پاکستانیوں کی فوٹو جینک میموری کا لینز خراب ہے

فوٹو گرافک میموری ماضی کے گزرے مناظر کو مہارت کے ساتھ یاد رکھنے کی صلاحیت کا نام ہے۔ یادداشت کی چار اقسام ہوتی ہیں، حسی یادداشت، قلیل مدتی یادداشت، ورکنگ میموری، اور طویل مدتی یادداشت۔ ان سب سے ہٹ کر ایک اور یادداشت بھی دنیا میں لوگوں کے پاس ہوتی ہے جسے فوٹو گرافک یا فوٹو جینک میموری کہا جاتا ہے۔ ایسی یادداشت رکھنا والا شخص تمام جزئیات کے ساتھ دیکھے ہوئے کسی بھی شے کی مکمل معلومات یاد رکھ سکتا ہے اور بوقت ضرورت وہ سب قرینے سے بیان بھی کر سکتا ہے اور اسی یادداشت کی بنیاد پر وہ جو تصویر بناتا ہے وہ عام لوگوں کی یادداشت سے ہزار گنا زیادہ مکمل اور معنی دار ہوتی ہے۔
پاکستان میں بسنے والے لوگوں کی یادداشت زیادہ اچھی نہیں ہے۔ اس لیے کہ چند برس بعد یہاں کے سارے لوگ جس شخص کو پہلے اپنا نجات دہندہ سمجھ رہے ہوتے ہیں اسے ہی ساری خرابیوں کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ یہاں جس کی ہوا چل رہی ہوتی ہے اس میں سب کو لاکھوں خوبیاں نظر آنا شروع ہوجاتی ہیں اور جو ڈوب رہا ہوتا ہے اس کو سب مل کر دفن کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس ملک میں جو پیر اپنے پیرو کاروں کو لوٹ کر زندگی گزارتا ہے اس کے ماننے والے کا یہ یقین ہے کہ وہ جنت کا بھی حقدار ہے اور تمام برائیوں سے پاک ہے۔
پاکستان بھر میں جتنے بھی پیر ہیں ان کی موجودہ نسل میں سے بیشتر کو دین اور مذہب کے بارے میں کچھ پتہ نہیں ہے اور نہ ہی ان کی وضع قطع اور رہن سہن ایسا ہے کہ آپ ان کو مذہبی کہہ سکیں لیکن ان کے اندھے پیروکاروں میں اضافہ ہی ہو رہا ہے۔ جو مذہبی سیاست میں مصروف ہیں ان کے اعمال اور زندگی ان کے افکار کی صریحاً نفی کر رہی ہوتی ہے۔ جو قوم پرست ہیں ان کے سارے کام قوم پرستی کے فلسفے کے خلاف ہیں۔ جو جمہوریت پسند ہیں ان کے ہاں کہیں بھی جمہوری اقدار نظر نہیں آتے۔
مگر کمال دیکھیں کہ ان سب کو ماننے والے ان کی جو تصویر اپنے ذہن میں بنا رہے ہوتے ہیں وہ حقیقی تصویر سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔ سیاست اس ملک میں ایک فائدہ مند کاروبار ہے۔ جس میں شریک ہو کر لوگ چند ہی برسوں میں بے تحاشا دولت اور اتنی ہی ذلت کماتے ہیں۔ جو ذلت یہ کماتے ہیں وہ ان کے لیے سیاست میں سرمایہ ہوتا ہے جس پر خود بھی فخر کرتے ہیں اور ان کے ماننے والے بھی اس کو اپنے ایمان کا حصہ بناتے ہیں۔ پاکستان بننے کے بعد اس کے حکمرانوں کی جو تصویر آج کے لوگوں کے ذہن میں ہے وہ اس سے یکسر مختلف تھے۔
