کچھ الٹا سلٹا لکھیں یوں سب سیدھا سیدھا ہو جائے


میں نے آج اک کتاب آ مین سرچ فارمیننگ شروع کرنے کا ارادہ کیا تو وقت میسر ہونے پر کمرے کا رخ کر لیا۔ میں نے سن رکھا تھا کہ یہ کتاب ہولوکاسٹ کے دوران اک قیدی کی روئیداد ہے جس نے اپنی قید کے دوران یہ جانا کے زندہ رہنے کے لئے مقصد حیات کی ضرورت ہوتی ہے اور اگر کسی انسان کے پاس ایسا کوئی مقصد حیات موجود ہے تو وہ کٹھن سے کٹھن حالات سے آسانی سے گزر جائے گا کیونکہ اس کا تمام دھیان اس مقصد کو حاصل کرنے کی طرف ہو گا۔

میں جس مقصد کے لئے کمرے میں داخل ہوا تھا جیسے ہی کتاب اٹھائی تو مجھ پر یہ آشکار ہوا کہ گھر میں موجود دو ننھے فنکاروں نے اس کتاب کہ سرورق پر کچھ فنکاریاں کی ہوئی تھیں۔ دو ننھی مصنفین نے مجھے اس کتاب کا کچھ اور ہی مطلب و مفہوم سمجھا کر میرے دل کی دنیا بدل ڈالی۔

میرے لئے اس وقت سوال یہ نہ تھا کہ یہ گھس بیٹھیے کس وقت اس کمرے میں آئے اور کیسے اس واردات کو انجام دیا اور پھر اپنی رائے کو کتاب کے پنوں پر رقم کر کے خاموشی سے چل دیے کہ میں نے اپنے اس ننھے سے کتب خانے کو کبھی علاقہ غیر بنانے کا اعلان کیا ہی نہ تھا۔

وہ ننھی مصنفین مجھے زندگی کا کچھ الگ ہی مفہوم سمجھا کر چلی گئیں تھیں۔ مجھے حیرانی یہ تھی کہ ان ننھے لکھاریوں نے اس بات کا بھی خیال رکھا تھا کہ خالی صفحے پر ہی اپنے حق آزادی اظہار رائے دہی کو استعمال میں لایا جائے اور کتاب کے ان پنوں پر کچھ رقم کیا جائے جو ابھی تک کورے ہیں۔ ورنہ ہمارے ہاں تو اکثر اہل علم نے میرے اس ملک کی دیواروں کو علم ادب کا مرکز بنا رکھا ہے وہاں نقش گری کی وہ مثال قائم کردی ہے کے کوئی بھی ذی شعور انسان اگر ان رنگوں میں ڈوب جائے تو شرم سے پانی پانی سا ہو جائے۔

بہرحال چھوڑیں بات کہیں اور چلے جائے گی واپس ان ننھے لکھاریوں کی طرف لوٹ آتے ہیں۔ ان ننھے لکھاریوں نے اک الگ زاویے سے اپنے قلم کی نوک سے قرطاس پر کچھ ہندسوں کو لے کر جمع، تفریق، ضرب و تقسیم کرنے کی کوشش کی تھی۔ حساب کتاب لگانے کا ایک ایسا تخمینہ جو کم از کم میری نظر میں تو بالکل ہی نرالا تھا۔ ان کی طرف سے اس حساب کتاب کے گورکھ دھندے کو بالکل ہی ایک نئی جدت دینے کی کوشش کی گئی تھی۔

جو ریاضی کی مشق ان ننھی قلم کاروں کی طرف سے کی گئی تھی وہ کچھ اس طرح سے تھی۔
4+9-5=23
40+20÷5=120
Ɛ+ 44۔ 13 = 73

