مہنگائی اور حکمرانوں سے عوام مایوس
ملک میں مہنگائی روز بروز بڑھتی جا رہی ہے مگر اس پر کوئی بھی ایکشن لینے والا نہیں ہے جس کی وجہ سے عام آدمی شدید پریشان دکھائی دے رہا ہے تو مڈل کلاس بھی ختم ہو گئی ہے۔ حکمران ہیں کہ ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے میں پورے ہیں انتخابات کا رونا رویا جا رہا تھا اللہ اللہ کر کے انتخابات بھی ہو گئے مگر اب حکومت کون بنائے گا اور کون کون حکومت میں شامل ہو گا اس پر جھگڑا چل رہا ہے مگر اس پوری صورتحال میں عوام کا کوئی بھی نہیں سوچ رہا ہے۔
مہنگائی نے عام آدمی سے جینے کا حق بھی چھین لیا ہے مرغی کی بات کی جائے تو 670 روپے فی کلو فروخت ہو رہی ہے دال چاول، آٹا سب چیزیں اتنی مہنگی ہیں کہ ایک وقت کی روٹی کھانا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ انتخابات سے پہلے تمام حکمران یہ ہی دعوے کر رہے تھے کہ مہنگائی کو ختم کیا جائے گا اور بجلی اتنی سستی ہوگی گیس اتنی سستی ہوگی اتنے گھر بنائے جائیں گے اور پتا نہیں کیا کیا دعوے ہو رہے تھے مگر گزشتہ گیارہ دن سے مسلسل ملک غیریقینی کی صورتحال سے دوچار ہے کسی کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا ہے کہ کیا ہونے جا رہا ہے اور کیا نہیں ہونے جا رہا۔
اس عام انتخابات میں جو جیتا ہے وہ بھی پریشان ہے اور جو ہارا ہے وہ بھی پریشان ہے مگر اس پوری صورتحال میں اگر کوئی پریشان ہے اور تکلیف میں ہے تو وہ ہے اس ملک کی عوام جس کو اس بات سے کوئی سروکار نہیں ہے کہ حکومت میں کون آئے گا یا کون نہیں آئے گا عوام کو صرف رلیف چاہیے وہ رلیف آٹے کی صورت میں ہو چینی کی صورت میں ہو گیس کی صورت میں ہو بجلی کی صورت میں ہو اشیاء خورد و نوش کی چیزوں میں ہوں باقی ان کو کسی بھی چیز سے کوئی سروکار نہیں ہے۔
پبلک اب حکمرانوں کے وعدوں سے تنگ آ گئی ہے اس تنگ ہونے کا ثبوت عوام نے حالیہ انتخابات میں دے دیا اس بار سب نے دیکھا کہ عوام اپنے گھروں تک رہا۔ پاکستان کی پبلک کا کیا قصور ہے کہ وہ اس ملک میں پیدا ہوئے 75 سالوں میں اس ملک میں عوام کی حالت نہیں بدلی ہے اگر کسی کی حالت بدلی ہے تو وہ ہے حکمران طبقہ ان کی عیاشیاں ختم ہونے کو آتی ہی نہیں ہے۔ مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے اب صورتحال یہ ہے کہ لوگ چیزوں کو حسرت سے دیکھنے لگے ہیں کہ کیا وہ یہ چیز بھی خرید سکے گا یا اس کی زندگی میں ایسی چیزیں خریدنا ایک خواب ہی رہے گا۔
آج کل میں دیکھ رہا ہوں کہ سفید پوش افراد جو نا چاہتے ہوئے بھی مانگ رہے ہوتے ہیں اور ان کے چہرے پر ایسے تاثرات ہوتے ہیں اور ایسی کیفیت ہوتی ہے لگ رہا ہوتا ہے کہ وہ شخص اس معاشرے اور اس معاشی حالات کی وجہ سے انتہائی تنگ آ چکا ہوتا ہے مگر مجبوری صرف اپنے بچوں کی ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ مانگنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ عام آدمی کی بیزاری کی حد ہو چکی ہے وہ اس معاشرے اس سسٹم سے نالاں دکھائی دیتا ہے جس طرح سے عام آدمی کے ساتھ سلوک ہو رہا ہے وہ اتنا بھیانک