عمران خان کا ’فتح مکہ ماڈل‘ اور ملک کو لاحق اندیشے
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) خود چل کر ان کی پارٹی کے پاس آئی تھی، اب ہم اپنی شرائط پر اعتماد کا ووٹ دیں گے۔ البتہ اس کے ساتھ ہی وہ یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ ملک اس وقت کسی بے یقینی اور حکومت سازی میں تاخیر کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔ بلاول بھٹو زرداری اسی پارٹی پر گولہ باری میں مصروف ہیں جس سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ مرکز میں حکومت سنبھال کر ملکی مسائل کا سارا بوجھ اپنے کاندھوں پر اٹھائے۔
دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف پوری قوت سے دھاندلی ڈرامہ رچانے میں مصروف ہے اور اس کے لیڈر دعویٰ کر رہے ہیں کہ اگر پارٹی کے امیدوار عمر ایوب کے علاوہ کوئی وزیر اعظم منتخب ہوتا ہے تو اسے نہیں مانا نہیں جائے گا کیوں کہ وہ دھاندلی شدہ ووٹوں سے منتخب ہو گا۔ لیکن اس کے ساتھ وہ مرکز میں اقتدار کی ذمہ داری اٹھانے سے بھی گریزاں ہے۔ آج ہی بلاول بھٹو زرداری نے اخبار نویسوں کے سامنے اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر تحریک انصاف دوسروں سے تعاون پر ہی آمادہ نہیں ہے تو پھر وہ کیسے حکومت بنا سکتی ہے۔ بلاول کی باتوں اور ماضی میں ان کے بیانات کی روشنی میں دیکھا جاسکتا ہے کہ وہ مسلم لیگ (ن) کی بجائے تحریک انصاف کے ساتھ تعاون پر مائل تھے۔ لیکن موجودہ سیاسی مجبوری میں پیپلز پارٹی کا وفد مسلم لیگ (ن) کی قیادت سے بات چیت میں مصروف ہے۔
ویسے تحریک انصاف کی خواہش اور بلاول بھٹو زرداری کے مسئلہ کا آسان حل تو یہ ہے کہ جب تحریک انصاف کی طرف سے قومی اسمبلی میں عمر ایوب کا نام قائد ایوان کے طور پر پیش کیا جائے تو وہ انہیں اعتماد کا ووٹ دے دیں۔ یوں ان کی ’پسندیدہ‘ پارٹی کا امیدوار وزیر اعظم بن جائے گا اور تحریک انصاف کی دوبارہ اقتدار سنبھالنے کی خواہش بھی پوری ہو جائے گی۔ پیپلز پارٹی ویسے بھی اس وقت مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے ساتھ اسی سوال پر سینگ پھنسائے ہوئے ہے کہ وہ شہباز شریف کو اعتماد کا ووٹ تو دے گی لیکن حکومت میں شامل نہیں ہوگی۔ یعنی پیپلز پارٹی مسلم لیگ کو اقتدار دلوانے کے بعد آئندہ پانچ سال تک اپوزیشن کا کردار ادا کرنا چاہتی ہے۔ البتہ بلاول بھٹو زرداری جن شرائط پر مسلم لیگ کے امیدوار کو اعتماد کا ووٹ دینے کی بات کر رہے ہیں، ان میں سر فہرست آصف علی زرداری کو ایک بار پھر صدر منتخب کروانا، قومی اسمبلی کے اسپیکر اور سینیٹ کے چیئرمین کی پوزیشن حاصل کرنا اور چاروں صوبوں کے گورنروں کے عہدے لینا شامل ہے۔ اس کے علاوہ وہ بلوچستان میں حکومت بنانے کے لیے مسلم لیگ (ن) کی سیاسی اعانت کا مطالبہ بھی موجود ہے۔ یعنی قومی بحران کا نام لے کر حکومت سازی میں تعاون کے لیے جو ’شرائط‘ پیش کی جا رہی ہیں، ان میں میٹھا ہپ ہپ، کڑوا تھو تھو، والا معاملہ ہے۔
نئی وفاقی حکومت کو سنگین معاشی، انتظامی اور سیاسی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔ چند روز پہلے چوہدری شجاعت حسین کے گھر پر وزیر اعظم بننے کا اعلان کرتے ہوئے شہباز شریف کو اس وقت ایک بار پھر ملک کا سب سے بڑا عہدہ اپنی دسترس میں دکھائی دے رہا تھا۔ نواز شریف نے اپنی بجائے ان کا نام وزیر اعظم کے طور پر تجویز کیا تھا۔ اس پریس کانفرنس کے موقع پر آصف زرداری نے بھی بڑھ چڑھ کر قومی ذمہ داری پوری کرنے اور ملکی مسائل سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون پر زور دیا تھا۔ جوش بیان میں وہ یہاں تک کہہ گئے کہ وہ تو تحریک انصاف کو بھی اس مفاہمت میں شامل کرنا چاہیں گے حالانکہ تحریک انصاف مفاہمت کے نام سے ہی بدکتی ہے۔ اس موقف کی کوئی سیاسی وجوہات یا ذاتی رنجش نہیں ہے بلکہ تحریک انصاف بھی جانتی ہے کہ وہ اس وقت مقبولیت کے جس گھوڑے پر سوار ہے، اس کی بنیاد دوسری دونوں بڑی پارٹیوں کے خلاف نفرت اور سرکاری اداروں کے خلاف جھوٹے سچے پروپیگنڈے پر استوار ہے۔ اگر قومی ذمہ داری پوری کرنے کے لیے تحریک انصاف باقی دونوں پارٹیوں یا کسی ایک پارٹی کے ساتھ راہ و رسم بڑھاتی ہے تو عمران خان کا یہ بیانیہ دھڑام سے زمین بوس ہو جائے گا کہ وہ ’چوروں لٹیروں‘ کے خلاف جہاد اور ریاستی اداروں سے ’حقیقی آزادی‘ لینے کے لیے ڈٹے ہوئے ہیں اور مسلسل حراست بھی انہیں ’کمزور‘ نہیں کر سکی۔
حیرت ہوتی ہے کہ اس حد تک سیاسی ہوس گیری میں مبتلا سیاسی لیڈر گروہی مفادات کو قومی اصلاح اور عوام کی بہتری کا نام دیتے ہیں۔ اس وقت ملک میں سیاسی دنگل کا جو سماں بنایا گیا ہے، اس میں ملکی معیشت پر دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے، عالمی مالیاتی ادارے اور دوست ممالک حیرت سے صورت حال کا جائزہ لے رہے ہیں اور امید لگائے بیٹھے ہیں کہ ملکی سیاست دان کوئی قابل اعتبار اور مستحکم حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہوں۔ سیاسی اختلاف کوئی بری بات نہیں ہے اور نہ ہی اپنے سیاسی ایجنڈے کا اعلان کرنا کوئی غلط حرکت ہے لیکن اگر سیاست کے نام پر قومی مفادات نظر انداز کیے جائیں گے تو ملک میں آئینی انتظام کمزور ہو گا اور جس جمہوری یا انتخابی عمل کے نتیجے میں یہ سب سیاسی پارٹیاں سرخرو ہو کر بلند بانگ دعوے کرتی ہیں، اسی کو داؤ پر لگایا جائے گا۔ اس وقت پاکستانی سیاسی پارٹیوں کی حالت بالکل اس نیم پاگل شخص جیسی ہے جو اسی شاخ کو کاٹ رہا تھا جس پر وہ خود ہی بیٹھا ہوا تھا۔
اس وقت بڑی تمکنت سے کہا جاتا ہے کہ سارے مسائل اسٹبلشمنٹ کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں۔ یا فوج نے سیاست میں حصہ لے کر جمہوری عمل کو کمزور کیا ہے۔ لیکن اس وقت ملکی سیاست پر جو منظر دکھائی دیتا ہے، اس میں فوج کا کہیں دور دور تک نام و نشان نہیں ملتا۔ اگر دھاندلی، پری پول رگنگ اور تحریک انصاف کو شدید دباؤ میں لانے کے سب الزامات مان بھی لیے جائیں، پھر بھی قومی اسمبلی میں تین بڑی پارٹیوں کو کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ اگر یہ تینوں پارٹیاں سیاست میں فوج کی مداخلت کا قصہ ہمیشہ کے لیے تمام کرنا چاہتی ہیں تو یہی موقع ہے کہ ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جائے اور باہمی افہام و تفہیم سے کوئی ایسا سیاسی پلیٹ فارم تیار کیا جائے جس سے منتخب نظام حکومت کا اصول راسخ ہو سکے اور سیاسی و انتظامی معاملات میں غیر منتخب عناصر کا اثر و رسوخ محدود ہو۔ اس وقت اسٹبلشمنٹ چاہنے کے باوجود اپنی مرضی کی حکومت نہیں بنوا سکتی بشرطیکہ کہ تینوں بڑی پارٹیاں ایک دوسرے کے عوامی مینڈیٹ کا احترام کرتے ہوئے آگے بڑھنے پر آمادہ ہوں۔ اگر اس وقت سیاسی لیڈر کسی تعاون میں ناکام رہتے ہیں، نہ مرکزی حکومت کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں اور نہ ہی قومی مسائل حل کرنے کے لیے کوئی وسیع البنیاد اتفاق رائے پیدا کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو اس سے ملک میں جمہوریت کمزور ہوگی اور غیر منتخب ادارے معاملات طے کرنے میں زیادہ با اثر ہوجائیں گے۔
