سر آپ رہنے دیں، انہیں سمجھ نہیں آنی


میں حالیہ الیکشن میں بطور پریزائیڈنگ افسر فرائض سر انجام دے رہا تھا۔ میرے سنٹر پر میرے ہمراہ پولیس کا جوان عصمت اللہ اور سکول کی طرف سے گارڈ موجود تھا۔ میں نے دیہی پس منظر کو بھانپتے ہوئے عوام الناس کی قطار انتخابی سنٹر سے قریب پچاس قدم دور لگوائی تھی۔ وہاں سے ایک ایک کر کے لوگ آتے جاتے اور ووٹ کاسٹ کرتے جاتے ؛ مگر مزے کی بات یہ ہے کہ صبح آٹھ بجے لگنے والی لائن بڑھتے بڑھتے شام پانچ بجے تک الیکشن عملے کے سر پر پہنچ چکی تھی۔ عوام الناس پر میری التجا کا جب کوئی بھی اثر نہ ہوا، تو عصمت اللہ کہنے لگا : ”سر تسی رہن دیو، ایناں نوں سمجھ نہیں آنی۔“ (سر آپ رہنے دیں، انہیں سمجھ نہیں آنی) خیر میں نے وہ وقت گزار لیا۔

اب ایک دوسرا منظر دیکھتے ہیں ؛ رات کے تین بجے ہیں۔ اسسٹنٹ آر او عظیم ارشد جو کہ میرا سابقہ ہم کار بھی ہے ؛ پریزائیڈنگ آفیسرز سے فارم 46 وصول کر رہا ہے۔ اس نے ایک دو بار سب سے لائن بنانے کو کہا اور لیکن کوئی بھی لائن نہیں بنا سکا بلکہ ایک ہی وقت میں چار پانچ لوگ جو کھڑے تھے ان کے پیچھے پانچ چھے لائنیں لگ گئیں اور ہر کوئی اپنی قطار کو درست اور اپنی باری جلدی نہ آنے کا گلہ کر رہا تھا۔ ایک گھنٹے کی دھکم پیل سے کمرے میں اتنا رش ہو گیا کہ آخر عظیم ارشد کو ایک نیا کمرہ لینا پڑا اور پریزائیڈنگ آفیسرز کی لائن کمرے کے باہر لگوائی تا کہ وہ کسی ترتیب سے فارم وصول کر سکے۔ عظیم ارشد کا ایک جملہ میرے ذہن میں گونج رہا ہے کہ آپ لوگ سارا دن عوام سے لائن سیدھی کرواتے رہے ہو لیکن جب آپ کی لائن بنانے کی باری آئی ہے تو آپ لوگ خود بے نظمی کا مظاہرہ کر رہے ہو۔

میں خاموشی سے کھڑا یہ سب عمل دیکھ رہا تھا۔ عظیم ارشد نے کہا بھی کہ خیریت ہے بڑے خاموش ہو۔ میں نے کہا کچھ نہیں ؛ بس سب دیکھ رہا ہوں۔ میں دیکھتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ یہ چند لوگ جو کمالیہ جیسے چھوٹے شہر کے چند سرکاری عہدوں پر فائز ہیں ؛ پاکستانی عوام کے عمومی رویے کا نمونہ ہیں۔ یہ دھکم پیل کا عمل ہمارا قومی عمل بھی کہا جا سکتا ہے اور ہمارے عمومی عمل کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ اس سے کیا ظاہر ہوتا ہے؟

اس سے دو پہلو ظاہر ہوتے ہیں ؛ ایک یہ کہ عظیم ارشد جس کو زیادہ تر لوگ نام سے جانتے ہیں، اس سے اپنے تعلقات استعمال کرتے ہوئے اپنی باری دوسروں سے پہلے لا سکتے ہیں۔ دوسرا پہلو یہ کہ عظیم ارشد جو کہ نظام کا نمائندہ ہے، اس نظام کی اہمیت نہیں ہے۔ وہ نہ صرف خود نظام کو کچھ نہیں سمجھتے بلکہ وہ عظیم ارشد سے بھی توقع کرتے ہیں کہ وہ نظام کو بہتر طور چلانے کے برعکس ان کے ذاتی فائدوں کو فوقیت دے۔ دوسرا پہلو جو نسبتاً زیادہ مجرد اور عام نظروں سے پوشیدہ ہے، اس پر بات کرتے ہیں۔ یہ قطار جس کو ہم توڑ دیتے ہیں، اداروں، اصولوں اور ضابطوں کو توڑ دینے کا ادنیٰ سا ثبوت ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جس میں معاشرے کے کلیدی اداروں کی کوئی وقعت نہ ہو کیا اس معاشرے کی حالت ہمارے معاشرے سے کچھ مختلف ہو گی؟

شاید نہیں!

ایک فرد جو قطار کو بائی پاس کر کے رزلٹ جلدی جمع کروا کر آر او دفتر کے باہر چائے کے کھوکھے پر بیٹھا نظم و ضبط کی عدم موجودگی کا گلہ کر رہا ہے وہ دراصل اپنے ہی بے اصولی پن کا اظہار کر رہا ہے اس لیے کہ قانون کی پاسداری ایک فرد سے شروع ہوتی ہے اور پھر پوری قوم کو لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

اب اس مسئلے کا حل کیا ہے۔ ہم قطار بنانا شروع کر دیں؟ ہم قانون کی پاسداری شروع کر دیں؟ پھر بلیم گیم شروع ہو جائے گی کہ فلاں تو ایسے نہیں کر رہا میں کیوں کروں۔ سیاست دان لوٹ کر کھا گئے، ہم نے لائن توڑ دی تو کیا ہوا۔ اس حوالے سے صرف اتنا عرض کرنا کافی ہو گا کہ ”معاشرہ کفر کی بنیاد پر تو چل سکتا ہے لیکن ظلم پر نہیں“ ۔

جب ہم اصول و ضوابط توڑتے ہیں تو ہم معاشرے اور معاشرے کی حرکیات پر ظلم کرتے ہیں۔ معاشرے کی عمیق گہرائی میں موجود نامیاتی مادے جو کسی معاشرے کی روح ہوتے ہیں، بگڑ جاتے ہیں۔ یہ بگاڑ پھر رنگ اور چہرے بدل بدل کر ہم پر حملہ آور ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ اس خاص معاشرے کی یا تو ہیئت بدل جاتی ہے یا پھر وہ معاشرہ ختم ہوجاتا ہے۔ فیصلہ ہم نے خود کرنا ہے۔ عصمت اللہ نے تو کہا تھا : ”سر تسی رہن دیو، ایناں نوں سمجھ نہیں آنی۔“

Facebook Comments HS