جعلی ڈگری، جعلی مینڈیٹ اور اخلاقیات


مملکت خدا داد میں ان دنوں عام انتخابات کے بعد حکومت سازی کے لیے مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں خصوصاً ( پنجاب اور بلوچستان ) میں مخلوط حکومتوں کے قیام کے لیے سیاسی جماعتوں کے رہنماء سر جوڑ کر بیٹھ گئے ہیں۔ لاہور اور اسلام آباد سرگرمیوں کا مرکز ہیں۔

دوسری جانب انتخابات میں دھاندلی کی بازگشت کی سنائی دے رہی ہے۔ کمشنر راولپنڈی کے انکشافات کے بعد اب الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔ چند حلقوں میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی بھی ہوئی ہے جبکہ بعض حلقوں میں انتخابی نتائج فارم 45 کے تحت مرتب کرنے کے مطالبے بھی ہو رہے ہیں۔ کہیں مینڈیٹ چرانے کے الزامات عائد ہو رہے ہیں تو کہیں انتخابات کو دھاندلی زدہ اور جعلی قرار دیا جا رہا ہے۔

جعلی کا لفظ سن کر ایک پرانا واقعہ یاد آیا۔ سابق وزیر اعلی بلوچستان اور چیف آف سرا وان نواب اسلم رئیسانی سے ایک بار جعلی ڈگری کے بارے میں سوال کیا گیا تو جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ”ڈگری ڈگری ہے، وہ جعلی ہو یا اصلی ہو“

یاد رہے کہ نواب رئیسانی ملک کے ان سیاستدانوں میں شامل ہیں جو کسی بھی پارٹی کے پلیٹ فارم سے یا بطور آزاد امیدوار انتخابات میں حصہ لیتے ہیں کامیابی ان کے قدم چومتی ہے۔ حالت یہ ہے کہ وہ اس بار جمیعت علمائے اسلام کے ٹکٹ پر بھی انتخاب لڑ کر رکن اسمبلی منتخب ہوچکے ہیں۔

قارئین کو یاد ہو گا کہ ملک کے سابق صدر جنرل مشرف کے دور حکومت میں عام انتخابات میں شرکت کے لیے گریجویشن کی لازمی شرط عائد کی گئی تھی۔ بدقسمتی کہیں یا خوش قسمتی کہ اس دور میں جدی پشتی سیاستدانوں کی ایک ایسی کھیپ بھی موجود تھی جن کا تعلیم، اسکول اور کالج سے دور دور تک کا واسطہ نہیں تھا۔ مگر پیشہ ور سیاستدان ہونے کے ناتے ملک و قوم کی مبینہ خدمت کا جذبہ ان میں بدرجہ اتم موجود تھا۔ ان حالات میں سیاستدانوں کی ایک بڑی تعداد نے ڈگری کے حصول کے لیے اپنے اپنے گھوڑے دوڑائے۔

کچھ سیاستدانوں نے مبینہ طور پر یونیورسٹیز سے جعلی ڈگریاں بنوا لیں تو کچھ نے دینی مدارس کا رخ کیا اور درس نظامی کی ڈگریوں پر ہاتھ صاف کیا۔ یوں انتخابات میں جعلی ڈگری والے افراد کی ایک بڑی تعداد نے نہ صرف حصہ لیا بلکہ کامیاب ہو کر اسمبلیوں کے رکن بھی منتخب ہوئے۔ ان اراکین میں سے کئی کے خلاف الیکشن ٹربیونلز اور عدالتوں میں کیسز بھی داخل ہوئے اور یہ سلسلہ اسمبلیوں کے خاتمے اور ڈگری کی شرط ختم ہونے تک چلتا ہے۔

اب ذرا سات سمندر پار ایک مغربی ملک میں رونما ہونے والے ڈگری کے ایک واقعے کا ذکر کرتے ہیں۔

انیٹے شاوان ایک جرمن سیاست دان تھیں۔ انہوں نے سابق چانسلر انگیلا میرکل کی حکومت دور ادوار میں 2005 سے 2013 تک وفاقی وزیر تعلیم و تحقیق کے طور پر خدمات انجام دیں۔ وہ کابینہ کی ایک متحرک رکن ہونے کے ساتھ چانسلر کی قریبی دوست بھی تھیں۔ ہوا یوں سال 2012 میں ان پر ان کے ڈاکٹریٹ کے مقالے میں سرقہ کا الزام عائد کیا گیا۔ الزام عائد ہونے پر دوسلدورف یونیورسٹی نے ان کی 1982 میں مکمل کی جانے والی پی ایچ ڈی کے مقالے پر تحقیقات کا آغاز کیا۔

تحقیقات کے دوران پتا چلا ہے کہ وفاقی وزیر تعلیم نے اپنے مقالے کے کچھ حصے ( چند پیراگراف ) سرقہ کیے ہوئے تھے۔ تحقیقات میں الزام ثابت ہونے پر یونیورسٹی نے ان کی ڈاکٹریٹ کی ڈگری منسوخ کردی۔ وفاقی وزیر تعلیم نے اس فیصلے کے خلاف دوسلدورف کی انتظامی عدالت میں اپیل دائر کی۔ عدالت نے تحقیقات کے بعد یونیورسٹی کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ یوں یونیورسٹی کی جانب سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری منسوخ ہونے اور عدالت کی جانب سے یونیورسٹی کے فیصلے کو برقرار رکھے جانے کے بعد شاوان نے وزیر برائے تعلیم اور تحقیق کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ دوسری جانب چانسلر انگیلا میرکل نے کسی ادارے پر دباؤ ڈالنے کی بجائے اپنی دوست اور وزیر تعلیم کا استعفی قبول کر کے اخلاقیات کی اعلی مثال قائم کردی۔

اس اسکینڈل سے شاوان کی سیاسی ساکھ کو صرف نقصان ہی نہیں پہنچا بلکہ ان کا سیاسی کیرئیر ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔

 

Facebook Comments HS