتا ہے جو بذات خود معاشی سرگرمیوں، سرمایہ کاری، ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ وفاقی سطح پر 118 ریگولیٹری باڈیز کی موجودگی سے سرمایہ کاری اور معیشت کی ترقی میں رکاوٹوں کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ پائڈ کی تحقیق میں حیران کن انکشاف ہوا کہ جی ڈی پی کا 45 فیصد حصہ خود انہی نگران اداروں پر خرچ ہوتا ہے۔ جو ملکی معیشت اور سرمایہ کاری میں اضافے کی بجائے کمی کا باعث ہے۔ پائڈ سفارش کرتا ہے کہ پاکستان میں ریگولیٹری نظام کو جدید بنایا جائے اس مقصد کے لئے کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام کو مارکیٹ کو سہولیات فراہم کرنے کے نظام میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

پائڈ نے اس اصلاحاتی منشور میں عدالتی نظام میں موجود خامیوں کا بھی احاطہ کیا ہے اور سفارش کی ہے۔ کہ
1۔ مختلف اقسام کے کیسوں کے لئے زیادہ سے زیادہ سماعتوں کی مقدار مقرر کی جائے۔

2۔ ایک کیس میں دو دفعہ سے زیادہ التوا پر پابندی لگائی جائے اور زیادہ التوا مانگنے والے فریق یا وکیل پر بھاری جرمانہ عائد کیا جائے۔

3۔ سٹے آرڈر کو ریگولیٹ کر کے اس کی حوصلہ شکنی کی جائے اور اس کا زیادہ سے زیادہ دورانیہ چھ مہینے مقرر کیا جائے۔

4۔ جھوٹا کیس دائر کرنے والوں پر بھاری جرمانے عائد کیے جائے بلکہ مدعا علیہ اور اس کے وکیل کا تمام خرچہ جھوٹے مدعی سے وصول کیا جائے۔

5۔ اور سب سے آخری بات یہ کہ مختلف نوعیت کے کیسز میں وکلا کے درجات اور ان کے فیسوں کی حد مقرر کی جائے۔

درجہ بالا سفارشات اور تجاویز تحقیق کی روشنی میں تیار کی گئی ہے۔ اگر نو منتخب پارلیمنٹ اور حکومت اس کو اپنا کر اس پر عملدرآمد کرنا چاہے تو یقیناً پائڈ سمیت محققین اور ماہرین کی خدمات انہیں فراہم کی جائے گی۔ ہمیں امید ہے کہ ان سفارشات پر عملدرآمد پاکستانی سیاست اور معیشت کو نیا رخ دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اور یہ 24 کروڑ عوام کے لئے فائدہ مند ہوگی۔

Facebook Comments HS