اس وقت ایک دوسرے کو زیر کرنے اور مقبول نعرے لگانے کی خواہش میں سیاسی پارٹیاں ذمہ داری قبول کرنے سے گریز کر رہی ہیں۔ حالانکہ جمہوریت صرف انتخاب میں حصہ لے کر ووٹ حاصل کرنے ہی کا نام نہیں ہے بلکہ عوام کا مینڈیٹ ملنے کے بعد پوری ذمہ داری سے امور مملکت کی ذمہ داری قبول کرنے کا نام ہے۔ پاکستانی لیڈروں نے ہمیشہ اقتدار حاصل کرنے کے لیے تگ و دو کی ہے۔ اب پہلی بار انہیں احساس ہو رہا ہے کہ مرکز میں حکومت سنبھالنا درحقیقت کانٹوں کا تاج سر پر رکھنے کے مترادف ہو گا۔ یہ مرحلہ اسی وقت سہل ہو سکتا ہے کہ اگر تینوں بڑی پارٹیاں باہمی تعاون پر آمادہ ہوں۔ پاکستانی عوام نے 8 فروری کو ووٹ دے کر درحقیقت تینوں پارٹیوں کو ذمہ داری قبول کرنے، جمہوری روایت مستحکم کرنے اور پارلیمنٹ کو با اختیار بنانے کا فریضہ سونپا ہے۔ لیکن انتخابات کے بعد بھی پھکڑ بازی اور الزام تراشی کی سیاست سے، سیاسی لیڈر مسلسل عوام کی طرف سے عائد کی گئی اس ذمہ داری سے گریز کر رہے ہیں۔ اور اس ناکامی کے بعد جب ملک کو کسی بڑے خسارے کا سامنا ہو گا یا کوئی غیر جمہوری انتظام ملک پر مسلط کر دیا جائے گا تو ایک بار پھر آئین کی دہائی دیتے ہوئے جمہوریت کا خون کرنے کا نعرہ سننے میں آئے گا۔ سوال یہ ہے کہ جب آپ کو جمہوری طاقت مسلط کرنے کا موقع مل رہا ہے تو کیوں اس سے گریز کیا جا رہا ہے؟
تحریک انصاف کے لیڈر بیرسٹر گوہر علی نے دعویٰ کیا ہے کہ ’اگر ہمیں ہماری مرضی کے مطابق سیٹیں نہ دی گئیں تو آئی ایم ایف کا پروگرام متاثر ہو گا‘ ۔ اس سے پہلے پی ٹی آئی کے لیڈر علی محمد خان نے کہا تھا کہ جیل میں ملاقات کے دوران میں سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہم سیاسی انتقام نہیں لیں گے بلکہ ’فتح مکہ ماڈل‘ پر عمل کریں گے۔ ان دونوں بیانات پر غور کیا جائے تو دیکھا جاسکتا ہے کہ تحریک انصاف نہ تو کسی سیاسی استحکام میں دلچسپی رکھتی ہے اور نہ ہی اپنے سیاسی مخالفین کے بارے میں احترام کی کوئی رمق اس کے ہاں موجود ہے۔ سیاسی مخالفین کو مکہ کے مشرکین سے ملانا اور پاکستان کو درپیش مسائل کے حل کے نام پر بانی تحریک انصاف کا ’فتح مکہ‘ ماڈل تجویز کرنے کا ایک ہی مقصد ہے کہ پاکستان کو ایک پارٹی بلکہ ایک لیڈر کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے۔ اگر اس کا دل کرے گا تو وہ دشمنوں کو معاف کرنے کے لیے ’فتح مکہ‘ کے موقع پر رسول پاکﷺ کی سنت پر عمل کرے گا تاہم اگر مکمل اختیار ملنے کے بعد اس کا موڈ ہوا تو دیگر اچھی باتوں کی طرح اس روایت کو بھلا کر ماضی کے اعلانات کے مطابق ہر چوک پر مخالفین کو پھانسی دی جائے گی۔
سیاسی مقصد حاصل نہ ہونے کی صورت میں آئی ایم ایف کے حوالے سے پاکستان کی مجبوری کا یوں بے دردانہ استعمال نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ یہ اعلان بھی ہے کہ ہم نہ تو ذمہ داری قبول کریں گے اور نہ ہی کسی دوسرے کو کام کرنے کا موقع دیں گے۔ یہ رویہ درحقیقت فسطائی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے جس میں ایک فرد کو عقل کل مان کر پوری قوم کی تقدیر کا مالک بنا دیا جاتا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ایسے ہر تجربے میں قوم ہی خسارے میں رہی ہے۔ اس مرحلے پر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی صورت حال کی سنگینی کو سمجھیں اور حکومت سازی کے عمل میں پارٹی سیاسی مفادات کی بجائے، وسیع تر قومی مفاد کو پیش نظر رکھیں۔
تحریک انصاف کی طرح اگر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) بھی مل کر ذمہ داری قبول کرنے کا فیصلہ نہیں کرتیں تو یہ سیاسی پارٹیوں کی اجتماعی ناکامی ہوگی۔ تاریخ کے اس موڑ پر اگر سیاسی لیڈروں نے قائدانہ صلاحیت کا مظاہرہ نہ کیا تو شاید انہیں اس کا کوئی دوسرا موقع میسر نہ آئے۔