ہو گیا ہے کہ اب عام آدمی سوچنے پر مجبور ہو گیا ہے کہ اس ملک میں رہ کر کیا کرے گا بس اس کا صرف بس نہیں چلتا ورنہ وہ یہاں سے اس ملک سے نکل جائے اور کہیں ایسے ملک چلا جائے جہاں پر اس کے حقوق پر ڈاکا نا ڈالا جائے جہاں اس کی زندگی اچھی گزر سکے جہاں پر اس کے بچوں کا تحفظ ہو سکے جہاں پر اس کے بچوں کی تعلیم بہتر بن سکے جہاں پر اس کے کھانے پینے کی اچھی سہولیات آسانی اور سستی میسر ہو سکیں مگر حکمرانوں کی 75 سالا غلط پالیسیوں اور صرف اپنا پیٹ بھرو پالیسیوں کی وجہ سے عام آدمی کے جیب میں اتنے پیسے بھی نہیں رہے ہیں کہ اگر اس کو بخار ہو جائے تو وہ اپنے لئے اچھے ڈاکٹر سے دوائی لے سکے۔
عام آدمی کی زندگی انتہائی مشکل ہو گئی ہے یوں کہیں کہ جینا محال ہو گیا ہے مگر ان حکمرانوں کو اس عوام کا کوئی خیال نہیں ہے کہ ان کی رعایا کیسے زندگی بسر کر رہی ہے کبھی ان کو اس بات کا کوئی احساس ہی نہیں ہوا ہے اور مجھے لگ رہا ہے کہ آئندہ سالوں میں بھی یہ احساس نہیں ہو گا۔ ان دنوں میں جتنا ایک سفید پوش شخص پریشان دکھائی دے رہا ہے مین نے اپنی زندگی میں اتنا پریشان کبھی نہیں دیکھا مگر اگر احساس نہیں ہو رہا ہے تو وہ ہیں ہمارے حکمران جن کا نا پہلے کبھی پیٹ بھرا تھا اور نا ہی اب پیٹ بھرنے کا کوئی امکان نظر آ رہا ہے جس کی وجہ سے عوام کی حالت دن بہ دن مزید خراب ہوتی جا رہی ہے اور مزید خراب ہوگی کیونکہ مہنگائی ہے کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی اخراجات ہیں کہ مزید بڑھتے جا رہے ہیں تو عام آدمی کہاں جائے کس کو شکوہ کرے کہ اب بس مزید مہنگائی کا بوجھ عام آدمی سہ نہیں پا رہا۔
ہر شخص چاہتا ہے کہ ان کے بچے اچھے اسکولوں میں تعلیم حاصل کریں لیکن ہمارے ملک کا المیہ یہ ہے کہ اس ملک میں عام آدمی کے بچوں کے لئے اچھی تعلیم بھی خواب بن کر رہ گئی ہے سرکاری اسکولوں میں تعلیم نام کی کوئی چیز نہیں ہے پرائیویٹ اسکولوں کی فیسز اتنی زیادہ ہیں کہ عام آدمی وہ افورڈ کر نہیں سکتا تو کہاں جائے۔ کہتے ہیں کہ مایوسی حرام ہے اور مایوس نہیں ہونا چاہیے مگر حکمرانوں کی اپنا نوازو پالیسیوں کی وجہ سے عام آدمی مایوس ہو چکا ہے میرا خیال ہے کہ اب حکمرانوں سے کوئی امید نہیں رہی ہے کہ وہ اس ملک کے لئے کچھ اچھا کریں گے اور مہنگائی پر کوئی کنٹرول ہو سکے گا یہ صرف دیوانے کا خواب ہو سکتا ہے۔
اب جب نئی حکومت بنے گی تو پھر سے وہ ہی راگ الاپا جائے گا کہ ملک میں حالات ایسے نہیں ہیں کہ سستائی ہو سکے ہمیں مزید مشکل فیصلے لینے ہوں گے وہ فیصلے صرف عوام کے لئے ہوتے ہیں اور ایسے فیصلے 75 سالوں سے لئے جا رہے ہیں مگر عوام کی قسمت ہے کہ نا پہلے بدلی ہے اور نا اب بدلنے کا کوئی امکان نظر آتا ہے بس اگر کچھ بدلتا ہے تو وہ ان حکمرانوں کے اپنے معاشی حالات بدلتے ہیں باقی ان کے اپنے لئے مشکل فیصلے نہیں ہوتے وہ کیوں نہیں اپنے اخراجات کم کرتے وہ کیوں نہیں اپنی فسیلٹیز کم کرتے باقی عوام پر مہنگائی کا بوجھ ڈالا جاتا ہے آخر اس ملک کی پبلک نے کیا گناہ کیا ہے جس کی سزا ختم ہونے کو ہی نہیں ہو رہی۔

