دو تصویریں اور ہزار کہانیاں
کہنے کو یہ دو تصویریں ہیں
ایک تصویر میں مسلم لیگ نون کے رہنما عطا تارڑ اور مریم اورنگ زیب لائیو پریس کانفرنس کر رہے ہیں، دائیں بائیں کچھ صحافی بیٹھے ہوئے ہیں، بڑی صاف اور شفاف تصویر ہے، دوسری تصویر میں بھی پریس کانفرنس ہی ہو رہی ہے لیکن ایک ہجوم ہے، کیمرہ مینوں کا ، صحافیوں کا ، یہ پریس کانفرنس پی ٹی آئی کے ان امیدواروں کی ہے جنہیں الیکشن میں مبینہ طور پر ہرایا گیا یہ لوگ اپنے ساتھ فارم 45 کے پلندے ساتھ لے کر آئے ہیں۔
اگر ایک تصویر ہزار لفظوں پر بھاری ہے تو پھر یہ دو تصویریں کئی کہانیاں، داستانیں سنا رہی ہیں۔ کہانی کا مرکز و محور فارم 45 ہے اس فارم سے جو کہانی شروع ہوگی وہ ایک ناقابل فراموش داستان بن جائے گی، فارم 45 کے ساتھ دنیا بھر کے میڈیا کے سامنے اپنی آواز بلند کرنے والے یہ امیدوار ان فارم کی مدد سے دنیا کو اپنے حق اور سچ پر ہونے کا یقین دلائیں گے، دنیا کو باور کرائیں گے ہمارے پاس موجود یہ فارم ہماری کامیابی اور اسٹیبلشمنٹ کی شب خون کا منہ بولتا ثبوت ہے، فارم 45 سے شروع ہونے والی یہ کہانی اتنی مضبوط ہے کہ مخالف فریق اس کا دفاع نہیں کر پا رہا، دفاع کرنے بیٹھے بھی تو گنتی کے چند صحافی اور دو رہنما۔
جنہوں نے کبھی بھولے سے بھی فارم 45 کا نام نہیں لیا، جو نام لے، وہ سمجھیں کام سے گیا، سیکڑوں چہروں اور کیمروں کے ساتھ ہونے والی اس پریس کانفرنس کے جاندار ہونے کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ میڈیا نے پابندی اور روک ٹوک کے باوجود اس کانفرنس کو براہ راست نشر کیا، پاکستانی میڈیا کا اب تک کی صورتحال میں یہ پہلا بولڈ سٹیپ ہے، پہلا من چاہا فیصلہ، یوں سمجھیں پہلی بغاوت۔
میڈیا بھی اسے نظر انداز نہ کر پایا، حالانکہ اس کا توڑ کرنے کے لئے نون لیگی رہنماؤں نے سکرین پر قبضہ کرنے کی کوشش کی، لیکن سکرین بانٹنے کی ہدایات بھی کام نہ آئیں اور مجبورا میڈیا کو پی ٹی آئی کے امیدواروں کی پریس کانفرنس کو لائیو دکھانا پڑا، یہ ایک بڑی تبدیلی ہے، سچ تو یہ ہے ان دنوں تبدیلی کی ہوا ایسے چل رہی ہے جیسے کوئی آندھی یا طوفان آنے والا ہو، مولانا فضل الرحمان کے انکشافات نے سیاسی منظرنامہ ہلا کر رکھ دیا ہے، اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ گٹھ جوڑ کی بدنامی کا بار اٹھانے والی نون لیگ کے لئے مولانا کی جانب سے فاش کیے گئے راز اس چھرے کی مانند ہیں جو پیچھے سے نہیں آگے سے، رات کو نہیں دن دیہاڑے گھونپا گیا ہے۔
اتنے پردے فاش ہوچکے ہیں، بھرم ٹوٹ چکے ہیں کہ مولانا کے انکشافات کو بھی یار لوگوں نے معمول کے مطابق لیا ہے، جنہوں نے ری ایکشن دینا تھا وہ خاموش ہیں اور جو پہلے سے یہ راگ الاپ رہے تھے وہ جی اٹھے ہیں، سنا ہے مولانا ان دنوں پی ٹی آئی کو خاصے پیارے ہوچکے ہیں۔
لگے ہاتھوں ایک لطیفے کا لطف بھی اٹھا لیں۔ لطیفہ صورتحال پر فٹ بیٹھتا ہے یا نہیں، پتہ نہیں، لیکن آپ کو مزہ آئے گا، یہ یقین ہے
ایک سردار جی اپنے دوستوں کے ساتھ بغیر ٹکٹ فلم دیکھنے گئے، ان کے دوست ٹکٹ چیکر سے نظر بچا کے ہال میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے مگر سردار جی پکڑے گئے، اس پر سردار جی نے زوردار آواز لگا کر ہال میں موجود اپنے ساتھیوں سے کہا۔ ”اوئے باہر آ جاؤ ہم سب پکڑے گئے ہیں”۔
مذاق اپنی جگہ لیکن۔ یہ دو تصویریں نہیں، مستقبل کا منظرنامہ ہے۔
وہ جو کمزور تھے، راندہ درگاہ تھے۔ طاقتور بننے جا رہے ہیں، صاحب کے مشیر ہوا چاہتے ہیں، اور جو طاقتور تھے وہ کمزور اور خالی ہاتھ ہونے جا رہے ہیں۔ خالی ہاتھ تو وہ کب کے ہوچکے اب بس اعلان ہونا باقی ہے۔ دیکھئے کب ہوتا ہے۔ اور ہاں، یاد رکھئے گا، یہ اعلان مکمل پریس کانفرنس کی صورت میں دھوم دھام سے ہو گا، اور وہ پریس کانفرنس دھڑلے سے پاکستانی اور انٹرنیشنل میڈیا پر نشر کی جائے گی۔


