اسلام میں خدا کا تصور: تصوف کا عروج


بارہویں اور تیرہویں صدیاں اسلام کی سب سے ہنگامہ خیز صدیاں تھیں۔ اس نتیجہ خیز دور سے پہلے اور بعد میں عالم اسلام ڈرامائی طور پر مختلف تھا۔ گیارہویں صدی کے آخر میں، اسلامی سلطنت، بہت سے اندرونی تنازعات کے باوجود، غالب فکری قوت تھی۔ یورپ ابھی تک نیند میں تھا۔ تاہم، یہ صورت حال جلد ہی تبدیل ہو گئی۔ دو سو سال کے اندر عالم اسلام اپنی تاریک رات میں داخل ہو گیا، یہ رات بدقسمتی سے آج تک جاری ہے۔ اس دوران علم کے مراکز یورپ منتقل ہو گئے جہاں جلد ہی ایک سائنسی انقلاب برپا ہوا۔

1100 عیسوی اور 1300 عیسوی کے دوران ایسا کیا ہوا کہ اسلامی تہذیب اس طور زوال پذیر ہوئی کہ آج تک پنپ نہ پائی؟ اس مضمون میں، میں اس بارے میں اپنے تاثرات پیش کرتا ہوں۔

مسلمانوں کے زوال میں بہت سے عوامل تھے لیکن یہاں میں ان واقعات کا ذکر کرتا ہوں جنہوں نے اس تبدیلی کو جنم دیا۔ یہ وہ وقت تھا جب اسلامی خلافت دو محاذوں پر حملے کی زد میں تھی: صلیبی یروشلم کی مقدس سرزمین کو فتح کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور اسی دوران منگول منظرنامے پر نمودار ہوئے جنہوں نے بالآخر اسلامی سلطنت کے مرکز کو تباہ کر دیا۔ ان واقعات نے اسلامی معاشروں میں مذہب کے بارے میں سوچ کو بھی متاثر کیا۔

27 نومبر، 1095 کو، پوپ اربن دوم نے کلیریمونٹ کی کونسل میں چرچ کے رہنماؤں کی ایک جماعت کے سامنے قرون وسطی کی شاید سب سے زیادہ نتیجہ خیز تقریر کی۔ انہوں نے شرکت کرنے والے پادریوں اور عیسائی مذہب کے دوسرے رہنماؤں سے یروشلم کی ”مقدس سرزمین“ کو مسلمانوں کے قبضے سے آزاد کرانے کا حکم دیا۔ 638 ء میں حضرت عمر کے دور خلافت میں مسلمانوں نے یروشلم فتح کیا تھا۔ پوپ اربن دوم کی پکار پر پوری عیسائی قوم نے لبیک کہا۔ اس تقریر نے صلیبی جنگوں کا آغاز کیا۔ یہ صلیبی جنگیں تقریباً دو سو سال تک جاری رہیں، جس دوران عیسائی فوجیں وقفے وقفے سے فلسطین پر حملہ اور ہوتی رہیں۔ شروع میں صلیبی اپنے مقصد میں کامیاب رہے لیکن آخر کار ناکام ہوئے اور آخر کار 1291 میں آخری صلیبی جنگ میں انہیں مشرق وسطیٰ سے مکمل طور پر نکال دیا گیا۔

یہ ستم ظریفی ہے کہ صلیبی جنگیں یورپیوں کے لیے ایک اہم مثبت موڑ ثابت ہوئیں۔ ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ مغربی مورخین 1095 کو وہ سال قرار دیتے ہیں جب یورپی اپنے اس تاریک دور سے نکلے تھے جس میں وہ چھٹی صدی میں رومی سلطنت کے زوال کے وقت داخل ہوئے تھے۔ یہ اس حقیقت کے باوجود کہ صلیبی جنگیں عیسائی افواج کے لیے ایک فوجی ہزیمت ثابت ہوئیں۔ اعلیٰ درجے کی اسلامی تہذیب سے رابطہ ان کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوا۔ اسلامی علوم کے ساتھ ساتھ یونانی علم جو رومی دور میں کھو گیا تھا اس تعامل کے ذریعے یورپیوں تک پہنچا۔

اٹلی میں نشاۃ ثانیہ، جرمنی میں اصلاحی تحریک اور پورے یورپ میں عقلیت کے دور کا آغاز، ان سب کی جڑیں دو سو سال تک کھیلے جانے والے اس ڈرامے سے وابستہ ہیں۔ یہ حقیقت کہ خدا ”کافر مسلمانوں“ کی فوجوں سے مقدس سرزمین چھیننے میں صلیبیوں کی مدد نہیں کر سکا تھا، اس نے کلیسیا کی عوام پر گرفت کو کمزور کر دیا۔ اس ناکامی نے کلیسا کو تقسیم کرنے والی ایک اصلاحی تحریک کا آغاز کیا۔ چرچ کے کمزور ہونے کے ساتھ، یورپ میں عقلی سوچ نے زور پکڑا جو سولہویں صدی میں ایک سائنسی انقلاب کا باعث بنا۔ یہ انقلاب آج تک جاری ہے۔

اگرچہ مسلمان عسکری طور پر عیسائی افواج کو پسپا کرنے میں کامیاب رہے لیکن وہ حتمی طور پر شکست خوردہ ثابت ہوئے۔

مسلمان ایک صدی سے زائد عرصے تک مسلسل صلیبی حملوں کی زد میں رہے تھے جب ایک المناک واقعہ پیش آیا۔

تیرہویں صدی کے اوائل میں منگول بین الاقوامی منظر پر اچانک نمودار ہوئے اور ایک خونی فوجی مہم جوئی کے نتیجے میں وسطی ایشیا سے مغربی یورپ تک پھیل گئے۔ ایسی خونی فوجی مہم جوئی دنیا نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ چنگیز خان نے ابتدائی حملوں کا آغاز سب سے پہلے وسطی اور مشرقی ایشیا میں خانہ بدوش قبائل کو فتح کرتے ہوئے کیا۔ ان میں تاتار، ترک اور ایغور شامل تھے۔ اس نے اسلامی وسطی ایشیا میں توسیع جاری رکھی۔ جہاں بھی مزاحمت کا سامنا پڑا، منگولوں نے وہ قصبے اور شہر تباہ و برباد کر دیے۔ چنگیز خان کی موت کے بعد بھی منگولوں کی توسیع جاری رہی اور انہوں نے وسطی ایشیا سے وسطی یورپ تک پھیلی ہوئی دنیا کی تاریخ کی سب سے بڑی سلطنت بنائی۔

مسلمانوں کی حکومت صلیبیوں کے حملوں کی وجہ سے کمزور پڑ چکی تھی جب وہ شمال سے منگولوں کے وحشیانہ حملوں کی زد میں آئے۔ وہ اپنی سلطنت کا دفاع نہیں کر سکے۔ سب سے بڑی تباہی 1258 میں ہوئی جب ہلاکو خان ​​کی قیادت میں منگولوں نے دارالحکومت بغداد کو فتح کیا۔ انہوں نے شہر کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ خلیفہ المستعصم کو موت کی گھاٹ اتار دیا اور ایک بڑی آبادی کا قتل عام کیا گیا۔ عباسی دور کی اکثر لائبریریاں تباہ کر دی گئیں۔ ان میں بیت الحکمت بھی شامل تھی، جو چار سو سال سے زیادہ عرصے سے موجود تھی اور اسلامی سنہری دور کی علامت تھی۔ اسے اس حد تک تباہ کر دیا گیا کہ اس کے کوئی آثار بھی نہ چھوڑے۔ اس عظیم ادارے کے بارے میں جو کچھ ہم جانتے ہیں وہ الطبری جیسے مورخین کی وجہ سے ہے۔

