سعی لا حاصل کا قانون (مکمل کالم)
میرا بڑا بیٹا دانیال، ماشا اللہ انیس برس کا ہے، خاموش طبیعت کا مالک ہے، اپنے آپ میں رہتا ہے، کوئی سوال پوچھو تو اس کا مختصر ترین جواب دیتا ہے، اپنے کام سے کام رکھتا ہے اور شریف اس قدر ہے کہ ہم پریشان رہتے ہیں کہ اس کی کوئی شکایت کیوں نہیں آتی، اسکول میں مار کٹائی کیوں نہیں کرتا، سیدھا گھر کیوں آ جاتا ہے، آوارہ گردی کے لیے کیوں نہیں نکلتا! اس کا واحد مشغلہ کتابیں پڑھنا ہے، اپنا سارا جیب خرچ وہ کتابوں پر لٹا دیتا ہے اور کتابیں بھی دقیق، ضخیم اور نہ سمجھ میں آنی والی۔ نفسیات اس کا پسندیدہ موضوع ہے، شاید ہی کوئی ایسا ماہر نفسیات ہو جس کی کتاب اس نے ختم نہ کی ہو، فرائیڈ کی The Essentials of Psyco Analysis سمیت، بے خوابی کے مریضوں کے لیے یہ مجرب نسخہ ہے، رات کو اس کتاب کے دو تین صفحات پڑھتے پڑھتے بندے کو نیند آجاتی ہے۔ کل میں نے بیٹے سے کہا کہ جو کتابیں تم پڑھتے ہو ان کے متعلق ہزار بارہ سو الفاظ کا مضمون ہی لکھ دیا کرو، سال بھر میں ایسی پچاس تحریریں بھی اکٹھی ہو گئیں تو ایک منفرد کتاب بن جائے گی۔ اس پر حسب عادت اس نے توقف لیا اور جواب دیا کہ میں چاہتا ہوں کہ میری تحریر معیاری ہو، عامیانہ یا اوسط درجے کی نہ ہو، جب کوئی پڑھے تو اسے لگے کہ یہ ٹھوس اور مدلل انداز میں لکھی گئی ہے۔ اس کی بات کا جواب میں نے یوں دیا کہ پہلے دن سے کوئی بھی شخص بہترین تحریر لکھنا شروع نہیں کر دیتا، یہ مسلسل مشق ہے، جوں جوں آپ لکھتے چلے جائیں گے توں توں آپ تحریر میں پختگی اور روانی آتی جائے گی بشرطیکہ آپ معیار کے معاملے میں حساس ہوں اور اسے بہتر بنانے کی مسلسل کوشش کرتے رہیں، مگر یہ سب کچھ اسی صورت میں ممکن ہے اگر آپ لکھنے بیٹھیں گے اور اس بات کی پروا نہیں کریں گے کہ آپ کی یہ تحریریں اعلیٰ معیار کو نہ چھونے کی وجہ سے ضائع ہو رہی ہیں، اسے The Law of Wasted Efforts یعنی قانون سعی لا حاصل کہتے ہیں۔ اس نے میرے احترام میں لکھنے کی ہامی بھر لی اور یوں باپ بیٹے کی گفتگو ختم ہو گئی۔
قانون سعی لا حاصل خاصا دلچسپ ہے، اس کے بارے میں میں نے کہیں پڑھا تھا کہ شیر جب شکار کے لیے نکلتا ہے تو اسے صرف ایک چوتھائی کامیابی ملتی ہے، یعنی اگر وہ چار مرتبہ شکار کی کوشش کرے تو تین مرتبہ اسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا ہے مگر اس کے باوجود وہ کبھی ہار نہیں مانتا، نیشنل جیوگرافک کے پروگراموں میں اکثر دکھایا جاتا ہے کہ شیر کسی ہرن یا نیل گائے کے تعاقب میں جاتا ہے اور ناکام ہو کر لوٹتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ناکامی کی اس قدر بلند شرح کے باوجود شیر مسلسل شکار کی تلاش میں کیوں رہتے ہیں، کیا اس کی وجہ بھوک ہے؟ ممکن ہے ایسا ہی ہو لیکن سعی لا حاصل کا قانون کہتا ہے کہ یہ مسلسل کوشش ان کی فطرت کا حصہ ہے، یہ قانون قدرت ہے، بالکل اسی طرح جیسے مچھلی کے پچاس فیصد انڈے دیگر جانور ضائع کر دیتے ہیں، ریچھ کے آدھے بچے بلوغت سے پہلے ہی مر جاتے ہیں اور درختوں کے زیادہ تر بیج پرندے کھا جاتے ہیں۔ ان مثالوں کی بنیاد پر یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ چرند، پرند، نباتات اور فطرت کے دیگر مظاہر اس قانون برائے سعی لا حاصل کے تابع ہیں، یہ صرف انسان ہے جو ذرا سی کوشش کے بعد ہمت ہار جاتا ہے۔ کیا ایسا ہی ہے؟
ہم روزانہ مختلف لوگوں سے ملتے ہیں، ان میں کامیاب لوگ بھی ہوتے ہیں اور ناکام بھی، اوسط درجے کے ذہین بھی اور بے حد لائق فائق اور قابل بھی، لیکن یہ ضروری نہیں کہ ہر بندہ اپنی قابلیت، لیاقت اور ذہانت کے مطابق ہی کامیاب ہو، اکثر مشاہدے میں آتا ہے کہ بہت زیادہ سمارٹ آدمی بھی اتنا کامیاب نہیں ہو پاتا جتنا اسے ہونا چاہیے جبکہ اس کے برعکس ایک واجبی سی عقل اور سمجھ بوجھ والا زیادہ کامیاب نظر آتا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ ان میں سے کسی کو زندگی زیادہ موقع دیتی ہے اور کسی کو کم، مواقع ہر شخص کو لگ بھگ برابر ہی ملتے ہیں مگر یہ ضروری نہیں کہ ہر بندہ ’موقع شناس‘ بھی ہو۔ اصل میں زندگی بدلنے کا موقع جب ملتا ہے تو اکثر لوگ یہ جان ہی نہیں پاتے کہ یہ ٹرننگ پوائنٹ ہے کیونکہ ’موقع‘ کا کوئی لباس نہیں ہوتا، اس نے پینٹ شرٹ نہیں پہنی ہوتی اور وہ دروازے پر دستک دے کریہ نہیں کہتا کہ جناب والا، میرا نام موقع ہے اور میں آپ کی زندگی تبدیل کرنے آیا ہوں، براہ کرم مجھے استعمال کر لیں۔ چونکہ موقع کا کوئی لگا بندھا حلیہ نہیں ہوتا اس لیے اکثر لوگ اسے پہچان نہیں پاتے اور نظر انداز کر دیتے ہیں۔ لیکن جو لوگ موقع کو بھانپ لیتے ہیں وہ اپنی زندگی تبدیل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، چاہے ان میں عقل، ذہانت اور لیاقت میں دوسروں کی نسبت کم ہی کیوں نہ ہو۔ اور اس کی وجہ یہی قانون سعی لا حاصل ہے۔ ایسے لوگ پھر اپنے کام میں جت جاتے ہیں اور یہ پروا نہیں کرتے کہ ان کی محنت رنگ لا رہی ہے یا نہیں، کیونکہ قانون کے مطابق یہ بات فطرت میں پوشیدہ ہے کہ کسی بھی کوشش کا نتیجہ سو فیصد نہیں نکلے گا، اس میں سے ہمیشہ کچھ نہ کچھ ضائع ضرور ہو گا اور یہ ضائع شدہ کوشش پچاس فیصد تک بھی ہو سکتی ہے۔ انسان چونکہ جانوروں سے زیادہ سیانا ہے اس لیے وہ کیلکولیٹر پکڑ کر جمع تفریق میں لگ جاتا ہے اور سوچتا ہے کہ جو محنت وہ کر رہا ہے اس کا اتنا فائدہ نہیں مل رہا جتنا ملنا چاہیے لہذا یہ سعی لا حاصل ہے، اسی نکتے پر پہنچ کر زیادہ تر لوگ ہمت ہار بیٹھتے ہیں اور عصر کے وقت روزہ افطار کرلیتے ہیں۔ یہاں ایک باریک نکتہ ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ محنت ضائع ہونے سے یہ مراد ہر گز نہیں کہ جانتے بوجھتے ہوئے فضول کام میں وقت ضائع کیا جائے، اتنی سوجھ بوجھ تو بندے میں ہونی چاہیے کہ وقت کے ساتھ خود کو ڈھال لے اور اپنی محنت کی سمت درست رکھے۔
یہ قانون اپنی جگہ درست ہو گا مگر یہ بات بھی سچ ہے کہ بد قسمتی کا کوئی توڑ نہیں، دنیا کا کوئی قانون یا کلیہ ایسا نہیں جو بدقسمتی کا علاج کرسکے۔ ہم لکھاری لوگ نہایت آسانی کے ساتھ زندگی کی الجھنوں اور مشکلات کا حل کیپسول کی شکل میں بنا کر پیش کر دیتے ہیں جیسے زندگی سیلف ہیلپ کا کیپسول نگلنے سے ٹھیک ہو جائے گی۔ ایسا نہیں ہوتا۔ جس تن لاگے سو تن جانے اور نہ جانیں لوگ۔ کچھ لوگ بدقسمتی میں یقین نہیں رکھتے، میں بھی انہی لوگوں میں شامل ہوں، مگر میرے مشاہدے میں ایسے بے شمار لوگ ہیں جن کی قسمت بظاہر ان سے روٹھی ہوئی ہے، انہوں نے قانون سعی لا حاصل بھی آزما کر دیکھ لیا مگر افاقہ نہیں ہوا۔ ایسے لوگوں کے لیے شاید ہمیں کوئی نیا قانون وضع کرنا پڑے گا!


