یورپ سیاسی تصادم اور مظاہروں کی زد میں


گزشتہ چند مہینوں سے یورپ کے کئی ملکوں میں انتہائی دائیں بازو کی سیاسی سوچ کے خلاف زبردست عوامی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ جرمنی، فرانس اور اسین میں لاکھوں لوگوں نے سخت سرد موسم کے باوجود سڑکوں پر نکل کر لبرل، اعتدال پسند اور بائیں بازو کی سیاسی فکر کی حمایت اور انتہائی دائیں بازو کی سیاست پر کھل کر اپنے عدم اعتماد کا اظہار کیا۔ ان مظاہروں کی وسعت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ صرف جرمنی کے 100 شہروں میں مظاہرین نے جمہوریت، لبرل پالیسیوں، تارکین وطن اور اقلیتوں کے حقوق اور ماحولیاتی تحفظ کی حمایت میں آواز بلند کی۔ ان مظاہروں میں شریک لوگوں کی سوچ کی مکمل عکاسی ان دو پلے کارڈز سے ہوتی ہے جن پر لکھا تھا: ’ہم متنوع ہیں‘ اور ’فاشزم متبادل نہیں‘ ۔

اس امر کا امکان ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ یورپ کے مختلف ملکوں میں انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں اور ان کی مخالف لبرل و اعتدال پسند سیاسی قوتوں کے درمیان جاری محاذ آرائی میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ اس کا بنیادی سبب یورپی پارلیمنٹ کے وہ انتخابات ہیں جو اس سال جون میں منعقد ہونے والے ہیں۔ یورپی پارلیمنٹ کے انتخابات میں یورپی یونین میں شامل 27 ملکوں کے 40 کروڑ ووٹر اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔ ہندوستان کے بعد یہ دنیا کے دوسرے سب سے بڑے پارلیمانی انتخابات ہیں۔

یورپی پارلیمنٹ میں، یورپی یونین میں شامل ملکوں کے لیے مخصوص کوٹہ مختص کیا گیا ہے۔ جرمنی کو 96 فرانس کو 79، اٹلی کو 76، اسپین کو 59 کو اور پولینڈ کو 52 نشستیں ملیں گی جبکہ بقیہ ممالک کو بھی ان کی آبادی کے تناسب سے حصہ دیا گیا ہے۔ منتخب پارلیمانی ارکان پارلیمنٹ میں سیاسی وابستگی کی بنیاد پر الگ گروپ کی شکل میں بیٹھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یورپی یونین کے تمام ملکوں میں سرگرم نظریاتی و سیاسی جماعتوں کی بھرپور کوشش ہوتی ہے کہ ان کے ارکان زیادہ بڑی تعداد میں منتخب ہو کر یورپی پارلیمنٹ کا حصہ بنیں۔

ان انتخابات کی ایک اور اہمیت اس حوالے سے بھی ہے کہ اس انتخابی عمل کے ذریعے دراصل یہ حقیقت بھی عیاں ہو جائے گی کہ کس یورپی ملک میں کون سی سیاسی جماعت کس قدر مقبول ہے اور اسے اپنے حریفوں پر کتنی سبقت حاصل ہے۔ اس وقت یورپ کے زیادہ تر ملکوں میں تیز تر ہوتی سیاسی محاذ آرائی اور عوامی مظاہروں کا بنیادی محور بھی یورپین پارلیمنٹ کے لیے منعقد ہونے والے عام انتخابات ہیں۔

جمہوری نظام اور جدید سیاسی فکر کا آغاز اور ارتقا چونکہ یورپ سے ہوا تھا لہٰذا سیاست میں نظریاتی تقسیم کے شدید مظاہر بھی عموماً یورپی ملکوں میں نظر آیا کرتے ہیں۔ دائیں اور بائیں بازو کی سیاسی اصطلاحات بھی پہلی مرتبہ فرانس سے متعارف ہوئیں تھیں۔ 1789 کے انقلاب فرانس نے دو یکسر متضاد اور متحارب سیاسی نظریات کو جنم دیا۔ فرانس کی پارلیمنٹ میں جو ارکان، بادشاہت، جاگیردار اشرافیہ اور کلیسا کی صدیوں پرانی حاکمیت کے حامی تھے وہ ایوان میں دائیں جانب اور ایسے ارکان جو آزادی، مساوات اور اخوت جیسے اصولوں کے ذریعے با لا دست نظام کو ختم کرنا چاہتے تھے وہ ایوان میں بائیں جانب بیٹھتے تھے۔

اس تناظر میں یہ دو اصطلاحیں جدید سیاسی افکار کا نا گزیر حصہ بن گئیں۔ 18 ویں صدی کی آخری دہائیوں میں جنم لینے والی دائیں اور بائیں بازو کی سیاسی کشمکش، 20 ویں صدی میں سرد جنگ کے دوران اپنے عروج پر جا پہنچی۔ تا ہم، اب اس میں ماضی جیسی شدت تو باقی نہیں ہے لیکن دنیا کے تقریباً تمام ملکوں کے سیاسی افق پر یہ تقسیم کسی نہ کسی عنوان سے آج بھی نظر اتی ہے۔