ان میں سے بھی بہت سے لوگ بھی اتنی ہی سازشی تھے جتنے آج کے ہیں۔ اس دور میں بھی مفاد پرستوں کا ایک ٹولہ ان لوگوں کے ساتھ رہتا تھا جیسے آج رہتا ہے۔ ان لوگوں کے اخلاقی معیار بھی اتنے ہی خراب تھے جتنے کے آج کے سیاست میں شامل لوگوں کے ہیں۔ آج اگر کوئی غلام محمد، سکندر مرزا، ایوب خان، بھٹو، ضیا الحق وغیرہ کے دور کے اخبارات اٹھا کر دیکھے تو اسے حیرت ہوگی کہ یہ لوگ کیا تھے۔ ان کا طرز حکمرانی کیا تھی، صرف ایک انتخابات جو ایوب خان اور فاطمہ جناح کے بیچ ہوئے ذرا اس کی تفصیلات نکال کر دیکھ لیں آپ کو پورے پاکستان کی سیاسی تاریخ کا پتہ چل جائے گا۔
بھٹو اور مجیب الرحمن کا الیکشن دیکھ لیں۔ نواز شریف اور بے نظیر کے الیکشن دیکھ لیں۔ اب عمران خان اور باقی سب کے الیکشن دیکھیں۔ بدلا کچھ بھی نہیں ہے۔ ہر دور کا ووٹر اپنا ووٹ کاسٹ کرتے رہے ہیں۔ لیکن نتیجہ ان ووٹوں کی بنیاد پر کبھی بھی نہیں آیا۔ پہلے یہ ہوتا تھا کہ چند ماہ رونے پیٹنے کے بعد طالع آزما اس امید پر چند برس انتظار کرتے تھے کہ اگلے دفعہ وہ منظور نظر ہوں گے تو اقتدار میں آئیں گے۔ اس لیے چند برس خاموشی سے نکل جاتے تھے۔
لیکن وقت کے ساتھ ساتھ انتظار اور اپنی باری کا انتظار مشکل ہوتا گیا۔ اور اقتدار کی ایوانوں تک رسائی کی خواہش اتنی بڑھ گئی کہ اقتدار میں لانے والے بھی تقسیم ہو گئے۔ یوں مقابلہ اب سیاسی میدانوں اور عوام میں نہیں ہوتا۔ اب ہر ایک سیاسی طالع آزما کی خواہش ہے کہ اس کو شرف قبولیت ملے چاہے جس بھی قیمت پر ملے۔ اس کام میں ہر طالع آزما نے اپنے اپنے سپانسر بھی ڈھونڈ لیے ہیں۔ اس لیے موجودہ الیکشنوں میں کوئی بھی جماعت اکثریت حاصل نہیں کر پا رہی۔
کسی کو اقتدار میں رکھنے اور کسی کو اقتدار سے باہر رکھنے کے لیے سب ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ یہ سب کچھ سرعام ہو رہا ہے۔ ایوان اقتدار کے راہداریوں تک رسائی کے لیے سب کچھ ہو رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے کوئی ضابطہ اخلاق نہیں ہے۔ یہاں خریدنے والا بھی محترم ہے اور بکنے والا بھی معزز۔ اگر یہ تجارت صرف ممبروں اور حکمرانوں کے بیچ رہتی تو شاید پھر بھی قابل قبول ہوتا مگر اس کام میں صحافی، جج، بیوروکریٹ، سرمایہ دار اور مقتدرہ سب شامل ہیں اور یہ سب کسی ایک سائیڈ پر نہیں ہیں سب کی اپنی اپنی سائیڈ ہے اور اس رسہ کشی میں ملک کی معیشت کا نقصان ہو رہا ہے۔ جمہوریت کا نقصان ہو رہا ہے اور عوام کا نقصان ہو رہا ہے۔ کیا چند برس پہلے نواز شریف اور اس کی جماعت، بھٹو کے ماننے والے سینکڑوں کرپشن کے کیسوں کا سامنا نہیں کر رہے تھے۔ ایسا کیا ہوا کہ یہ سارے پاک ہو گئے اور آج پھر اقتدار لینے کے لیے پر تول رہے ہیں۔ عمران خان اور ان کے ساتھ حکومت چلانے والے لوگ اب کیسوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ جس طرح آج زرداری اور شریف فیملی کے کرپشن کے ہوش ربا داستانیں لوگ بھول گئے ہیں شاید ایک دو برس میں لوگ عمران خان اور اس کے لوگوں کی کرپشن کی داستانیں بھی بھول جائیں گے۔
