یونی ورسٹی کی ایک کہانی
بچپن سے ہی مزاجاً سست روی کا شکار تھا۔ ہوش سنبھالنے کے بعد گھر کے پیچھے لگے درخت کی نیچے لیٹ کر میں یہی سوچتا رہتا تھا کہ دنیا کا وہ کون سا کام ہے جو میں کروں تو مجھے محنت کم کرنی ہو گی اور عزت زیادہ ملے گی۔ اور اس سے گزر بسر بھی ہو جائی گی۔ کیونکہ بچپن میں ابو محنت اور عزت پر کافی بڑے لکچر دیا کرتے تھے۔ کافی سوچ بچار، اور سنگت ساتھیوں سے مشورے کے بعد قلم اٹھانے کا سوچ لیا۔ کیونکہ میں سمجھتا تھا کہ قلم کا کام دنیا کا واحد کام ہے جس کے ذریعے بآسانی انسانیت کی اصلاح کی جا سکتی ہے۔ اور یہ نیک کام گھر کی کسی خاموش کونے پر بیٹھ کر سرانجام دیا جا سکتا ہے۔ اور ساتھ میں روزی روٹی کا بندوبست بھی ہو جائے گا۔
مگر کچھ تحریریں لکھنے کے بعد مجھے انداز ہوا کہ آج کے قاری کو قلم کی نیلی روشنائی سے لکھا صرف کالا جھوٹ پسند ہے۔ آج جب تنہائی میں بھی کچھ سچ لکھنے کے لیے قلم اٹھاتا ہوں، تو اس وحشی قاری کی سرخ آنکھیں نظر آنی لگتی ہیں۔ آج مجھے ہر بات کو لکھنے سے پہلے ملک کی ساکھ کو دیکھنا پڑتا ہے کہ کہیں اس قلم سے ملک کی باونڈری کو کوئی نقصان تو نہیں پہنچ رہا؟
ساتھ ہی برادری کو بھی ذہن میں لاتا ہوں۔ اس کے بعد اپنی جان کا تحفظ یقینی بناتا ہوں۔ اور اپنے محبوب کی طبیعت کا جائز لیتا ہوں۔ جب میرا ایک خیال اتنی تنگ گلیوں سے گزرتا ہے تو آپ ہی فیصلہ کریں کیا میں اپنے خیالات اور جذبات کے ساتھ کتنا انصاف کر پاتا ہوں! ۔ کیا کوئی لکھاری آزادی کے ساتھ کچھ کر لکھ رہا ہے؟ کیا اب کے دور کا کوئی مصنف جھوٹ سے ماورا ہو سکتا ہے؟ اب تو حالت یہ ہو گئی کہ اب ہم اپنے جذبات کا اظہار کرنے سے کتراتے ہیں۔ حالانکہ کہ جذبات تو پاک ہوتے ہیں۔
مجھے یاد پڑتا ہے ایک دفعہ تحریری طور پر اپنے جذبات کا اظہار کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس وجہ سے کئی عرصہ تک مشکل میں گھرا رہا ہوں۔ اب حالت یہ ہوگی کہ اب صرف تحریروں میں ہنستا اور روتا ہوں، ویسے مجھے یاد نہیں، آخری دفعہ کب اصل میں جی بھر کر ہنسا ہوں گا۔ شاید کوئٹہ کی لیاقت مارکیٹ میں مندر کے سامنے والے ہوٹل میں، جب ہمارا ایک دوست بلیک ویگو کے ڈر کے مارے دکانداروں کی حرکات، کو ڈرامائی انداز میں فلم بند کر کے دکھا رہا تھا، یا پھر اپنے دوست کے پاسنگ آؤٹ والے دن اور آخری دفعہ رونا بھی یاد نہیں، کہ کب رویا ہوں۔
بابائے سچ کہتے تھے کہ جب تم اس دنیا کی حقیقت اور لوگوں کی راویوں کو سمجھ جاؤ گے تو تمہارے مزاج میں تبدیلی آنی شروع ہو جائے گی۔ میں بھی کچھ یوں لگ رہا ہے کہ میرے ہنسنے اور رونے کا بند ہونا ایک تو وقت سے پہلے آگہی اور دوسرا لوگوں کا رویہ۔ جذبات کی بیان کرنے کے انداز میں غلطی انسان سے ہو سکتی ہے۔ مگر اس ایک غلطی کو لے کر صبح شام کسی کو ذہنی اذیت میں مبتلا رکھنا، کچھ اچھا نہیں ہوتا۔ ہماری پہلی لڑائی، یونی ورسٹی میں داخل ہونے کے تین ہفتے بعد ہو گئی تھی، اور پھر کسی حد تک چیزیں معمول پر چلنے لگی مگر ایک دفعہ پھر لڑ پڑے اور آخری دفعہ رمضان کو لڑے تھے۔