ایک بات تو ان کے حساب کتاب سے واضح تھی کہ وہ اکثریت کی نظر سے اس دنیا کو دیکھنے کی قائل ہرگز نہ تھیں۔ ان کا اپنا ایک الگ ہی نکتہ نظر تھا جو کہ ان کو ہم سب سے ممتاز کر رہا تھا۔ ان کے نکتہ کے چند نکات کچھ یوں تھے۔ اول نکتہ تو یہ کہ ان کی ہر مساوات میں جمع و ضرب کا اختتام آخر کار جاکر تقسیم و تفریق پر ہی ہو رہا تھا۔ شاید ان کے نزدیک زندگی بس ہندسوں کو جمع و ضرب کرنے کا نام ہی نہیں تھا بلکہ اس میں ان جمع شدہ ہندسوں کی تقسیم و تفریق بھی اتنا ہی ضروری تھی جتنا کہ ان ہندسوں کو جمع و ضرب کرنا ضروری تھا۔

میں حساب کتاب کا بندہ ہوں، سو یہی سبب ہے کہ میں ان ریاضی کے ہندسوں کو اب تک ایک ہی زاویے سے دیکھتا آیا ہوں۔ جس کے سبب میری زندگی کا مقصد مال و زر کا حصول بن گیا ہے۔ شاید یہی سبب ہے کہ اب کہیں ہندسوں کو جمع کرنے کا طمع مجھے پریشان کیے دے رہا ہے تو کہیں میں ان ہندسوں کو ضرب دینے کی فکر میں شیخ چلی بن کر خوابوں کی دنیا میں سونے کی اینٹوں کے انبار لگاتا ہوا نظر آتا ہوں۔

حد تو یہ کہ ان ہندسوں کو جمع و ضرب کرتے ہوئے میں اکثر یہ بھول جاتا ہوں کہ میری اس ریاضی کے قاعدے میں کہیں تفریق و تقسیم کی علامت بھی موجود ہیں کہ جن کو استعمال میں لائے بنا میرے لئے اس زندگی کے اصل مفہوم کو سمجھنا تقریباً ناممکن ہے۔ اس بات کا ادراک کرلینا کہ زندگی کی اس بیلنس شیٹ کو مساوی بنانے کے لئے زندگی میں جمع شدہ ہندسوں کا انبار لگانے کے بجائے ان کی تقسیم و تفریق بھی بہت ضروری ہے۔ میرے اس حساب کتاب کے چکر نے اس معاشرے کا ستیا ناس ہی کر کے رکھ دیا ہے۔ کیا کریں صاحب ہوش بھی آیا تو کیا آیا کہ جب میری جان نرخرے تک پہنچ گئی ہے۔

دوسرا نکتے کی طرف دیکھا جائے تو ان ہندسوں کی تقسیم و تفریق کے باوجود بھی ان کا حاصل میرے اس حاصل سے کہیں زیادہ تھا جو کہ میں نے اپنی زندگی بھر کے لئے جمع کر رکھا تھا۔ شاید ان معصوم پریوں کے چہروں پر موجود اطمینان اور ان کی مسکراہٹ اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ اطمینان و خوشی کا تعلق تقسیم و تفریق کی برکت سے ہے ناکہ ہندسوں کو جمع و ضرب دے کر ان کا انبار لگا کر رکھنے سے ہے۔

ان کی کھینچی ہوئی سطور میں تیسرا نکتہ یہ بھی سمجھ آیا کہ زندگی کے مفہوم کو سمجھنے کہ لئے گوگل و تدریسی کتب کا استعمال ہی کافی نہیں ہوتا ہے کہ اس کے بعد میں نے الٹا لکھا ہوا تین ان تدریسی کتابوں و گوگل میں تلاش کرنے کی اپنے تئیں ہر ممکن کوشش کر کے دیکھ لی مگر مجھے وہ الٹا تین کہیں دستیاب نہ ہو سکا۔ یہ ان کلاکاروں کی ہی کلاکاریاں ہیں کہ اس کو لکھ پائیں ورنہ میں تو اپنے کی بورڈ پر اس ہندسے کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے کچھ تھک سا گیا ہوں۔

Facebook Comments HS