لیاری میں این جی اوز کا کردار
اٹھارہ ایکڑ کے مختصر رقبے پر مشتمل لیاری جسے بجا طور پر کراچی کی ماں بھی کہا جاتا ہے، تاریخ کے ہر دور میں ایک نمایاں مقام کا حامل رہا ہے، سیاسی میدان ہو، ثقافتی میدان ہو، ادبی محاذ ہو، کھیل کا میدان ہو یا تعلیم کا شعبہ، اہالیان لیاری نے ہر شعبہ زندگی میں اپنا لوہا منوایا ہے۔
گزشتہ کچھ عرصے سے ایک نیا موضوع لیاری کے حوالے سے سامنے آیا ہے اور اس پر مختلف سماجی حلقوں میں بڑی بحث ہوئی ہے اور بڑے بیانات اس سلسلے میں سامنے آتے رہے ہیں، کچھ احباب نے مجھ سے بھی اس سلسلے میں تبصرہ کرنے کو کہا، میں بھی حسن اتفاق سے مختلف اوقات میں لیاری کی تعمیر و ترقی کے لئے کام کرنے والی کچھ این جی اوز سے وابستہ رہا ہوں او ر درون خانہ کی کچھ معلومات رکھتا ہوں لیکن میں اس وقت خاموش ہی رہا کہ اس پر بات کرنے کے لئے وہ وقت یا پلیٹ فارم مناسب نہیں تھے۔
لیاری کی تاریخ کے ایک سیاہ ترین دور کے بعد سے ہی لیاری یکایک قومی اور بین الاقومی این جی اوز کی توجہ کا مرکز بن گیا، باوجود اس کے کہ لیاری میں سماجی خدمت کے بے شمار ادارے ازمنۂ قدیم سے ہی مختلف علاقوں میں موجود تھے اور بہت احسن طریقے سے اپنے لوگوں کی خدمت کر رہے تھے لیکن ایک پرتشدد اور تخریبی دور میں ان سماجی انجمنوں کو سمٹنے پر مجبور کر دیا اور برائے نام ہی انجمن اس سیاہ دور میں اپنا وجود سنبھالنے میں کامیاب رہے۔
2014 کے بعد جب لیاری میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہونے لگی تو اس دور میں لیاری کے تعمیر نو کے نام پر بے شمار این جی اوز اپنی اپنی دکانیں کھول کر بیٹھ گئے، اس میں قطعی دو رائے نہیں کہ ان میں سے کچھ این جی اوز یقینی طور پر پورے خلوص سے اہالیان لیاری کی مدد کو آگے بڑھیں تھیں لیکن اکثریت ایسے این جی اوز کی تھی جنہوں نے اہالیان لیاری اور بالخصوص لیاری کے نوجوانوں کے نام پر بڑے بڑے پروجیکٹ اپنے اپنے ڈونرز ایجنسیوں سے حاصل کیے اور ان پروجیکٹ کی فنڈنگ کی بڑی خطیر رقمیں برائے نام اور دکھاوے کے منصوبوں پر خرچ کر کے بھاری رقم کما کر اپنی دکان بڑھا گئے، لیاری کا وہ نوجوان بچہ جسے لیاری سے نسبت رکھنے کے جرم میں پورے شہر کراچی میں شجر ممنوعہ قرار دیا گیا تھا، اسے جب ان نام نہاد این جی اوز نے مختلف تربیتی ورکشاپ اور ذہن سازی کے نام پر شہر کے فیشن ایبل پنج ستارہ ہوٹلوں میں شہر کی اشرافیہ سے متعارف کروایا تو ان میں سے اکثر نوجوان اپنے آپ کو سنبھال نہ سکے، گو کہ ان میں سے بہت سے نوجوانوں نے یہاں سے بہت سی مثبت چیزیں بھی حاصل کیں اور اس کے نتیجے میں وہ نہ صرف لیاری بلکہ پورے پاکستان کے نوجوانوں کے لئے ایک مثالی کردار بن کر سامنے آئے، ان میں نوروز غنی، ماریہ احمد میانجی، صبیر احمد، فہیم احمد شاد اور عبدالباسط اے بی سمیت بہت سے ایسے نوجوان ہیں تاہم کچھ بچے ایسے بھی تھے جو ہوائی قلعوں میں بیٹھ کر خیالی پلاؤ پکانے لگے اور لیاری کے دیگر نوجوانوں کو اپنے سے کم تر درجے کی ادنٰی سی مخلوق تصور کرنے لگے، یہ افراط و تفریط صرف اور صرف ان این جی اوز کی ہی دین تھی۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب اسی کی دہائی میں سیفی لین بغدادی میں شیر محمد رئیس، نادر شاہ عادل اور ن م دانش جیسی نابغہ روزگار شخصیات نے اسٹریٹ اسکول کا آغاز کیا تو ان کی تقلید میں لیاری بھر کے سماجی اور تعلیمی حلقوں میں اس قسم کے اسٹریٹ اسکول قائم ہوئے جو عموماً اپنے علاقے کی سماجی انجمنوں کے تعاون سے چلتی تھیں، راقم نے خود ایک طویل عرصے تک لیاری کے مختلف اسٹریٹ اسکولز میں تعلیمی خدمات سرانجام دیں ہیں اور ان اداروں سے بڑے باصلاحیت اور قابل فخر نوجوانوں کو نکلتے دیکھا جو آج پورے پاکستان سمیت بین الاقومی سطح پر لیاری کی پہچان ہیں، ان میں ایک نمایاں نام سہیل راہی کا نظر آتا ہے جنہوں نے ایک اسٹریٹ اسکول نہ صرف تعلیم حاصل کی بلکہ اسی اسکول میں جب بطور استاد پڑھانا شروع کیا تو ترقی کے نت نئے راستے لیاری کے نوجوانوں کو دکھائے، ان کی محنت کے نتیجے میں ایک بین الاقومی این جی او نے جب اس مقامی انجمن کے ساتھ الحاق کیا تو اس کے نتیجے میں بہت سی مثبت سرگرمیوں نے جنم لیا اور یوں ہمیں ایک ایسی باصلاحیت نوجوانوں کی پوری کھیپ ملی جنہوں نے قومی اور بین الاقومی سطح پر لیاری کا ایک روشن چہرہ پیش کیا، یہ صرف ایک سہیل راہی کی بات نہیں یقینی طور پر لیاری کے مختلف علاقوں میں ایسے بہت سے لوگ تھے جنہوں نے یہ سب کارہائے نمایاں لیاری کے سیاہ دور سے بہت پہلے سرانجام دیے۔
