پاکستان پیپلز پارٹی لاہور سے کیوں ہاری؟


لاہور الیکشن ہارنے کی وجہ سب نے لکھی اصل وجہ پاکستان پیپلز پارٹی لاہور کا الیکشن اس دن ہار گئی تھی جس دن بلاول ہاؤس شہر سے دور بحریہ ٹاؤن میں بنا کر ( ننگ پیری ) ( مڈل کلاس ) ( موٹر سائیکل ) ( سائیکل ) ( رکشوں ) پر آنے جانے والے جیالوں کو اپنے سے کوسوں دور کر کہ ڈرائنگ روم کی سیاست کو فروغ دیا لینڈ کروز مافیا نے بڑی پلاننگ سے لاہور کی گلیوں سے اٹھا کر قیادت کو وی آئی پی حصار میں پھنسا لیا۔ میں اس پر پہلے بھی لکھا لیکن یہاں ہر کوئی چیئرمین صاحب کا ماما تو بنا ہوا ہے لیکن مامے اپنے بھانجے کا مستقبل مضبوط کرنے کی بجائے کمزور کرتے رہتے ہیں کیا اچھا ہوتا کہ لکھنے والے چھوٹے بڑے لکھاری مسلسل کسی شخصیت پر لکھ کر خوشامد کرنے اور دوسروں کے کپڑے اتار کر نمبر بنوانے کے چکر سے نکل کر اور سوشل تو کبھی ڈیجیٹل میڈیا پر پیسے کی لالچ میں اپنے ہی ورکر کو نیچا دکھانے کی جستجو میں لگے رہنے والے تنخواہ دار ننگ پیری غریب غرباء کسانوں ورکرز مڈل کلاس حقیقی جیالوں کی آواز بن کر ان کے حق میں لکھتے تو آج قیادت اپنی عوام اپنے ورکرز میں موجود ہوتی اور کسی مولوی کسی ایجنسی کسی لیگی یا انصافی کی اتنی جرات نہ ہوتی کہ وہ پنجاب میں یہ تاثر دیتے کہ زرداری کھا گیا، پی پی کافر جماعت ہے۔ مسٹر ٹین پرسنٹ یا محترمہ کی شہادت کا ذمہ پاکستان پیپلز پارٹی کو نہ ٹھہراتی۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی بد قسمتی ہے کہ جس دن سے لاہور میں بلاول ہاؤس بنوایا اس دن سے آخر دن تک ملک ریاض نامی بندے کی مہر لگ گئی جس کی وجہ سے عوام کو یہ تاثر دیا گیا کہ یہ بلاول ہاؤس بلاول بھٹو کو گفٹ ملا ہے جس گفٹ کے بدلے بحریہ ٹاؤن والوں نے اپنے بیشتر ناجائز کام صدر زرداری کے دور حکومت میں آسانی سے کروائے جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے کیونکہ زرداری فیملی نے بلاول ہاؤس کی مکمل رقم ادا کی۔

حال ہی میں اعلی قیادت کی طرف سے بلاول ہاؤس کو لاہور کی تنگ گلیوں میں منتقل کرنے کا بھی اعلان کیا گیا جس سے مزدور طبقے کے ورکرز میں کافی خوشی دیکھنے کو ملی لیکن اس کے بعد بھی اس پر کوئی عمل نہ ہو سکا جن لوگوں کو سہولیات میسر تھیں یا ہیں انہوں نے ذاتی تعلقات کو ترجیح دیتے ہوئے سب او کے کی رپورٹ دی۔ اس تنخواہ دار طبقے کو اسی شرط پر مائیک پکڑایا جاتا کہ اس کو مائیک تک لے جانے والوں کے کہے اور لکھے الفاظ ہی وہاں بولے جائیں۔

اسی ڈکٹیشن کی وجہ سے عوامی پارٹی کا عوامی لیڈر اپنے پنجاب کی عوام سے کوسوں دور رہا۔ چیئرمین بلاول بھٹو کو اب خود ان سب معاملات کی نگرانی کرنی چاہیے کیونکہ پنجاب میں الیکشن کے بات جو حالات ہیں وہ واضح منظر پر ہیں اس لیے ادھر ادھر کی باتوں پر توجہ یا سننے کی بجائے میرٹ اور کارگردگی پر فیصلے کیے جائیں تاکہ پارٹی میں نئی نسل نئی سوچ نئی جان ڈال سکیں اگر بلاول بھٹو کو پنجاب کا معرکہ اپنے نام کرنے کے لئے لاہور میں بیٹھنا ہے تو ان کو چاہیے اس چھوٹے طبقے کے جیالے کی فریاد کو مد نظر رکھتے ہوئے بلاول ہاؤس لاہور کو بیچ کر اس سے جان چھڑوا لینی چاہیے اور بلاول ہاؤس کو شہر کے اندر بنا کر ورکرز و جیالوں کو آسانی دے جائے تاکہ وہ جب چاہیں ان کے لئے بلاول ہاؤس آنا جانا آسان ہو۔

جئے بلاول بھٹو بینظیر


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments