کیا ریاست لاوارث ہو گئی ہے


ملک میں 8 فروری 2024 کے عام انتخابات کے بعد ہر گزرتے دن کے ساتھ ملک میں غیر یقینی کی صورت حال میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کئی دہائیوں سے اسٹیبلشمنٹ کے اشاروں پر چلنے والوں نے اشارے کنایوں کے ساتھ کہہ دیا ہے کہ بس اب ہم میں مزید سکت نہیں رہی۔ جامشورو سے لے کر تورغر کے پہاڑوں تک ریاستی ترجمان ڈھونڈنے سے نہیں مل رہا۔ جب بات اس حد تک پہنچ جائے کہ ترجمانی کے لیے کوئی نا بچے تو پھر لامحالہ اصل طاقت میدان میں خود آجاتی ہے پاکستان کو اس سے پہلے 90 کی دہائی میں بھی اس طرح کے مسائل کا سامنا تھا اس کا نتیجہ کبھی عدالتی مداخلت اور کبھی فوجی مداخلت کے نتیجے میں نکلتا تھا۔

مگر پاکستا نی معیشت اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ اگر اس قسم کا کوئی بھی ایڈوینچر کیا گیا تو عام آدمی کی زندگی اجیرن ہو جائے گی۔ کیا ملک میں موجود سب سے تجربہ کار سیاسی رہنما نے کچھ فیصلے تاخیر سے نہیں کیے۔ کیا افراتفری نواز شریف کے اس اعلان کے بعد زیادہ بڑھتی نہیں گئی کہ ان کے وزرات عظمیٰ کے امیداوار محمد شہباز شریف ہیں۔ اس اعلان نے مسلم لیگ نون کو سیاسی طور پر کمزور وکٹ پر لاکھڑا کیا ہے۔ مسلم لیگ نون کے لیڈر میاں محمد نواز شریف منظر سے کیوں غائب ہیں کیا وہ اس نتیجہ پر پہنچ چکے ہیں یا ان کو یقین ہو گیا کہ اس ملک میں سویلین بالا دستی ناممکن ہے۔

ان کو چاہیے کہ آل جماعتی گول کانفرنس کا اعلان کر دیں اور قومی حکومت کی تشکیل کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں برو کار لائیں۔ مولانا فضل الرحمن، پیر پگارا، اور تما م چھوٹی جماعتوں کے پاس خو چل کر جائیں اور اس بحران سے نکلنے کا کوئی راستہ نکالیں۔ اگر ایسا نہیں ہو تا تو ملک کیا ایک اور انتخاب کا متحمل ہو سکتا ہے۔ کیا انارکی بڑھتی جائے گی۔ ایک سوال یہ بھی ہے کہ پا کستان پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف زرداری کیونکر حکومت میں شامل ہو نے سے کترا رہے ہیں کیا سیاسی جماعتوں کے سربراہوں نے پاکستان کو درپیش مسائل کے آگے ہاتھ کھڑے کر دیے ہیں یا پھر پی ڈی ایم کی حکومت نے ان سب سیاستدانوں پر عیاں کر دیا ہے کہ اس ملک کا مقتدر اعلیٰ کون ہے۔

سوال یہ بھی ہے کہ وہ یہ سب کیوں کر رہے ہیں۔ ان کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ مداخلت کے نتیجے میں مقتدر حلقے آ تو جاتے ہیں مگر یہی پبلک ان کو جا نے پر اس قدر مجبور کر دیتی ہے کہ وہ وردی بھی اتارتے ہیں اور الزامات کی گٹھڑی بھی ساتھ جاتی ہے۔ اگر پاکستانی سیاست کی تاریخ کو دیکھا جائے تو فوجی دور حکومت میں سیاسی جما عتوں میں اتحاد پیدا ہو جاتا ہے ایوب خان کے مارشل لا کے بعد ۔ اپریل 1967 میں نوابزدہ نصراللہ خان کی قیادت میں پانچ پارٹیوں پر مشتمل پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ ( پی ڈی ایم) کا اتحاد وجود میں آیا۔