ان واقعات نے اسلامی دنیا کو تین طرح متاثر کیا۔
مسلمانوں میں فلسفیانہ سوچ ختم ہو گئی، جو سائنسی میدان میں ترقی کی علامت تھی۔
اسلام میں تصوف کو عروج حاصل ہوا۔ جس نے سائنسی سوچ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔
اسلام میں ایک بنیاد پرستی کی تحریک نمودار ہوئی، جس نے آزادانہ سوچ پر تالے ڈال دیے۔

صلیبی جنگوں اور منگولوں کے ہاتھوں تباہی کا اثر لوگوں کی مذہبی سوچ پر پڑا۔ مسلمانوں نے جو فلسفیانہ روایات اختیار کیں وہ یونانیوں سے آئی تھیں۔ ارسطو کو عقلیت کا باپ سمجھا جاتا تھا۔ صلیبی جنگوں نے یونانیوں کی فلسفیانہ روایات سمیت ہر یورپی چیز کے لیے دشمنی پیدا کی۔ ارسطو، افلاطون اور پلاٹینس، جو نویں صدی کے اوائل میں ترجمے کی تحریک میں دریافت ہوئے تھے اور جنہوں نے مسلمانوں کی فلسفیانہ سوچ کی آبیاری کی تھی، اب ان کا تعلق حملہ آور صلیبیوں سے تھا۔ یہ رویہ جزوی طور پر مسلمانوں کی فلسفہ سے بیگانگی کی وضاحت کر سکتا ہے۔ یہ صورت حال موجودہ وقت سے زیادہ مختلف نہیں ہے جہاں بہت سے اسلامی حلقوں میں سائنس مخالف رویہ پایا جاتا ہے کیونکہ سائنس نے تقریباً مکمل طور پر ”کافروں“ کی سرزمین میں ترقی کی ہے۔

منگولوں کے ہاتھوں تباہی نے بھی اسلامی سوچ پر بہت اثر ڈالا۔ ایک شکست خوردہ قوم کی اہم خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے خول میں سمٹنا چاہتی ہے۔ فلسفیانہ سوچ، جو یونانیوں سے حاصل کی تھی، اب مسلمان اس سے نجات حاصل کرنا چاہتے تھے۔ وہ کسی ایسی چیز میں سکون حاصل کرنا چاہتے تھے جو مکمل طور پر ان کی ہو۔ لوگ ایسا خدا چاہتے تھے جو ان تاریک وقتوں میں قریب تر، ہمدرد اور مددگار ہو۔ ایک ایسے خدا کی ضرورت تھی جو معجزات لا سکتا ہو۔ فلسفیوں کا خدا، جو انسانی معاملات میں دخل اندازی نہیں کر سکتا تھا، ان کی جذباتی ضروریات کو پورا کرنے کے قابل نہیں تھا۔ یہی وہ دور تھا جس نے مضبوط صوفیانہ سوچ کو جنم دیا۔

تصوف کی روایت اسلام کے ابتدائی سالوں سے چلی جاتی ہے۔ تصوف حتمی سچائی کی تلاش اور خدا کے ساتھ متحد ہونے کی خواہش ہے۔ یہ روحانی تجربات پر مبنی ہے جو عقل اور عقلیت کے دائرے سے باہر ہیں۔ بارہویں اور تیرہویں صدیوں پر مشتمل اس دور نے بہت سے عظیم صوفیاء کو جنم دیا جن میں عبدالقادر جیلانی ( 1078۔ 1166 ) ، خواجہ معین الدین چشتی ( 1141۔ 1230 ) ، ابن عربی ( 1165۔ 1240 ) ، شمس تبریزی ( 1185۔ 1248 ) ، جلال الدین رومی ( 1207۔1273 ) اور نظام الدین اولیاء ( 1238۔ 1328 ) شامل ہیں۔ ان روحانی شخصیات کو اولیاء کا درجہ دیا گیا اور ان کے نام پر مزارات تعمیر کیے گئے۔ تصوف پوری مسلم دنیا میں پھیل گیا۔ تصوف اور ان کے پیروکار اسلامی معاشروں کا مرکزی جزو بن گئے۔ مافوق الفطرت واقعات اور معجزات کی ایک بڑی تعداد ان اولیاء کے ساتھ وابستہ تھی۔ صوفیاء عموماً حکمرانوں کے قریب رہتے تھے اور اسلام کو پھیلانے میں کلیدی کردار ادا کرتے تھے۔

