بات ”مجھے کیوں بلایا؟“ تک پہنچے گی!


کمشنر راولپنڈی لیاقت علی چٹھہ کا ملک کے عام انتخابات کے آٹھ روز بعد ضمیر جاگ گیا ہے۔ کہتے ہیں کہ ہم نے انتخابات میں دھاندلی کروائی، پچاس پچاس ستر ستر ہزار کی لیڈ کے ساتھ جیتنے والوں کو ہروا دیا، ہم نے ملک کے ساتھ کھلواڑ کیا، آج بھی ہمارے لوگ بیٹھے مہریں لگا رہے ہیں۔ (کس جگہ پر بیٹھے ہیں اور اب کون سی مہریں لگا رہے ہیں انہوں نے یہ نہیں بتایا) ۔ کہتے ہیں کہ چیف جسٹس آف پاکستان، چیف الیکشن کمشنر اور وزیر اعلیٰ پنجاب شریک جرم ہیں۔

کمشنر صاحب سے ضمیر کا بوجھ ہلکا نہیں ہو رہا چنانچہ انہوں نے ’اعترافی بیان‘ جاری کرتے ہوئے راولپنڈی کے کچہری چوک میں اپنے لئے پھانسی کی ’آخری خواہش‘ کا اظہار بھی کیا ہے۔

صحافت کی زبان میں اس دھماکے دار خبر کے فوری بعد دو کام ہوئے۔ ایک یہ کہ ان کا تبادلہ کر دیا گیا۔ (اور ایسے موقعوں پر ہمارے ملک میں اکثر ایسا ہی ہوتا ہے) ۔ دوم یہ کہ ان کے سنگین الزامات پر چاروں طرف سے فوری ردعمل آیا۔

وزیر اعلیٰ محسن نقوی نے آزاد تحقیقات کا مطالبہ کر دیا۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الزام لگانا آسان ہے، کوئی ثبوت ہے تو سامنے لایا جائے۔ سیاسی جماعتوں بشمول تحریک انصاف، پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی نے بھی آزاد تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے کمشنر صاحب کی پریس کانفرنس کے چند گھنٹوں کے بعد ہنگامی اجلاس بلایا اور تحقیقاتی کمیٹی کا اعلان کیا۔ مسلم لیگ نون نے رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ کمشنر راولپنڈی کے ساتھ کوئی دماغی مسئلہ ہے۔ نگراں وزیر پنجاب عامر میر بھی ان مسئلے پر نون لیگ کے ہمنوا ہیں۔

اس واقعہ پر نئے تعینات ہونے والے کمشنر راولپنڈی سیف انور جپہ نے راولپنڈی، اٹک، جہلم، چکوال، تلہ گنگ کے ڈی آر اوز کو بلا کر پریس کانفرنس کر ڈالی۔ (انہوں نے کانفرنس کی یا ان سے کروائی گئی اس بارے صحافت خاموش ہے ) ۔ بہرحال انہوں نے الزامات کو سراسر رد کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن صاف شفاف اور بغیر کسی دباؤ کے کروائے گئے ہیں، کوئی دھاندلی نہیں ہوئی۔

خیر، تحقیقات جب سامنے آئیں گی تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا اور ہونا بھی چاہیے۔ ہمیں تو اس وقت یہ دیکھنا ہے کہ ”پاکستان کو نواز دو“ کا نون لیگی انتخابی نعرہ مابعد انتخابات کس عملی صورت حال سے گزر رہا ہے کہ بات صرف کمشنر راولپنڈی کے الزامات کی نہیں متعدد حلقوں کی طرف سے انتخابات کی شفافیت پر آوازیں اٹھ رہی ہیں۔

آٹھ اور نو فروری کی درمیان سرد شب جب انتخابی نتائج کا ٹرینڈ نون لیگ کی امیدوں کو بھی یخ بستہ کر رہا تھا تو عین اس وقت ایک ویڈیو کلپ بعض لوگوں کے ہاتھ لگا جس میں قائد نون لیگ میاں نواز شریف ان کمفورٹ ایبل نظر آرہے ہیں اور ٹی وی پر بیٹھے ایک معروف اینکرپرسن نے ان کے باڈی لینگوئج کو بنیاد بناتے ہوئے نتیجہ اخذ کیا تھا کہ نواز شریف بھانپ گئے ہیں کہ گیم ان کے ہاتھ سے نکل رہی ہے۔

پھر ہم نے دیکھا کہ مانسہرہ کی سیٹ ان کے ہاتھ سے نکل گئی۔ جبکہ لاہور کی سیٹ کے نتائج کو ان کی مدمقابل ڈاکٹر یاسمین راشد نے عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔

ن لیگ کی امیدوں کے برعکس الیکشن میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدواروں نے انتخابی دنگل میں زیادہ سیٹوں پر کامیابی حاصل کی۔ اور 10 فروری کو کچھ ملکی اور غیر ملکی اخبارات نے ’پی ٹی آئی نے بیٹ کے بغیر سنچری بنالی‘ جیسی شہ سرخیاں جما دیں۔ اگر بیٹ مل جاتا اور عدلیہ کا فیصلہ رکاوٹ نہ بنتا تو یقیناً صورت حال مسلم لیگ نون اور کچھ اوروں کے لئے بہت تشویشناک ہوتی۔

پی ٹی آئی کی کوکھ سے جنم لینے والی جماعتوں پاکستان تحریک استحکام پارٹی اور پی ٹی آئی پارلیمنٹیرین کے سربراہان جہانگیر ترین اور پرویز خٹک اس انتخابی بیٹنگ سے آؤٹ ہو گئے۔ ایسے آؤٹ ہوئے کہ سیاست ہی سے کنارہ کشی کا اعلان کر دیا۔ اسی طرح اے این پی کے سربراہ حیدر ہوتی اور کراچی سے جماعت اسلامی کے حافظ نعیم الرحٰمن بھی الیکشن میں اچھی کارکردگی نہ دکھانے کو بنیاد بناتے ہوئے مستعفی ہو گئے۔ استعفے کا اعلان امیر جماعت سراج الحق نے بھی کیا تھا جو شوریٰ نے رد کر دیا۔

مسلم لیگ نون مطلوبہ سیٹیں حاصل نہ کرنے پر دلبرداشتہ نظر آئی مگر یہ سوچ پر خود کو تسلی دے رہی ہے کہ چلو پنجاب تو ہاتھ لگ گیا جہاں آسانی سے حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہے۔

پی پی پی کا کہنا ہے کہ اس کے بغیر مرکز میں کوئی حکومت نہیں بنا سکتا اور یہ بات درست بھی ہے۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کا مطالبہ مان لیا گیا ہے کہ صدر مملکت اور سپیکر پیپلز پارٹی سے ہوں گے جبکہ چیئرمین سینیٹ اور چاروں گورنروں بارے فیصلہ بعد میں ہو گا۔ ایک خبر یہ بھی سامنے آ رہی ہی کہ پی پی پی نے پنجاب کی بیوروکریسی تک رسائی مانگی ہے اور کہا ہے کہ وہ پالیسی سازی میں شامل ہو کر پنجاب کی ترقیاتی سکیموں میں حصہ دار بننا چاہتے ہیں۔

ادھر پی ٹی آئی کا مطالبہ اپنی جگہ ابھی برقرار ہے کہ آئی جی پنجاب، اور پنجاب اور سندھ کے چیف سیکریٹریز کو ہٹایا جائے۔ 17 فروری ہفتے کے روز تحریک انصاف نے ملک گیر احتجاج کیا، پکڑ دھکڑ بھی ہوئی۔ سندھ میں جی ڈی اے انتخابی نتائج پر سیخ پا ہے۔ کوئٹہ، نصیر آباد، چمن وغیرہ میں بی این پی، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی، جمہوری وطن پارٹی، جمعیت علمائے اسلام ف و دیگر جماعتوں کا احتجاج و دھرنا جاری ہے۔ اس کا بوجھ اتحادی حکومت پر ہی گرے گا کہ ان سے کیسے نمٹا جائے۔

پیپلز پارٹی اتحادی بن کر بھی ممکنہ طور پر کسی نہ کسی بات پر اندر ہی اندر ’تنگ‘ کرتی رہے گی اور ’شہباز کرے پرواز‘ میں رخنے ڈالے گی۔ وجہ یہ ہے کہ دونوں جماعتوں کی نظریاتی ساخت پرداخت میں فرق ہے۔ اس بار تو موقع ہاتھ سے نکل گیا کیا خیال ہے بلاول بھٹو اگلی بار وزیر اعظم کی سیٹ سنبھالنے کی کوشش نہیں کرے گا؟ اس کے لئے پیپلز پارٹی اپنا رستہ ہموار کرے گی۔ یہی وجہ ہے کہ پی پی پی کی طرف سے نون لیگ کے ساتھ ’مثالی تعاون‘ کی شاندار مثالیں زیادہ ملنے کا امکان کم ہے۔

پی ٹی آئی کی روایتی احتجاجی سیاست ٹھنڈی نہیں پڑے گی، اس کی نون لیگ کے ساتھ ’اڑ پھس‘ چلتی رہے گی۔ وہ پارلیمان کے اندر اور باہر دونوں جگہوں پر اسے ٹف ٹائم دے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ نون لیگ کو سوشل میڈیا پربھی پی ٹی آئی کی ہر جائز ناجائز تنقید اور طعن و تشنیع کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کمشنر راولپنڈی جیسا کوئی اور بیوروکریٹ پکے ثبوت لے کر سامنے آ گیا تو اسے کیسے ہینڈل کریں گے۔ اگر کسی نے سرپرستی سے ہاتھ کھینچ لیا اور عدل کے ایوانوں سے آزاد فیصلے آنے لگ گئے تو؟

اس پر مستزاد یہ کہ سیاست بڑا ظالم کھیل ہے کل کلاں اگر پی پی پی نے پی ٹی آئی سے ہاتھ ملا لیا تو نون لیگ کیا کرے گی؟

تو کہنے کا مطلب یہ ہے کہ نواز شریف جو کچھ سوچ کر 4 سال 3 ماہ بعد وطن واپس لوٹے ہیں وہ ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ اگر انتخابی نتائج ان کی توقع کے عین مطابق نہیں تو بعد کی صورت حال بھی ان کی توقع کے مطابق نظر نہیں آ رہی۔ اگر قائد نون لیگ میاں نواز شریف مبینہ طور پر اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ڈیل کر کے وطن واپس لوٹے ہیں تو ابھی سے ان سے پوچھ سکتے ہیں کہ اگر سب کچھ ایسے ہی ہونا تھا تو مجھے کیوں بلایا؟

Facebook Comments HS