مادری زبانوں کا عالمی دن: آپ کی مادری زبان کون سی ہے؟
آج جب کہ بازبان دنیا مادری زبانوں کا بین الاقوامی دن منا رہی ہے تو میں آپ سے سوال کرنا چاہتا ہوں کہ، ”کیا آپ کو پتہ ہے کہ آپ کی مادری زبان کون سی ہے؟“
آپ میں سے کچھ لوگ شاید کہیں گے : ”ہیں یہ کیسا سوال ہے؟“ اور شاید ہمیں احمق بھی سمجھ لیں، تاہم اس سوال کا پس منظر جان کر کچھ لوگ شاید حیران بھی ہوں کہ: ”کیا ایسے انجان اور نادان لوگ بھی ہیں کہ جنھیں یہ تک پتہ نہیں ہے کہ ان کی مادری زبان کون سی ہے۔“
جی ہاں ایسے لوگ ہیں۔ اور بہت سارے ؛ ہر عمر، نسل، زبان اور صنف کے۔ بالکل ایسے ہی جیسے بہت سے لوگوں کو عدم دلچسپی یا بے خبری کے باعث اپنے دادا دادی تک کا نام معلوم نہیں ہوتا، یا وہ اپنی ذات برادری یا کاسٹ اور سب کاسٹ سے، جیسا کہ ہم ”جاکھرو“ کاسٹ اور ”پیروزپوٹو“ سب کاسٹ کے ہیں۔ سے بھی انجان ہوتے ہیں۔ اور اس قسم کے سوال کو یہ کہ کر نظرانداز کر دیتے ہیں کہ ”ہم مسلمان ہیں“ یا پھر ”ہم انسان ہیں“ علاوہ ازیں کچھ زیادہ محب وطن لوگ پاکستانی ہونے کا بھی دعویٰ کر دیتے ہیں کہ: ”ہم پاکستانی“ ہیں۔ ”ایسے لوگوں کو ہم نہ جانے کہاں سے امریکی دکھتے ہیں؟ تاہم ان“ پاکستانی مسلمان انسانوں ”سے کوئی پوچھے کہ،“ کیا آپ مولانا عبیداللہ سندھی رح، حضرت صہیب رومی اور حضرت سلمان فارسی رضوان السلام علیہا اور حضرت محمد عربی ہاشمی قریشی ﷺ سے زیادہ مسلمان ہیں؟ (نعوذ باللہ) ”
دراصل چالیس پینتالیس برس پہلے جب ہم شاید میٹرک میں تھے یا میٹرک سے فارغ تو، ہوا یوں کہ ایک ہم جماعت، دوست اور محلہ دار جن کی مادری زبان میمنی تھی۔ انہوں نے دوران گفتگو بتایا کہ انہوں نے ”شناختی کارڈ میں اپنی مادری زبان اردو لکھی ہے۔“
ہم حیران ہوئے اور پوچھا ”کیوں؟“
بتایا: ”ہم پاکستانی ہیں اور اردو ہی تو ہماری ‘مادری زبان’ ہے۔“
ہم نے کہا بلکہ سمجھایا کہ، ”بھائی میاں! اردو ہماری مادری نہیں بلکہ قومی زبان (مع تحفظات) ہے۔ تاہم شناختی کارڈ میں آپ سندھی نہ سہی میمنی تو لکھ سکتے تھے۔“
بعد ازاں علم ہوا کہ وہ تنہا ایسے میمن نہیں ہیں جنھوں نے اردو کو مادری زبان لکھا ہو بلکہ اور بھی میمن و دیگر کم یا زیادہ تعداد میں بولی جانے والی زبانوں یا بولیوں کے لوگ بھی ہیں جو کہ شناختی کارڈ سمیت کئی دستاویزات میں مادری زبان کے کالم میں اردو ہی لکھتے ہیں۔ کچھ لوگ جان کر اور کچھ انجانے میں۔ جیسا کہ موجودہ اعداد شمار سے بھی پتہ چلتا ہے کہ ہمارے متعدد پنجابی بھائی اردو کو قومی کے ساتھ ساتھ مادری زبان بھی قرار دے چکے ہیں۔ اور یوں ہر مردم شماری میں پنجابی بولنے والے کم ہوتے جار ہے ہیں۔
جب کہ ہمارے علاقے ماڑی پور میں ایک پوری کالونی ہی کوکنی بولنے والوں کی تھی۔ لیکن اب وہ سب اردو بولتے ہیں اور شاید ہی کسی کو اپنی مادری زبان آتی ہو۔ تو ظاہر ہے کہ یہ صاحبان بھی شناختی کارڈ میں مادری زبان کے کالم میں عربی یا فارسی تو نہیں لکھتے ہوں گے!