ذکر اور قرآن میں مذکور اسمائے الٰہی کی تلاوت صوفیانہ عمل میں ایک معمول بن گیا۔ یہ اعمال اللہ تعالیٰ کے قریب تر ہونے کے راستے کے طور پر سمجھے جانے لگے۔ یہ اور دیگر مشقیں، جیسا کہ جلال الدین رومی کی روایات میں رقص اور معین الدین چشتی کی روایات میں قوالی، ارتکاز کو بڑھانے اور آخر کار انسان اور خالق کے درمیان کی سرحدوں کو ختم کرنے کے ذریعے کے طور پر اپنائی گئیں۔ یہ تو احساس تھا کہ ہر کوئی اعلیٰ صوفیانہ کیفیت تک پہنچنے کے قابل نہیں ہے، لیکن اصولی طور پر یہ ممکن تھا کہ کچھ ایسے طریقوں کے ذریعے خدا تک پہنچا جا سکے۔ اس سوچ نے فلسفیوں کے ایسے خدا کے تصور کو رد کر دیا جو انسانی زندگی سے بہت دور موجود تھا اور انسانی معاملات میں دخل اندازی نہیں کر سکتا تھا۔ صوفیانہ سوچ نے اس یقین کو فروغ دیا کہ انسان اپنے اندر خدا کی موجودگی کا تجربہ کر سکتا ہے۔

صوفیانہ اور راسخ العقیدہ روایات کے عروج کے نتیجے میں اسلامی معاشروں میں مذہبی معاملات میں عقلیت کو عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھا گیا۔ روایتیں زیادہ اہم ہو گئیں۔ ایک عقلی دلیل جو اولیاء کی تعلیمات یا ان کی تحریروں کے خلاف ہو، اسے محض ناقابل قبول سمجھا جاتا تھا۔ مذہبی موضوعات پر کھلی اور دیانتدارانہ فکری بحث کی گنجائش نہیں تھی۔ یہ رویے آج تک جاری ہیں۔ عقلی سوچ کے زوال نے ایسے وقت میں فلسفیانہ اور سائنس مخالف رویہ پیدا کیا جب یورپ میں سائنسی انقلاب برپا ہونے لگا تھا۔

مافوق الفطرت جسمانی اعمال اور معجزات کی ایک بڑی تعداد صوفیاء اور اولیاء سے وابستہ تھی۔ حیرت انگیز طور پر اس طرح کے کوئی معجزات پیغمبر یا ان کے قریبی ساتھیوں سے وابستہ نہیں ہیں جنہیں اسلام میں سب سے زیادہ قابل احترام شخصیات میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہاں کچھ معروف مثالیں ہیں۔

ایک دن جلال الدین رومی ایک دریا کے کنارے ایک کتاب پڑھ رہے تھے۔ ان کے پاس کتابوں کا ایک بڑا ڈھیر پڑا تھا۔ شمس تبریزی قریب سے گزر رہے تھے، انہوں نے رومی سے پوچھا کہ تم کیا کر رہے ہو؟ رومی نے شمس کو ناخواندہ سمجھ کر جواب دیا، ”یہ ایک ایسی چیز ہے جسے آپ سمجھ نہیں سکتے۔“ یہ سن کر شمس نے کتابوں کا ڈھیر دریا میں پھینک دیا۔ رومی نے عجلت میں کتابوں کو دریا سے نکالا۔ لیکن حیرت انگیز طور پر کوئی کتاب گیلی نہیں تھی اور تمام کتابیں سوکھ چکی تھیں۔ رومی نے حیران ہو کر شمس سے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ جس پر شمس نے جواب دیا کہ مولانا یہ وہ بات ہے جو آپ نہیں سمجھ سکتے۔