ارب پتی ہر دور کے سیاستدان ہوئے ہیں۔ شریف خاندان، زرداری خاندان، فضل الرحمن خاندان، عمران خان خاندان، اور ان تمام خاندانوں کے ساتھ سیاست میں شریک لوگوں کے خاندان سب کے سب ارب پتی ہیں۔ انتظام چلانے والے بڑے سرکاری افسران اور حفاظت پر مامور سرخیلان سب ارب پتی ہیں یہاں تک کہ سہولت کار اور ان کے سرمایہ کار بھی ارب پتی ہیں۔ ان کے پاکستان اور پاکستان سے باہر جائیدادیں اور کاروبار اور سرمایہ کاری دیکھ لیں کوئی بھی خسارے میں نہیں رہا۔
مگر ان کے ادوار میں پاکستان کا عام شہری صحت کی بنیادی سہولتوں سے محروم ہوتا چلا گیا، تعلیم ان کے لیے خواب ہے، زندگی کی سہولتیں ان کی دسترس سے باہر ہیں۔ پاکستان ساٹھ کھرب سے زیادہ کا مقروض ہو گیا ہے۔ سو روپے کی چیز یہاں ہزار کی مل رہی ہے۔ مزدور کی تنخواہ میں گزارا ناممکن ہو گیا ہے۔ آج کسی بھی سرکاری ہسپتال میں چلے جائیں وہاں جان بچانے والی ادویات دستیاب نہیں ہیں۔ سڑکوں پر صفائی کرنے والوں کو مہینوں سے تنخواہ نہیں دی جاتی۔
شام کو ٹی وی دیکھیں تو وہ سب لوگ جو کل تک نواز شریف اور زرداری کو اس ملک کے لیے ناسور قرار دے رہے تھے وہ اب ان کی فضیلتیں بیان کر رہے ہیں۔ کل تک عمران خان کو نجات دہندہ قرار دینے والے ان کو ناسور ثابت کرنے میں مصروف ہیں۔ جو ایک دوسرے کو یہودی اور ڈیزل کہہ کر مخاطب ہو رہے تھے وہ ایک دوسرے کے گھروں میں دعوتیں اڑ رہے ہیں۔ اور ان کے اندھے پیروکار ایک دوسرے کے شان میں قصیدے پڑھ رہے ہیں۔ وہ قوم پرست جو گزشتہ چند برسوں سے فوج کے ساتھ اندرون خانہ پینگیں بڑ ہا رہے تھے وہ اب بغاوت پر آمادہ ہیں۔
وہ ایم کیو ایم والے جو کل تک انڈیا کے ایجنٹ تھے اور کراچی کے تباہی کے واحد ذمہ دار تھے۔ وہ آج پھر سے کراچی اور حیدر آباد کے تن تنہا مالک ہیں۔ مگر اس سب سے کچھ فرق نہیں پڑتا اس لیے کہ اس قوم کی یادداشت بہت کمزور ہے۔ یہ صرف جو دیکھتی ہے اور سنتی ہے اس کو ہی حقیقت سمجھتی ہے۔ اس کا اجتماعی لاشعور موجود ہی نہیں ہے۔ اگر اس قوم کے کسی بھی باضمیر فرد کی فوٹو جینک میموری ہوتی تو وہ باآسانی حقیقی تصویر بنا پاتا اور اصل حقیقت جزئیات سمیت سب کے سامنے رکھتا۔ مگر پاکستان کی عوام اور اس کے سو کالڈ انٹلیکچوئل قوم کو صرف آج کا عکس ہی دکھانے پر مامور ہیں اور یہ عکس بھی وہ ہے جو کسی نے ان کو دکھانے کا کہا ہے۔ اور جو تصویر یہ دیکھا رہے ہیں اس کو دیکھ کر آنے والا کل بہت ہی بھیانک نظر آ رہا ہے۔ شاید اتنا بھیانک کہ آج ہم اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔

