سوشل میڈیا: یہاں پگڑی اچھلتی ہیں اسے میخانہ کہتے ہیں


سوشل میڈیا آنے کے بعد ، دنیا وہ نہیں رہی جو پہلے ہوا کرتی تھی۔ اخبارات اس سے متاثر ہو رہے ہیں، صورت حال کافی تکلیف دہ ہے۔ ساری دنیا کا علم اور پورے جہان کی خرافات لیپ ٹاپ پر موجود۔ فیس بک اور ٹویٹر کی لغویات کی طلب اس وقت بڑھ جاتی ہے جب کوئی ضروری کام کرنا ہو۔

ٹویٹر ”x“ پر مخالفین کی ٹرولنگ کا رجحان، جسے عرف عام میں گالم گلوچ کہہ سکتے ہیں، شاعر کے الفاظ میں :

یہاں پگڑی اچھلتی ہے، اسے میخانہ کہتے ہیں

فوٹو شاپ کی گئی شرمناک تصاویر پوسٹ کی جاتی ہیں۔ کسی بھی کی ٹویٹ مخالفین کی طرف سے دشنام طرازی پر مبنی جوابی ٹویٹ سے محفوظ نہیں رہتی۔ ٹویٹر پر ٹرولنگ ہو یا ٹرینڈنگ سب کچھ ایک مہم کے طور پر چلایا جاتا ہے۔ ”تبدیلی“ کی ہوا بہت سی اقدار اڑا لے گئی۔ اخلاقیات کا جنازہ دھڑلے سے نکالا جا رہا ہے۔ تہذیبی اقدار کے پاسدار اس عالم میں دل گرفتہ ہیں۔ ایسے لگتا ہے کہ ٹویٹر (ایکس ) نہیں کوئی گٹر ہے۔

جناح یونیورسٹی کی ڈین آف آرٹس (ریٹائرڈ) پروفیسر شاہدہ قاضی اسے معاشرتی تہذیب کی ترقی معکوس قرار دیتی ہیں۔ گزشتہ ایک عشرے میں سیاسی طور پر ایک طوفان بدتمیزی برپا ہوا ہے جس نے اخلاقی اقدار کو ملیا میٹ کر دیا ہے ’۔ ان کے بقول اخلاقی گراوٹ کا ذمہ دار الیکٹرانک میڈیا اور عدم برداشت کا رجحان ہے۔ ٹی وی چینلز نے ریٹنگ بڑھانے کے لیے سیاستدانوں کی آن اسکرین آپس میں بدتمیزی اور گالم گلوچ کو فروغ دیا۔ مسلسل اس طرح کی نشریات دیکھتے رہنے سے قوم کا اخلاق تباہ ہو رہا ہے۔

سوشل میڈیا کی لت میں بچے، بوڑھے سب گرفتار ہیں۔ لت سے مراد ایسا عمل ہے جسے کرنے سے آپ کی زندگی پر منفی اثرات مرتب ہوں اور حقیقت جاننے کے باوجود وہ عادت ترک کرنے سے قاصر ہوں۔ ڈاکٹر گیبر میٹ کی ریسرچ کے مطابق جب کسی کو کوئی جذباتی دھچکا پہنچتا ہے تو وہ دوسرے انسان کا سہارا ڈھونڈتا ہے اس کی جبلی خواہش ہوتی ہے کہ وہ دوسرے انسانوں سے رابطہ قائم کرے۔

ہارورڈ یونیورسٹی کے ماہرین کی تحقیق کے مطابق سوشل نیٹ ورکنگ کرنے والے شخص کے دماغ کا ایک مخصوص حصہ nucleus accumbens متحرک ہوجاتا ہے۔ یہ وہ حصہ ہے جو کہ کسی نشے جیسا کہ کوکین وغیرہ کے استعمال کے وقت متحرک ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا کا نشہ بھی، اپنی گرفت میں لیتا ہے کہ صارف اسے استعمال کرنے کے بجائے خود استعمال ہو جاتا ہے۔

اس دور میں جہاں ہر چیز برق رفتاری سے اسکرین کا حصہ بن رہی ہے، وہاں جذبات، احساسات اور خیالات بھی برقی صفحات کا حصہ بن چکے ہیں۔ کوئی مر رہا ہے تو ویڈیو، کوئی مار رہا ہے تو ویڈیو، آپ نے کیا کھایا، کیا خریدا، کیا پہنا، کہاں گھومنے گئے، کس سے ملے، کس کے ساتھ وقت گزارا۔ ہر لمحہ سیلفی کی فکر میں جیتے لوگ اتنی زندگی جی نہیں رہے، جتنی زندگی کیمرے میں قید کر رہے ہیں لائیکس، کمنٹس اور شیئرز کی گنتی میں الجھ کر اپنی اصل قیمت فراموش کر بیٹھے ہیں۔

سوشل میڈیا اور اس کا الگوردم اب ملکوں کو انتشار اور خانہ جنگی کی جانب دھکیل رہا ہے۔ پاکستان بھی ایسی صورتحال کا شکار ہے۔ اگر اس حقیقت کو بروقت نہ سمجھا گیا تو ہم بہت جلد کسی نئے فتنہ کے لپیٹ میں آ جائیں گے۔ سوشل میڈیا ”آزادی رائے“ کا پلیٹ فارم نہیں رہا بلکہ ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جس کی ہلاکت خیزی چھپانا ممکن نہیں۔ یہ ہتھیار جس طرح کنٹرول ہو رہا ہے اس سے معاشرے کی بنیادی قدروں کے بگاڑ کے ساتھ ساتھ ریاستوں کی سلامتی داؤ پر لگ چکی ہے۔

الگوردم کے اس کھیل سے ابلاغ کی دنیا کو ”ہیپناٹائز“ کر کے لوگوں کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں کو غیر محسوس انداز میں سلب کر کے ایک ابلاغی کارندے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ بظاہر یہ نظر آتا ہے کہ سوشل میڈیا پر ہر آدمی اپنی بات کر سکتا ہے اور ابلاغ پر کسی کی اجارہ داری نہیں رہی۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے اب اجارہ داری کا طریقہ واردات بدل گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر کسی ایشو کا گلا گھونٹنا، کسی کو ٹرینڈ بنانا، بنیادی طور پر اس کا فیصلہ سوشل میڈیا کے وہ ہاتھ کرتے ہیں جن میں الگوردم کی لگام ہے وہی فیصلہ کرتے ہیں کہ دنیا کیا سوچے اور کیا کرے۔

چنانچہ اسی بات پر نظر ڈال لیں جو سب کے تجربے میں ہے کہ کچھ چیزوں، افراد اور حتی کہ کچھ مظلوم ممالک کا صرف نام لکھنے سے بھی سوشل میڈیا پر پوسٹ کی ریچ کم ہو جاتی یا کردی جاتی ہے۔ سوشل میڈیا صارفین کی اوقات یہ ہے کہ فلسطین میں تیس ہزار سے زائد انسان ”دفاع“ کی بھینٹ چڑھا دیے گئے۔ ان کا مقدمہ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے مطابق ہونے کے باوجود فلسطین کا نام تک سوشل میڈیا پر ختم ہو چکا ہے۔ اب فلسطین کو الگ الگ حروف میں لکھا جاتا ہے کہ کہیں ”کمیونٹی سٹینڈرڈز“ کی پامالی کے نام پر اکاؤنٹ کی ریچ کم نہ ہو جائے۔

یہ سوشل میڈیا کی آزادی رائے، شعور اور حساسیت کی کہانی کا خلاصہ ہے۔ یعنی جن ہاتھوں میں سوشل میڈیا کی لگام ہے وہ طے کرتے ہیں کہ دوسرے کو کیا لکھیں اور کیا سوچیں؟ صارفین نے طوعاً و کر ہاً اپنی فکری اور شعوری آزادی رائے، ریٹنگ کے نام پر قربان کر دی ہے۔ ہزاروں انسانوں کا قتل عام برداشت کیا جاسکتا ہے، لیکن اکاؤنٹ کی ریچ کم ہونا گوارا نہیں۔ لائکس کی قیمت پر اپنی فکر قربان کر دی گئی ہے۔ دوسرے پر گزری قیامت کی پرواہ نہیں، ”آزادی رائے“ کو اب صرف اور صرف اپنا اکاؤنٹ بچانا مطلوب اور مقصود ہے۔ صارفین کی اس حیثیت کے بعد جو ٹرینڈز بنتے ہیں ان کی اصل حقیقت واضح ہو جاتی ہے۔

بعض موضوعات کی پوسٹس کی سپانسرنگ اور ان کا بار بار سامنے آنا، ریاست دشمن بیانیے کو چند منٹوں میں، لاکھوں لائک ملنا کیا محض حسن اتفاق ہوتا ہے؟ خفیہ فیصلہ ساز یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ کون سا بیانیہ رائج کرنا ہے۔ گوگل، فیس بک، ٹویٹر میں کون کون بیٹھا ہے جس نے یہ ”کمیونٹی سٹینڈرڈز“ مسلط کر رکھے ہیں؟ آزادی رائے کے نام پر ، ممالک کو ٹارگٹ کرنا، ان میں تخریب، انتشار اور فساد اور فتنہ کو ہوا دینے کی نہ صرف اجازت عام ہے بلکہ اس کی سرپرستی بھی کی جاتی ہے۔

دوسری جانب ان کے ممدوح ممالک بین الاقوامی قوانین پامال کریں اور انسانوں پر قیامت ڈھائیں تو اس پر بات کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ سوال یہ ہے کہ یہ آزادی رائے کوایک ایسا ہتھیار نہیں بنا دیا گیا جس کے ذریعے جس ملک میں انتشار پھیلانا ہو وہاں ایک خاص قسم کے بیانیے کو پرموٹ کیا جاتا ہے۔ پاکستان جیسے گھٹن زدہ ممالک، ابلاغی جارحیت کے لیے سازگار ہوتے ہیں۔ یہاں آزادی رائے کے حاملین نہیں، خوشامدیوں کو خلعت اور مناصب دیے جاتے ہیں۔

گھٹن زدہ معاشروں میں بظاہر بات کہنے کی آزادی ملے تو کہا جاتا ہے کہ جنم جنم کے گونگوں کو زبان تو ملی لیکن یہ معاملہ اتنا سیدھا نہیں لیکن سوشل میڈیا بند کر دینا بھی اس کا حل نہیں۔ اس سے جائز تنقید کا بھی گلہ گھونٹ دیا جائے گا۔ حکومتوں کا ٹریک ریکارڈ دیکھتے ہوئے کسی خوش فہمی کی گنجائش موجود نہیں۔ اس کے لیے ہمیں توازن کی ضرورت ہے۔ معاشرے کا خوف سے اگر گونگا ہونا عذاب ہے تو معاشرے میں آزادی رائے کے نام پر ہر چیز کی پامالی بھی ایک بڑی مصیبت ہے۔

دو انتہاؤں کے بیچ میں اعتدال ہے جسے اپنانے کی ضرورت ہے۔ ہمیں ایسے سوشل میڈیا کی ضرورت ہے جو حکومت وقت کا ”پی ٹی وی“ کی طرح ترجمان ہو اور نہ وہ کسی الگوردم کے ذریعے پاکستان میں فساد اور انتشار پھیلائے۔ سوشل میڈیا کی افادیت اور نقصانات کے درمیان ایک معتدل راستہ نکالنے کا حل اس شعبے کے ماہرین ہی بتا سکتے ہیں۔ سوشل میڈیا اور اس کا الگوردم پاکستان کو انتشار اور خانہ جنگی کی طرف دھکیل رہا ہے۔ مرض کی اس تشخیص کے بعد علاج کے لیے سب کو ایک پیچ پر آنا ہو گا ورنہ افتراق و انتشار کے اس سونامی کے زد میں آ کر ہم بہت کچھ کھودیں گے۔

Facebook Comments HS