اسپیکر چرانے سے مینڈیٹ چرانے تک کا سفر


ابھی کچھ دنوں پہلے کی بات ہے جب بلوچ یکجہتی کمیٹی کے شرکاء تربت سے لانگ مارچ کرتے ہوئے اسلام آباد پہنچے تھے۔ اپنے پیاروں (لاپتہ افراد ) کی بازیابی، ماورائے عدالت ہلاکتوں کی روک تھام اور ڈیٹھ اسکواڈ کے خاتمے کے مطالبات لیے وہ سخت سردی کے موسم میں دھرنا دے کر بیٹھ گئے تھے۔

اس دوران انہیں مبینہ طور پر حیلے بہانوں سے ہراساں کیا جاتا رہا۔ دھرنے کے دوران ویسے تو کئی واقعات رونما ہوئے مگر ساؤنڈ سسٹم (اسپیکر) چرانے والا واقعہ سب سے دلچسپ اور نرالا تھا۔

ہوا یوں کہ کمیٹی کی جانب سے ایک روز اعلان ہوا کہ اگلے روز ایک سیمینار کا انعقاد ہو گا جس میں مختلف سماجی و سیاسی جماعتوں کے رہنماء اور سول سوسائٹی کے افراد شرکت کریں گے۔ کمیٹی کے مطابق اسی رات تین بجے کے قریب ویگو ڈالے میں سوار چند نامعلوم نقاب پوش مسلح افراد نے دھرنا کیمپ پر مبینہ طور پر حملہ کر دیا۔ شرکاء کی جانب سے شور مچانے پر نا معلوم افراد وہاں موجود ساؤنڈ سسٹم اٹھا کر لے گئے۔

اس واقعے کے خلاف قومی میڈیا کے بائیکاٹ کی وجہ سے صرف سوشل میڈیا پر ہی واویلا مچ سکا۔ دوسری جانب چند ایک رہنماؤں کو چھوڑ کر کسی بھی سیاسی جماعت، بشمول بلوچستان کی قوم اور وفاق پرست جماعتوں کے، نے کمیٹی کے شرکاء کے ساتھ روا جانے والے سلوک سمیت اسپیکر چرانے کے واقعے کے خلاف احتجاج تو کجا کوئی مذمتی بیان تک دینا گوارا نہیں کیا۔

پھر یوں ہوا کہ آٹھ فروری کو ملک بھر میں عام انتخابات کا انعقاد ہوا۔ چند ایک جماعتوں کو چھوڑ کر زیادہ تر سیاسی جماعتیں انتخابات میں دھاندلی اور مینڈیٹ کو چرانے کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ احتجاج کرنے والوں میں بلوچستان کی تقریباً تمام قوم اور وفاق پرست جماعتیں بھی شامل ہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو سیاسی جماعتیں اور ان کے رہنماء نامعلوم افراد کی جانب سے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے شرکاء، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے، پر روا رکھے جانے والے ناروا سلوک اور اسپیکر چرانے کے خلاف چپ سادھ کر بیٹھ گئے تھے اب وہ کس منہ سے اپنا مینڈیٹ چرانے کا الزام عائد کر کے نامعلوم افراد کے خلاف یکجا ہو کر احتجاج کر کے بلوچستان کے عوام کو موبلائز کرنے کی بات کر رہے ہیں۔

کیا ہی اچھا ہوتا کہ یہ تمام سیاسی جماعتیں اور ان رہنماء اسلام آباد میں یکجہتی کمیٹی کے نہتے خواتین اور بچوں کے خلاف روا رکھے جانے والے روئیے اور اسپیکر چوری کرنے کے الزام میں نامعلوم افراد کے خلاف اکٹھے ہو کر احتجاج کرتے تو آج ان کا میڈیٹ چرانے کی کسی کو ہمت نہ ہوتی۔

 

 

Facebook Comments HS