پچھلی ایک دہائی سے یورپ کے سیاسی منظر نامے پر تیز رفتار تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ سیاست کے میدان میں اعتدال پسند دائیں اور بائیں بازو کی روایتی سیاسی جماعتوں اور حکومتوں کی اجارہ داری کو سنگین خطرات درپیش ہیں اور انہیں انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے باعث سخت دباؤ کا سامنا ہے۔

جارحانہ قوم پرستی، غیرمعمولی قدامت پسندی، گلوبلائزیشن کی مخالفت، تارکین وطن کے خلاف سخت ترین قوانین، مقامی ثقافتی اقدار اور روایات کا تحفظ، انتہائی دائیں بازو کی سیاسی فکر کے بنیادی عناصر ہیں۔ سوئٹزر لینڈ، اٹلی، پولینڈ، فن لینڈ اور سویڈن سمیت یورپ کے کئی ملکوں میں انتہائی دائیں بازو کی سوچ رکھنے والی جماعتوں کو بڑی تیزی سے عوامی پذیرائی مل رہی ہے۔ اس وقت یورپی پارلیمنٹ میں سیاسی وابستگی کے حوالے سے 7 گروپ موجود ہیں جن میں انتہائی دائیں بازو کے نظریے سے وابستہ ارکان کا گروپ 7 ویں نمبر پر ہے۔

جب کہ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ جون 2024 کے انتخابات کے بعد اس کے ارکان کی تعداد بڑھ کر 98 ہو جائے گی اور یہ گروپ تیسرے نمبر پر آ جائے گا جس پر اس وقت لبرل گروپ موجود ہے۔ صرف 5 سال کے دوران اتنی بڑی جست کو، ایک معمولی واقعہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس چونکا دینے والے سیاسی مظہر سے، یورپی سیاست کے بدلتے تیور اور رجحان کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

دائیں بازو کی انتہا پسند سوچ یورپ کے عوام میں کیوں مقبول ہو رہی ہے؟ یہ موضوع تفصیلی بحث کا متقاضی ہے جسے آئندہ کے لیے اٹھا رکھتے ہیں۔ تاہم اختصار سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس سوچ کی مقبولیت کی بنیادی وجہ وہ معاشی مسائل ہیں جو دن بہ دن شدید تر ہوتے جا رہے ہیں۔ اگر چہ ان مسائل کی ذمہ داری کلی طور پر یورپی ملکوں کی ماضی یا موجودہ حکومتوں پر عائد نہیں کی جا سکتی ہے لیکن انتہائی دائیں بازو کی جماعتیں مشکل معاشی صورت حال کا تمام ملبہ اپنے سیاسی مخالفین پر ڈال رہی ہیں۔

2008 کے مالیاتی بحران سے یورپ بری طرح متاثر ہوا، لوگ روزگار سے محروم ہوئے، ان کی قوت خرید کم ہوئی، افراط زر بڑھا اور حکومتوں کو سماجی بہبود کے منصوبوں میں کٹوتی کرنی پڑی۔ کووڈ۔ 19 کی عالمی وبا سے نہ صرف یورپ میں لاکھوں ہلاکتیں ہوئیں بلکہ یورپی معیشتوں کو کھربوں یورو کا ناقابل تلافی نقصان پہنچا جس کی قیمت عوام آج بھی ادا کر رہے ہیں۔ گلوبلائزیشن سے یورپی معیشتیں بالخصوص مقامی صنعتیں دباؤ میں آئیں اور اب روس یوکرین جنگ نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی۔

معاشی عدم تحفظ کا خوف انتہا پسند قوم پرستی کے لیے بڑا سازگار ماحول فراہم کرتا ہے۔ یورپ کی انتہائی دائیں بازو کی قوم پرست سیاسی جماعتیں مذکورہ بالا صورت حال کا بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش میں ہیں۔ ان کے پاس معاشی اور سماجی مسائل کا کوئی قابل عمل حل موجود نہیں ہے لیکن وہ دلفریب نعروں کے ذریعے عوام کو اپنی جانب راغب کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمیں معاشی، سیاسی اور ثقافتی عالمگیریت کے چنگل سے نکل کر قوم پرستانہ معاشی اور سیاسی پالیسیوں عمل کرنے کے ساتھ اپنی قومی و ثقافتی شناخت کا تحفظ بھی کرنا ہو گا جسے اندرونی اور بیرونی دونوں جانب سے خطرات درپیش ہیں۔

سائنس، ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل انقلاب کی یہ حیرت انگیز صدی نئے طرز کی ایک ایسی متنوع دنیا تشکیل دے رہی ہے جس سے کٹ کر کوئی ملک ترقی نہیں کر سکتا اور نا ہی اس نئی دنیا میں کسی بھی طرح کی انتہا پسندی کی کوئی گنجائش موجود ہے۔ یہ تاریخ کے ارتقا کا ایسا جبر ہے جسے آج نہیں تو کل نہ صرف یورپ بلکہ ہم سب کو قبول کرنا پڑے گا۔

Facebook Comments HS

One thought on “یورپ سیاسی تصادم اور مظاہروں کی زد میں

  • 22/02/2024 at 10:19 شام
    Permalink

    ریاستی انتہا پسندی جو کہ اسرائیل فلسطین جنگ کا خاصہ ہے اور اس میں منقسم "جدید” ہی نئی دنیا کا خاصہ ہے۔ یہ سوچ لینا کہ ٹیکنالوجی مساوی دنیا لائے گی ایک خام خیالی ہے

Comments are closed.