نواز شریف سے ڈرتے ہیں؟


نواز شریف کی شخصیت اس سے بلند ہے کہ سیاسی مفاد کیا ہے۔ اس کی بنا پر وہ اب پاکستان سے کم کسی بھی چیز کو اپنی ترجیح قرار نہیں دیتے۔ نواز شریف نا صرف کہ پاکستان بلکہ اگر ہم دور حاضر کی دنیا بھر کی جمہوری قیادتوں پر نگاہ دوڑائیں تو تب بھی ہم اتنا تجربہ کار رہنما تلاش نہیں کر سکیں گے۔ اس حقیقت کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ وہم بھی پال لینا کہ نواز شریف کو اس سے خوف زدہ کیا جا سکتا ہے کہ طاقت ور طبقات وفاقی حکومت سے مسلم لیگ نون کو دور کر دیں گے یا پنجاب میں بھی حق حکومت چھین لیا جائے گا اور یہ سب کرنے سے نواز شریف کے خیالات کو تبدیل ہونے پر مجبور کیا جا سکتا ہے احمقوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہو گا۔

اس مقام پر موجود ہونے کی وجہ سے نواز شریف یہ اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ ان پر بھاری ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے اور اس ذمہ داری کو ادا کرنے سے اس کی سیاسی قیمت بھی ادا کرنی ہوں گی مگر اس کے باوجود وہ قدم پیچھے ہٹانے پر کسی طور پر بھی آمادہ دکھائی نہیں دیتے ہیں۔ اسی سبب سے پی ایم ایل این میں گفتگو کی نمایاں صلاحیت رکھنے والے افراد سعد رفیق، خرم دستگیر، رانا ثنا اللہ اور جاوید لطیف جیسوں کو جان بوجھ کر ہرا دیا گیا کہ یہ لوگ پی ایم ایل این کا بیانیہ عوام تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

خرم دستگیر کے خلاف سازش پر تو کسی دن علیحدہ سے گزارشات بیان کروں گا۔ جب شہباز شریف کی قیادت میں پی ڈی ایم کی حکومت قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا تو اس وقت کے معاشی حالات سب کے سامنے کھڑے تھے۔ آئی ایم ایف سے جو معاہدہ پی ٹی آئی حکومت نے دستخط کیا تھا اس معاہدہ کو ہی اپنی حکومت کی نیا ڈوبتے دیکھ کر پامال کر دیا تھا اور اس اقدام کو ان کے حامی بڑے فخر سے شہباز شریف حکومت کے لئے بارودی سرنگیں بچھانے سے تعبیر کرتے تھے۔

مگر اس سب کے باوجود شہباز شریف نے ملک کی باگ ڈور سنبھال لی تھی حالاں کہ اچھی طرح سے جانتے تھے کہ اس دور میں حکومت کی قیادت کرنے سے پی ٹی آئی کا سارا گند بھی خود ہی صاف کرنا ہو گا اور ظاہر ہے کہ اس سے اپنے ہاتھ تو ضرور مہنگائی کے گند میں رنگے نظر آئیں گے۔ اس وقت بھی مسلم لیگ نون کو دیگر اتحادی جماعتوں کی نسبت زیادہ نشستیں حاصل تھی چنانچہ وزارت عظمیٰ بھی اس کو ہی ملنی تھی اور آج بھی ایوان میں یہ ہی صورت حال قائم ہے۔

حالاں کہ اس وقت پی ایم ایل این کا خوف دکھا کر پی پی پی اور پی ٹی آئی کے مابین مذاکرات جاری ہے مگر پی ٹی آئی کی شرط یہ ہے کہ اسمبلی کے ذریعے بانی پی ٹی آئی کے تمام مقدمات کو ختم کر دیا جائے اور وزارت عظمیٰ کا منصب بھی ان کو ہی دے دیا جائے۔ پی پی پی پہلی شرط پوری کرنے پر تو آمادہ ہے مگر دوسری شرط میں وہ خود وزارت عظمیٰ کی طلب گار ہے اور یہ ہی ڈیڈ لاک ہے۔ سوال یہ ہے کہ نواز شریف کو وزارت عظمیٰ کے منصب سے دور رکھنے کی سازش کیوں تیار کی گئی۔

اس سب کی وجہ یہ ہے کہ نواز شریف تین امور پر کسی بھی طرح اپنے موقف سے دستبردار ہونے کے لئے تیار نہیں ہے اور وہ ان تین امور کو پاکستان کی معاشی رگ حیات تصور کرتے ہیں۔ وطن عزیز کو عشروں سے دہشت گردی کے عفریت سے برسر پیکار ہونا پڑ رہا ہے اور یہ معاملہ صرف پاکستان کے اندر ہی سے نہیں پنپ رہا ہے بلکہ اس کے تانے بانے سرحدوں سے باہر بھی جا کے مل جاتے ہیں مگر بد قسمتی سے ہمارے ہاں طاقت ور طبقات ملک کے اندر اور باہر کے گروہوں میں اس حوالے سے فرق کرنے لگ جاتے ہیں کوئی اچھا قرار دے دیا جاتا ہے اور کسی کو راندہ درگاہ۔

نواز شریف کے خیال میں تمام کے تمام دہشت گرد عناصر کو چاہے وہ کسی دوسرے ملک میں صاحب اقتدار ہی کیوں نہ ہو گئے ہو ایک ہی نظر سے دیکھنا چاہیے اور ایک ہی طرح سے ڈیل کرنا چاہیے۔ دوئم معاملہ یہ ہے کہ نواز شریف کے خیال میں ہمسایہ ممالک سے تعلقات نارمل کیے بنا معاشی اہداف کا حصول دشوار ہے۔ جو مسائل بھی پاکستان کو اپنے ہمسایہ ممالک سے ہیں ان کو بھی اس وقت ہی طے کیا جا سکتا ہے جب کہ باہمی گفتگو کے ماحول کو تشکیل دیا جائے اور وہ اس حوالے سے بھارتی وزیر اعظم واجپائی کو مینار پاکستان کے سایہ تلے کھڑا کر کے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا بھی چکے ہیں اب بھی اگر نواز شریف ڈاکٹرائن کو خارجہ محاذ پر اپنا لیا گیا تو قوم دیکھے گی کہ وزیر اعظم مودی بھی پاکستان ضرور آئیں گے جب کہ اعلی چینی قیادت تو اس امید پر کہ نواز شریف ڈاکٹرائن پر عمل ہو گا جون میں پاکستان آنے کے پروگرام کو حتمی شکل دینے بھی لگی ہیں۔

تیسرا معاملہ یہ ہے کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کا مکمل ماحول تشکیل دیا جائے، سی پیک کو حقیقی معنوں میں فعال ہونے دیا جائے اور سرمایہ کاری جہاں کہی سے بھی آئے اس کا خیر مقدم کیا جائے۔ چین اور کسی بھی دوسرے ملک کی سرمایہ کاری میں روڑے نہ اٹکائے جائے۔ مگر جان بوجھ کر ایسا ماحول بنایا گیا کہ گوادر میں وہ کامیاب ہو جائے کہ جن کا سارا بیانیہ ہی سی پیک کی مخالفت ہے اور اب میڈیا پر بھی سی پیک کی مخالفت کا بیانیہ تشکیل دیا جا رہا ہے۔ ان تمام نکات کا تعلق معیشت کے ساتھ ہیں اور نواز شریف کا ایجنڈا معاشی ہے اور نواز شریف کو اس کے راستے سے ہٹایا نہیں جا سکتا ہے۔

Facebook Comments HS