پاکستانی سرحدی بستی جیونی
جیونی جسے مقامی لوگ جیمڑی بھی کہتے ہیں۔ پاکستان اور ایران کے سرحد پر واقع ہے۔ جیونی سے ایران کا سمندری فاصلہ محض نصف گھنٹے کا ہے۔ جیونی میں جنگ عظیم دوئم کی باقیات آج بھی مو جود ہیں۔ آزادی کے وقت انگریز جیونی کو ہانک کانگ کی طرز پر پٹے پر لینا چاہتے تھے۔ لیکن خان آف قلات اور انگریزوں کے درمیان بات نہ بن سکی۔ جیونی ضلع گوادر کا ایک خوبصورت قصبہ ہے۔ مکران کا سب سے قدیم ائر پورٹ جیونی میں ہے۔ انگریزوں کے جنگ عظیم دوئم کے بیس کیمپ آج بھی موجود ہیں جو اب پاکستانی فورسز کے تصرف میں ہیں۔ جیونی میں اس وقت بجلی تھی، جب پورے مکران میں بجلی کا تصور محال تھا۔ جنگ عظیم کے دوران اتحادی جہاز ایندھن بھرنے کے لئے جیونی کے ائر پورٹ پر اترتے تھے۔
اس زمانے میں انگریزوں نے بہت سے تعمیراتی کام کیے ، جس کی سبب اس زمانے کے مقامی لوگوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا ہوئے۔ دور دراز علاقوں کے لوگوں نے مزدوری کے لئے جیونی کا رخ کیا۔ آزادی سے پہلے جیونی ہور (بے ) میں انگریزوں نے جنگ کی مناسبت سے بہت سے تعمیرات کیں ، جو اب بھی موجود ہیں۔ جیونی ہور (بے ) میں ہوائی جہاز جو پانی میں اترنے کی صلاحیت رکھتے تھے جنگ عظیم کے زمانے میں متواتر اترتے تھے۔ جنگ عظیم دوئم کے زمانے اتحادی افواج کا بیس کیمپ جیونی میں تھا۔ اب بھی جنگ عظیم کے زمانے کے عمارتیں، تالاب وغیرہ موجود ہیں۔
جیونی سندھو ساگر یا بحیرہ عرب کے ساحلوں کے ساتھ منسلک ایک خوبصورت بندرگاہ ہے۔ جیونی کی مشرق میں مشہور پک نک پوائنٹ دران ہے۔ دران جیونی کی مشرقی طرف گنز تک پھیلا ہوا ہے۔ دران میں خوبصورت بیچ ہیں۔ دران پہاڑوں، کھیتوں اور سمندر کے امتزاج سے ایک خوبصورت منظر پیش کرتا ہے۔ دران میں میٹھے پانی کے کنویں ہیں۔ ان کنووں میں ایک کنواں ایسا بھی ہے کہ کہا جاتا ہے کہ سکندر اعظم کی فوج کا وہ دستہ جو واپس یونان کی طرف جا رہا تھا۔ اس کے سپاہیوں نے یہ کنواں کھودا تھا۔
دران کے مختلف مقامات میں پکنک پوائنٹ ہیں۔ دران میں سورج کے غروب ہونے کا منظر نہایت ہی دلکش ہے۔ سمندر میں موجوں کی آواز سے موسیقی کی آواز پیدا ہوتی ہے۔
دران میں بحیرہ عرب میں دور دور سے بحری جہازوں، لانچوں، چھوٹے بڑے کشتیوں اور اسپیڈ بوٹوں کی مشرق سے مغرب اور مغرب سے مشرق جانے آنے کی دلکش نظارہ دیکھ سکتے ہیں۔ دران کی قدرتی خوبصورتی کی سبب لوگ دور دراز مقامات سے آ کر پکنک مناتے ہیں۔ دران میں لوگ مچھلیوں کا بھی شکار کرتے ہیں۔
جیونی ایک خوبصورت جزیرہ نما قصبہ ہے۔ یہاں پر بارش کے بعد کاشت کاری بھی کی جاتی ہے۔ سرسبز کھیت جیونی کی خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں۔ بحیرہ عرب کی وجہ سے جیونی بھارت، ایران، اومان، سری لنکا، یمن، صومالیہ اور مالدیپ سے جڑا ہوا ہے۔ ایک زمانے میں جیونی کی بندرگاہ سے بادبانی جہاز جسے اس وقت سفری کہتے تھے پوری دنیا کے لئے نکلتے تھے۔
دریائے دشت کا پانی جیونی کے مقام سے سمندر میں گرتا ہے۔ جس جگہ کھارے اور میٹھے پانی کا ملاپ ہوتا ہے، وہاں پر تمر کے جنگلات ہیں۔ یہ مقام مچھلیوں کی افزائش نسل کے لئے ایک بہترین نرسری کا کام سرانجام دیتا ہے۔
جب پہلے ضلع گوادر میں جیٹی نہیں تھی، تو جیونی بے میں قرب جوار کے بڑے بڑے لانچ لنگر انداز ہوتے تھے۔
جیونی کے ساحل پر کچھووں کی ایک ایسی نسل پائی جاتی ہے، جو پوری دنیا میں معدوم ہو رہی ہے۔ کچھووں کی اس نسل کو بچانے کے لئے ڈبلیو ڈبلیو ایف یہاں پر کام کرہاً ہے۔
جیونی میں سورج غروب ہونے کے منظر دیکھنے کے لئے پورے پاکستان سے سیاح آتے ہیں۔ سورج غروب ہونے کا منظر دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ روایت ہے کہ ملکہ وکٹوریہ اس منظر دیکھنے کا خواہش مند تھا۔ اس سلسلے میں جیونی کی مضافات میں بندری کے مقام پر ایک ہٹ تعمیر کیا گیا ہے ہٹ اب بھی وکٹورین ہٹ کے نام پر موجود ہے۔
جیونی میں کنٹانی ہور پورے بلوچستان کے لوگوں کے روزگار کا سبب ہے۔ یہاں سے ایرانی تیل اور دیگر ضروریات زندگی کا کاروبار ہوتا ہے۔ یہاں پر سینکڑوں گاڑیاں اور مزدور کام کرتے ہیں۔
پاکستانی اور ایرانی بارڈر جیونی کے مقام پر ملتے ہیں۔ یہاں سے پورے پاکستان کے زائرین ایران میں زیارت کے لئے جاتے ہیں۔ پاکستان اور ایران کے باہمی تجارت بھی یہی سے ہوتی ہے۔ تفتان باڈر کے بعد ایران پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی باڈر یہی ہے۔
جیونی کا موسم پورے اس خطے کے موسم سے خوشگوار ہے۔ جیونی متعدد پک نک پوائنٹ اور تفریحی مقامات ہیں۔ ان میں ایک مشہور جگہ گریان ہے، جہاں پر لوگ مچھلیوں کا شکار کرتے ہیں۔
جیونی کو قدرت نے بہت خوبصورت بنایا ہے حکومت کی عدم توجہی سے اس خوبصورت بستی کی قدرتی حسن تیزی سے زوال پذیر ہے۔ جب بھی کسی بستی میں تعمیراتی منصوبہ بندی نہ ہو، اس علاقے کی تفریحی مقامات آہستہ آہستہ ختم ہو جاتے ہیں۔ جیونی کی جو قدرتی خوبصورتی ہے، وہ تیزی سے ختم ہو رہی ہے