ہم بات کر رہے ہیں اس پرتشدد اور ہولناک سیلاب کی جو لیاری کے ان روایتی انجمنوں کو خس و خاشاک کی طرح بہا لے گیا اور آج یہ انجمنیں اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہیں، صرف اس لئے کہ لیاری کا نوجوان این جی او زدہ ہو گیا ہے، ان کی نظریں این جی اوز کی جانب سے ملنے والی پرکشش پروجیکٹ اور مراعات پر ہیں جو چند روزہ یا چند ماہی ہوتے ہیں، لیاری کا بزرگ طبقہ بھی این جی اوز کے حوالے سے کچھ پس و پیش کا شکار ہے، روایتی انجمنوں کو فروغ دینے کے بجائے بزرگوں کا ایک خاص طبقہ ان انجمنوں کو بھی مغربی انداز کے این جی اوز کی طرز پر ڈھالنے کی بات کر رہے ہیں جس میں وہ تاحال ناکام ہیں، اس کی بنیادی وجہ نوجوانوں کی عدم دلچسپی ہے اور دوسری بڑی وجہ ان انجمنوں کے پاس وسائل کی قلت ہے جن کے مقابلے میں این جی اوز مادی وسائل سے مالامال ہیں، دوسری طرف ہمارے بہت سے بزرگوں کے خیال میں لیاری کے روایتی انجمنوں کو اپنے روایتی انداز میں ہی کام کرتے رہنا چاہیے۔
ان تمام مندرجہ بالا وجوہات کو ذہن میں رکھتے ہوئے راقم اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ این جی اوز نے لیاری، ماریپور، کورنگی اور ابراہیم حیدری جیسے علاقوں کو پسماندہ کہہ کہہ کر ان کو اپنا مخصوص ہدف بنالیا ہے اور خاص طور پر لیاری کے آبادی کی ثقافتی بوقلمونی اور تنوع جو یہاں مختلف قومیتوں اور برادریوں کے ملاپ سے تشکیل پایا ہے، اس سے وہ بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں، میں یہاں کسی مخصوص این جی او کی بات نہیں کر رہا لیکن اکثریت کے مختلف منصوبوں کا حصہ رہتے ہوئے جو بات میرے مشاہدے میں آئی کہ امن و امان کے قیام میں مختلف قومیتوں کے کردار اور فرقہ ورانہ و بین المذاہب تفرقات ہی ان کے بنیادی مقاصد ہیں جن کے حصول کے لئے یہ مختلف منصوبے کمیونٹی کے اشتراک و تعاون سے پیش کرتے ہیں، آج کل اس میں ایک اور نیا موضوع صنفی تفرقات اور گھریلو تنازعات یہاں تک کہ مخنثوں کے بھی مختلف مسائل کو شامل کیا گیا ہے کہ یہ بھی معاشرتی زندگی کا اہم حصہ ہیں۔
تعلیم کے نام پر کام کرنے والی بھی بہت سی این جی اوز میدان میں ہیں جنہوں نے زیادہ تر لیاری کے قدیم اور تاریخی تعلیمی اداروں کو گود لے کر اپنے اپنے مخصوص مقاصد کے تحت کام شروع کر دیا ہے، اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے نوجوان ان این جی اوز کا حصہ بننے سے پہلے اپنے بزرگوں اور سینئر سماجی شخصیات سے صلاح و مشورہ کر کے ان مقاصد کا تجزیہ کریں اور جو اپنے کام میں مخلص اور لیاری کی ترقی کے لئے حقیقی معنوں میں بامقصد منصوبہ لے کر آئے ہیں تو ان کے ساتھ مل کر اپنے لیاری کی ترقی میں ان کے شانہ بشانہ کام کریں، اس سلسلے میں دیکھا گیا ہے کہ لیاری کے نوجوانوں نے اس پر پہلے ہی سے کام شروع کر دیا ہے اور یہاں تک کہ ان این جی اوز سے حاصل کردہ تجربے سے اپنی مقامی کمیونٹی بیسڈ آرگنائزیشن بنائی ہیں جو مختلف شعبہ ہائے زندگی میں مصروف عمل ہیں، اس سلسلے میں کرن فاؤنڈیشن اور ڈریمز آف یوتھ کی مثال قابل تقلید ہے کہ جنہوں نے اپنے اشتراک و تعاون سے لیاری میں ایک انقلاب برپا کر دیا ہے، آخر میں پھر اپنی اس بات کو دہرانا چاہوں گا کہ ابھی لیاری میں ایسے بے شمار بزرگ دانشور اور صاحب فکر و نظر لوگ موجود ہیں جن کے تجربات و مشاہدات سے نہ صرف لیاری کے نوجوان بلکہ غیر مقامی این جی اوز بھی بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔


