لاہور کا اندرون، ایک سفرنامچہ


زندگی ایک کھیل ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کھیل کے کھلاڑی بھی ہم ہیں اور تماشائی بھی۔ اس کھیل کو یادگار اور خوبصورت بنانے کے لیے ہم دونوں جیون میں کچھ منفرد کرتے رہتے ہیں، جیون ساتھی جو ٹھہرے!

خیر آج اتوار کا دن ہے اور زندگی اس لیے بھی بھلی لگ رہی ہے کہ یونیورسٹی سے ہفتہ بھر کی چھٹیاں ہیں۔ موسم بہت خوشگوار ہے۔ گرما کی آمد آمد ہے اور بہار کا چرچا ہے۔ پتوں اور پھولوں کی ہواؤں میں رنگا رنگ مہک ہے۔ حسین نے کہا کہ موسم کی مناسبت سے پرانے لاہور کی گلیاں چھانتے ہیں۔ ان کا کہا بھلا کہاں ٹال سکتی ہوں، اتنے پیار سے مناتے ہیں کہ بخدا تبسم کو بھی شرم آ جائے۔ تبھی ہم دونوں نے رخت سفر باندھا اور بائیک پہ نکل پڑے۔

راستے میں موسم کی ٹھنڈی ہوائیں ہمارے مزاج میں سرایت کرتی رہیں۔ اندرون لاہور شروع ہوا اور پرانی عمارتوں نے پرکھوں کی یاد دلا دی۔ سب سے پہلے مسجد وزیر خان ٹھہرے اور مسجد کی برسوں پرانی دیواروں کا نقشہ کھینچا۔ یہ مسجد نقش و نگار میں کاریگری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ علم الدین انصاری جو عام طور پر نواب وزیر خان کے نام سے جانے جاتے ہیں، سلطنت مغلیہ کے عہد شاہجہانی میں لاہور شہر کے گورنر تھے اور یہ مسجد انہی کے نام سے منسوب ہے۔

مسجد کے بیرونی حصے میں ایک گیلری موجود ہے جہاں پاکستان کے مختلف علاقوں سے لوگ اپنے فن کی نمائش کرنے یہاں آتے ہیں۔ وہاں سے تھوڑا آگے دہلی گیٹ کے پاس شاہی حمام ہے، ادھر جانے کا قصد ہوا۔ پاکستان کے تاریخی شہر لاہور میں مغل دور کے شاہی حماموں میں باقی رہنے والا یہ آخری حمام ہے۔ ایک ہزار سے زائد مربع میٹر احاطہ پر قائم یہ ایک منزلہ عمارت 21 کمروں پر مشتمل ہے۔ غسل کے لیے گرم اور ٹھنڈے پانی کے آٹھ تالاب ہیں۔

چھتوں اور دیواروں کی چھت پر پھولوں کی شاندار پینٹنگز بنائی گئی ہیں۔ حمام میں روشنی کا واحد ذریعہ روشن دان تھے۔ 1991 میں اس عمارت کو دوبارہ سے سجایا گیا اور سیاحت کے لیے کھول دیا گیا۔ لیکن اگر کوئی دوبارہ یہاں نہانے کی خواہش کرتا ہے تو یہ خواہش ادھوری ہی رہے گی۔ حسین نے کمال فقرہ جوڑا کہ آج کا غریب بھی قدیم زمانے کے بادشاہ سے زیادہ پر آسائش زدہ ہے۔ وہاں سے چلتے چلتے دہلی گیٹ کے داہنے طرف گلی سورچن سنگھ میں جانا ہوا اور عثمان کی بیٹھک میں فیض کی غزل سے لطف اندوز ہوئے۔ گلیوں سے گزرتے ہوئے یوسفی صاحب کا وہ جملہ یاد آ گیا کہ لاہور کی بعض گلیاں ایسی تنگ ہیں کہ اگر ایک طرف سے خاتون آ رہی ہو اور دوسری طرف سے مرد، تو درمیان میں صرف نکاح کی ہی گنجائش بچتی ہے۔

وقت بہت ہو گیا تھا اور شام ہو چلی تھی، بہت سی یادیں سمیٹے ہم کھانے کو دوڑے۔ میٹھے میں آئسکریم کھائی، بلکہ نہیں ٹھہریں یاد آیا!

آئسکریم تو صرف میرے شوہر نے کھائی، میں نے تو اپنا حصہ ایک بے گھر بچی کو سونپ دیا جو پاس کھڑے حسرت سے دیکھ رہی تھی۔ جس کی آنکھوں افسردہ خوابوں میں قید تھیں۔ وہ کھٹکی، مسکرائی اور چل پڑی۔ شاید یہی اختتام ہے۔

Facebook Comments HS