ایک دن ایک روتی ہوئی بوڑھی عورت خواجہ معین الدین چشتی کے پاس آئی۔ اس نے ان کو بتایا کہ حاکم نے اس کے معصوم بیٹے کو قتل کیا ہے۔ اس نے خواجہ سے مدد مانگی۔ خواجہ معین الدین چشتی بہت متاثر ہوئے اور ہاتھ میں عصا لے کر بوڑھی عورت کے ساتھ لڑکے کی لاش کے پاس گئے۔ اس پر ہاتھ رکھا اور کہا کہ اے لڑکے اگر تو بے گناہ مارا گیا ہے تو اللہ کے فضل سے زندہ ہو جا۔ جیسے ہی انہوں نے اپنا جملہ مکمل کیا، وہ لڑکا زندہ ہو گیا۔ خواجہ معین الدین نے مزید فرمایا کہ انسان کو اللہ تعالیٰ سے اتنا قریب ہونا چاہیے کہ اس کی دعائیں بلا تاخیر قبول ہو جائیں۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو وہ فقیر نہیں ہے۔

ان اعلیٰ اور پاکیزہ روایات نے ایک ایسا ماحول پیدا کیا جہاں عقلیت کو پس پشت ڈال دیا گیا۔ جو لوگ ان معجزات پر یقین رکھتے تھے وہ سائنسی سچائی کی آفاقیت کی تعریف کیسے کر سکتے تھے؟ اس طرح کے معجزات، جو صوفیانہ روایات کا اہم حصہ تھے، فطرت کے ان قوانین کی سراسر خلاف ورزی تھے جو اس وقت سمجھے جاتے تھے اور آج بھی سمجھے جاتے ہیں۔ تاہم مذہبی تقویٰ نے ایسا ماحول پیدا کیا جس میں ایسے واقعات پر سوال اٹھانا آداب کے خلاف سمجھا جانے لگا۔ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ جن معاشروں میں تصوف کا غلبہ تھا، وہاں سائنس اور سائنسی سچائی کا احترام کم ہوتا گیا، جو بالآخر سائنس مخالف رویہ پر منتج ہوا۔

یہ صوفیانہ روایات جن کو کسی عقلی وضاحت کی ضرورت نہیں تھی، اسلامی معاشروں میں معمول بنتی گئیں۔ انہیں دلیل کی بنیاد پر چیلنج نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اسلامی معاشروں میں سب سے پہلا سبق استاد یا ولی پر اندھا اعتماد تھا۔ لکھے ہوئے لفظ کو بڑی حرمت دی جاتی تھی چاہے اس کی سمجھ ہو یا نہ ہو۔ صوفیاء کی تعلیمات یا ان کی تحریروں کے خلاف کسی بھی عقلی دلیل کو ناقابل قبول سمجھا جاتا تھا۔ مذہبی موضوعات پر کھلی اور دیانتدارانہ فکری بحث کی گنجائش نہیں تھی۔ یہ رویے، جو آج تک جاری ہیں، اسلام کے فکری سنہری دور کے لیے موت کی گھنٹی ثابت ہوئے۔

اسی دوران بنیاد پرستی نے جڑیں پکڑیں جس نے اسلام میں مذہب اور خدا کے بارے میں ایسے تصورات کو جنم دیا جو آج تک مسلم سوسائٹی میں رجعت پسندی کی علامت ہیں۔

اسلام میں بنیاد پرستی کی تحریک کے کیا محرکات تھے؟ یہ میرے اگلے مضمون کا موضوع ہو گا۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر سہیل زبیری

ڈاکٹر سہیل زبیری ٹیکساس یونیورسٹی میں کوانٹم سائنس  کے Distinguished Professor ہیں اور اس ادارے میں کوانٹم آپٹکس کے شعبہ میں Munnerlyn-Heep Chair پر فائز ہیں۔

suhail-zubairy has 93 posts and counting.See all posts by suhail-zubairy