اسی طرح دو یا تین مہینے قبل ایک ”سابقہ کوکنی“ اور ہزارے وال بھائی سے بات چیت کے درمیان میں جب مادری زبانوں سے بے اعتنائی کی بات نکلی تو ہمارے ہزارے وال بھائی نے ہماری تائید کرتے ہوئے کہا، ”ہاں، لوگ اردو سے بے اعتنائی برت رہے ہیں۔ اور انگریزی کی طرف میلان رکھتے ہیں۔“ (مفہوم) ۔
ہم نے تصحیح کی کہ، ”ہم قومی نہیں مادری زبان کی بات کر رہے ہیں۔“
بولے، ”تو ایک ہی بات ہے نا!“
ہم نے سمجھایا کہ، ”ایک ہی بات نہیں ہے۔ مادری زبان سے مراد والدین/باپ دادا (اسلاف) کی زبان ہے اور قومی زبان سے مراد قوم کی تسلیم شدہ زبان ہے۔“ (پھر مع تحفظات) اور وضاحت کی کہ، ”آپ نے قومی اور مادری زبان کو گڈمڈ کر دیا ہے۔“
پھر مادری کے ساتھ ساتھ پاکستان میں صوبائی زبانوں اور دیگر مادری زبانوں /بولیوں کے ساتھ کیے جانے والے ”سرکاری“ اور ”غیرسرکاری“ سلوک بلکہ ”بدسلوکی“ کی بات کی تو معترض ہوئے کہ ہر زبان کو تو قومی (سطح) پر نہیں اپنایا جا سکتا ہے۔ تو ہم نے وضاحت کی کہ بے شک! لیکن ہر زبان کو اس کے صوبے میں تو مطلوب و موعود حیثیت ضرور دی جانی چاہیے اور ایسی صورتحال پیدا کرنی چاہیے کہ وہ زبانیں ترقی کریں اور فروغ پائیں نہ کہ ایسے حالات اور ماحول پیدا کیے جائیں کہ لوگ احساس کمتری کے شکار ہو کر اپنی مادری زبانوں سے برگشتہ ہو جائیں اور بولنا ہی چھوڑ دیں۔
بولے، ”اب ایسا بھی نہیں ہے کہ لوگ اپنی مادری زبان ہی بولنا چھوڑ دیں۔“
تو ہمارے کوکنی بھائی نے کہا ”ایسا ہی ہے۔ ایک وقت تھا کہ ہماری پوری کالونی کوکنی بولتی تھی مگر اب سب نے اردو اختیار کر لی ہے۔“
اور پھر ہمارے پوچھنے پر ہمارے ہزارے وال بھائی نے بھی اعتراف کیا کہ وہ ”اپنے بچوں سے اردو میں ہی بات کرتے ہیں۔“
(اس واقعے سے آپ کراچی میں اردو بولنے والوں کی اکثریت کے دعویٰ کی حقیقت کو سمجھ سکتے ہیں )
ہزارے وال کے حوالے سے ہمیں یہ بھی یاد آ رہا ہے کہ ہم نے اپنے ایک اور واقف کار کو جب ہزارہ زبان میں مطبوعہ سیرت النبی ﷺ کی کتاب ”الہادی“ دکھائی تو فرمایا، ”یہ ہمارے والی ہزارہ نہیں ہے۔“
اسی طرح ہمارے ایک میمنی زبان کے کالمسٹ اقبال موٹلانی، جن کی (شاید واحد ) میمنی زبان کی تصنیف ”پنہنجی بولی میں“ (اپنی زبان میں ) کو پڑھ کر ایک اور میمن کاسٹ سے ہی واسطہ رکھنے والے والے میمن انہیں لکھا کہ یہ تو آپ نے ”گناترا“ (برادری) والوں کی زبان لکھی ہے۔ (ہمارے گمان کے مطابق موٹلانی صاحب کی کاسٹ گناترا اور سب کاسٹ موٹلانی ہے! )
ہماری ناقص معلومات کے مطابق پاکستان میں اس وقت اردو اور انگریزی کے علاوہ شاید صرف سندھی ہی صوبائی سطح پر ذریعہ تعلیم ہے۔ باقی دیگر پاکستانی زبانوں میں سے کئی میں آپ سرکاری سطح پر پی ایچ ڈی تو کر سکتے ہیں لیکن اپنی مادری زبانیں ”قاعدے“ سے نہیں پڑھ سکتے۔
جب کہ پاکستان سے زیادہ اچھا سلوک تو شاید بھارت میں دیسی زبانوں کے ساتھ ہوتا جن میں سے کہ کئی اردو سمیت درس و تدریس ہی نہیں بلکہ ریاستی سطح پر سرکاری طور پر بھی مستعمل اور مروج ہیں اور بھارتیوں کا حال پاکستانیوں کا سا نہیں ہے کہ جو مادری زبان سے تو نا بلد ہیں لیکن قومی اور بین الاقوامی زبانیں اہل زبان کی طرح بولتے ہیں۔ بھارت میں لوگ مادری زبان اور انگریزی پہلے جانتے ہیں اور ہندی بعد میں۔ اور ایک متعدد بہ تعداد تو ہندی سے نابلد ہی نہیں بلکہ اس کی قومی حیثیت کو ہی چیلنج کرتی ہے۔ اور کہتی ہے کہ: ”ہندی بھارتیوں میں سے کچھ کی ماتر بھاشا (مادری زبان) ہے نہ کہ بھارت کی ماتر بھاشا (واحد زبان) ۔“
جب لوگ اپنی مادری زبان ”قاعدے“ سے نہیں پڑھ سکتے تو اس صورت میں وہی کچھ ہوتا ہے جو کہ پاکستانی زبانوں، پاکستانیوں اور پاکستان کے ساتھ ہو رہا ہے!