کچھ دن بعد اس واقعہ کو دو سال پورے ہوجائیں گے، مگر حالات ہیں بدلنے کا نام تک نہیں لیتے۔ کیونکہ جس دنیا وہ رہتی ہیں، اس فرضی دنیا سے کوسوں دور ہم ایک گاؤں میں بستے ہیں۔ کچھ دن پہلے میں گراونڈ کے کونے پہ بیٹھا اپنی منتشر خیالات کو سمیٹنے کی جستجو میں لگا تھا کہ اچانک ایک لڑکی آن ٹپکی کچھ رسمی گفتگو کرنے کے بعد کہنے لگی، ”بگٹی! تمہیں پورے اسلام آباد میں اس جیسا کوئی اور پاگل نہیں ملا؟ تم اس پے دل ہار بیٹھے ہو۔ مجھے تو تم خود پاگل لگ رہے ہو۔ تمہیں پتہ ہے کہ صرف ہماری یونیورسٹی میں پانچ ہزار اور لڑکیاں پڑھتی ہیں۔ باقی اتنے سیاسی اور ادبی حلقوں میں جاتا رہتا ہے، کوئی ادھر بھی نہیں ملا تمہیں، یہ پھر کوشش نہیں کرتے، صرف مجنوں بنے بیٹھنے کا شوق ہے“ ؟
میں چپ رہا، اور اس کی باتیں سنتا رہا، کہ کیا بتاتا اس کو کہ ہمارا ایک دوسرے سے دور رہنے کے سبب یہ نظام ہے نا کہ میری محبت میں کوئی کمی ہے۔
یونی ورسٹی کے شروع شروع کے دونوں میں دوست بھی کال کر کہ پوچھتے تھے کہ بتا بھائی کتنی لڑکیاں پھنسا لی ہیں۔ زیادہ تر کو اس سوال کے جواب میں ہنسی میں اڑا دیتا تھا، اور دل میں سوچتا کہ کیا بتاؤ کہ میں تو خود پھنسا ہوا ہوں۔ مگر پتہ نہیں ایک دن صبح ناشتہ میں ایسے کیا کھا کے نکلا تھا، کہ پہلی کلاس کے بعد ، حسب معمول ہم دھوپ سکنے برآمدے میں پہنچے تو وہ شہزادی ٹھہری ہوئی تھی، بس ایک دوسرے کو ایک نظر سے دیکھا اور منہ پھر لیے۔ مگر میں اس کو چپکے چپکے دیکھ رہا تھا اور ساتھ میں دوست سے بات بھی کر رہا تھا کہ اچانک میری منہ سے کوئی اسی بات نکلی کہ وہ ہنس پڑی۔ بس اس ایک ہنسی نے دل کے بند دریچے کھول دیے۔ مگر ساتھ ہی میں وہ بات بھول گیا۔
اگر یاد ہوتا تو آپ کو ضرور بتاتا۔ تو بس میں اس کائنات کل کا چہرہ تکتا رہ گیا۔ اس کے بعد سے مجھے اچھی خاصی خوش فہمی ہونے لگی۔ کہ میں کوئی دنیا کا سب سے بڑا مزاح نگار ہوں۔ اور کبھی یہ لگ رہا تھا کہ میں اس کار جہاں کے سارے معاملے اس ایک بات میں پورے کر گیا ہوں۔ کیونکہ اس ہنستے چہرے کو آخری دفعہ دو سال پہلے موبائل کے سکرین پر دیکھا تھا۔ بعد میں جب بھی ایک دوسرے کو دیکھا ایک نفرت بھری نظر سے دیکھا۔
اور کچھ سوال تھے۔ جن کے پوچھنے کا تجسس تو دل میں تھا۔ مگر انا آڑے آتی رہی۔ وہ رہی ایک امیر کی لاڈلی۔ اور ہم ٹھہرے گاؤں کے باسی۔ روز ایک دوسرے کو یونی ورسٹی کی کھڑکیوں سے جھانکتے ضرور تھے، مگر قریب سے گزرنا بھی ناپسند تھا۔ حقیقت تو یہ ہے روز یونی جانے کا پہلا مقصد بھی وہ شہزادی تھی۔ علم سے فیض یابی تو کہیں دوسرے نمبر پر آجاتی۔ ہاں تو بات ہو رہی تھی اپنی آزادی رائے کی۔ خیر جب آزاد ہوں گے تو رائے بھی دیں گے۔