اس کے بعد جب ضیا الحق نے اقتدار پر قبضہ کیا تو 1981 میں سیاسی جماعتوں نے مل کر ضیائی مارشل لا کے خلاف تحریک بحالی جمہوریت (ایم آر ڈی ) کی بنیاد رکھی۔ اس تحریک کی خاص بات یہ ہے کہ اس تحریک نے ضیا الحق کی اس کو شش کو ناکام بنا دیا تھا کہ ملک میں سیاسی نظام کو ختم کر دیا جائے۔ ملک میں سیاستدانوں کی مل کر کام کرنے کی روایت دراصل ایم آرڈی سے ہی شروع ہوئی تھی یہ تحریک سیاسی کارکنوں کی لازوال قربانیوں اور ضیا الحق کے جبر کی مثال بنی، تاہم عوامی سطح پر اس تحریک اور اتحاد کو بہت پذیرائی ملی۔

اس کے بعد 1999 کو جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کی حکومت کو ختم کر کے اقتدار پر قبضہ کر لیا شروع شروع میں تو پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام نے مشرف کو خوش آمدید کہا مگر جلد ہی ان کو احساس ہو گیا کہ ان سے ایک فاش غلطی ہو گئی ہے۔ 15 مئی 2006 کو مسلم لیگ نون اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہوں نے مل کر میثاق جمہوریت کیا جس سے سیاسی طور پر بہت سی باتوں کو طے کر لیا گیا تھا۔

اس معا ہدے میں دراصل 17 جماعتیں تھیں۔ اس معاہدے کے بعد 2008 میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت بنی اور اس کے 2013 میں پاکستان مسلم لیگ نون نے اقتدار سنبھالا اگر آپ یہ کہیں کہ میثاق جمہوریت پر 100 فیصد مکمل عمل ہوا تو یہ جھوٹ ہو گا مگر برسوں سے تصفیہ طلب معاملات کو حل کر لیا گیا تھا۔ 2013 سے لے کر سیاست میں پاکستان تحریک انصاف وارد ہو گئی اس نے سیاست کی تمام حرکیات کو بدل دیا۔ جنرل پاشا سے لے کر ظہیر السلام کے چرچے چوک چوراہوں میں ہو نے لگے۔

نیا پاکستان بالآخر 2018 میں تعمیر ہو گیا۔ مکان کا مکین یہ بات بھول گیا کہ اس کی ملکیت پر کسی کا حق نہیں ہے اس نے سوچا مکان کے باقی حصہ داروں سے مل کے وہ مکان کے کاغذات ہی اپنے نام لگوا لے گا۔ ایک جنرل کو ایکسٹینشن پر ایکسٹینشن ملتی رہی۔ بلاآخر مقتدر اعلی ٰ نے فیصلہ کر لیا کہ بس اب آپ کو جانا ہو گا۔ مکان کے نئے مکینوں نے جلدی میں یہ بھی نا سوچا کہ مکان کی بنیادیں ہل چکی ہیں چھت کسی بھی وقت گر سکتی ہے انہوں نے بس مکان پر قبضہ لینے میں ہی عافیت جانی۔

چند ماہ کے بعد بھی مکان کی چھت گر پڑی اور سارے مکین زخمی حالت میں عوام کے پاس چلے گئے ان سے پہلے کا مکین خوش ہو رہا تھا ہ چھت اس پر نہیں گری جب یہ زخم خوردہ عوام سے مسیحائی چاہنے لگے تو عوام نے انہیں 8 فروری کو بتا دیا کہ ان کے لگائے گھاؤ کافی گہرے ہیں اور ان سے ابھی بھی خون رس رہا ہے۔ مکان خالی ہے اور سب زخمی ہیں مکان کے خود ساختہ مالک کرائے دار کی تلاش میں ہیں مکان خستہ حال ہے اور عوام بد حال ہیں

Facebook Comments HS