معلومات، علم اور دانش

اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم معلومات کی دنیا میں رہ رہے ہیں۔ ہمیں ہر موضوع پر ہر لمحے معلومات کا خزانہ مہیا ہے۔ یہ تمام معلومات صرف اور صرف ایک کلک پر موجود ہیں۔ ہم میں سے اکثر اس معلومات کو کسی نہ کسی انداز میں استعمال کر رہے ہیں انفوٹینمنٹ آج کا مشہور ترین طریقہ کار ہے۔ لیکن کئی دن ایک سوال میرے ذہن میں آ رہا ہے اتنی معلومات کے دور میں لوگ زیادہ جذباتی تقسیم اور تشدد پسند ہو گئے ہیں۔ اس کی کیا وجہ آئیں دیکھتے ہیں۔
کیا ہم نے معلومات کو علم اور دانش کا درجہ تو نہیں دے دیا کہ ہم سمجھنے لگے ہیں کہ ہمارے پاس کیونکہ معلومات مہیا ہیں تو ہم عقل کل بن گئے ہیں اور کسی اور کی بات سننے کو تیار نہیں۔ میرے نزدیک چیٹ جی پی ٹی کے دور میں ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ معلومات ایک بیرونی محرک ہے جو آپ کو سوشل میڈیا، کتابیں، میڈیا یا کسی اور عمل کے ذریعے مل جاتی ہیں۔ لیکن علم اور دانش انسان کا اندورنی عمل ہے جس کے ذریعے وہ ان معلومات کو علم میں اور بعد میں دانش میں تبدیل کرتا ہے۔
علم وہ طریقہ کار ہے جس کے ذریعے انسان معلومات کو نظریے، فلسفے اور عقائد کی روشنی میں چھان پھٹک کرتا ہے اور معلومات کے ذریعے کسی بھی معاملہ کو سمجھتا ہے اور اپنی رائے قائم کرتا ہے یہ علم کہلاتا ہے۔ پھر اس علم کی روشنی میں جب اپنی زندگی میں جب فیصلے کرتا ہے تو اس کو دانش کہتے ہیں۔ اس سارے عمل کو آپ ریٹرو سپیکشن کہتے ہیں۔ جب انسان اس عمل سے بار بار گزارتا ہے تو اس کو معلوم ہوتا ہے کہ کوئی بھی معلومات جو انسان کو دی جاتی ہے وہ کسی نہ کسی نظریے جماعت یا عقیدہ سے جڑی ہوتی ہے اور یہ بھی انسان کی اپنی رائے میں بھی کہیں نہ کہیں bias موجود ہوتا ہے کیونکہ بغیر bias کے انسانی ذہن کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا آخر آپ کو جب فیصلہ کرنا ہے کہ تو کسی ایک شے کو دوسری شے پر ترجیح دینی ہوگی پھر جا کر آپ کسی فیصلے پر پہنچیں گے ۔
absolute rationality نامی کسی شے کا وجود نہیں ہوتا۔ انسان کی دانش کی معراج یہ ہے کہ نہ صرف وہ اپنی رائے میں موجود تعصب کو پہچان سکے بلکہ جو رائے اس کے سامنے پیش کی جائے اس میں موجود تعصب کے ساتھ نہ صرف اس کو قبول کرے بلکہ غور بھی کرے۔ جب انسان میں دانش پیدا ہوتی ہے تو اس میں نرمی، قبولیت اور برداشت پیدا ہوتی ہے۔ وقت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنے آپ پر کام کریں چیٹ جی پی ٹی انٹرنیٹ سے معلومات لیں مگر علم اور دانش حاصل کرنے کے لیے اپنے اندر جھانکیں اور اپنے آپ کو وقت دیں تاکہ معلومات علم میں اور پھر دانش میں تبدیل ہو سکے۔

