کیا یہی حب الوطنی ہے؟
بلاشبہ موجودہ عام انتخابات میں عمران خاں کے پیروکاروں کی کثیر تعداد ووٹ کاسٹ کرنے کے لیے نکلی اور نہ صرف پختونخوا میں واحد اکثریتی جماعت بن کر ابھری بلکہ مرکز اور پنجاب میں بھی اس کے ارکان کی قابل ذکر تعداد منتخب ہوئی۔ حسب سابق اس بار بھی دھاندلی کا شور اٹھا۔ اس شور سے قطع نظر ہمارا تحریک انصاف کی پیروی کرنے والوں سے سوال ہے کہ کیا بانی پی ٹی آئی نے اپنے دورحکومت میں یا اس سے پہلے استحکام پاکستان کی خاطر کوئی ایک قدم بھی اٹھایا؟
2013 ء کے عام انتخابات کے بعد اگست 2014 ء کا ڈی چوک اسلام آباد میں 126 روزہ دھرنا تو سبھی کو یاد ہو گا جس کی وجہ سے چینی صدر کا دورہ مؤخر ہوا اور سی پیک کا گیم چینجر منصوبہ ایک سال بعد شروع کیا جا سکا۔ اس دھرنے میں عمران خاں نے ملکی سلامتی کے خلاف جو اقدام کیے وہ اب تاریخ کا حصہ ہیں۔ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد اتحادی حکومت نے آئی ایم ایف سے رجوع کیا کیونکہ اس وقت تحریک انصاف کی غلط پالیسیوں اور کرپشن کی وجہ سے ملک ڈیفالٹ کے کنارے پہنچ چکا تھا۔
ادھر آئی ایم ایف پاکستان سے نالاں ہو چکا تھا کیونکہ تحریک انصاف کی حکومت اس سے معاہدہ کر کے مکر چکی تھی اور وہ اگلی قسط دینے کو مطلق تیار نہیں تھا۔ آئی ایم ایف کو منانے کے لیے اتحادی حکومت کو دانتوں پسینہ آ گیا اور عین اس وقت جب آئی ایم ایف اگلی قسط جاری کرنے کے لیے تیار تھی تو عمران خاں کے حکم پر سابق وزیرخزانہ شوکت ترین نے پنجاب اور پختونخوا کی تحریک انصاف کی حکومتوں کے وزرائے خزانہ کو ٹیلی فونک کال کی جو لیک ہو گئی۔
اس کال میں شوکت ترین پختونخوا اور پنجاب کے وزرائے خزانہ کو یہ ہدایات دیتے ہوئے پائے گئے کہ وہ آئی ایم ایف کو خط لکھ کر متنبہ کر دیں کہ مرکز کے ساتھ کیے گئے کسی بھی معاہدے کے وہ ذمہ دار نہیں ہوں گے۔ پختونخوا کے وزیرخزانہ تیمور جھگڑا نے تو خط لکھنے کی حامی بھر لی لیکن پنجاب کے وزیرخزانہ محسن لغاری نے شوکت ترین کو کہا کہ اس طرح سے تو پاکستان کا نقصان ہو جائے گا۔ جو اباً شوکت ترین نے کہا کہ نقصان ہوتا ہے تو ہو جائے، اتحادی حکومت نے ہمارے وزیراعظم کے ساتھ کون سا اچھا سلوک کیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا ہم مادر وطن کی سلامتی پر کسی بھی سیاسی رہنماء کو ترجیح دے سکتے ہیں؟ کیا تاریخ وطن میں کوئی ایسا سیاسی رہنماء بھی گزرا ہے جس نے یوں کھلم کھلا ملکی سلامتی کے خلاف قدم اٹھایا ہو؟ ہمارا بانی پی ٹی آئی سے کوئی جھگڑا ہے نہ نواز لیگ سے اندھی عقیدت۔ ہمیں محبت ہے تو صرف ارض وطن سے جس کی مٹی میں ہمارے لاکھوں شہیدوں کا لہو شامل ہے اور جہاں ہمارے اجداد کی قبریں ہیں۔ ہم نے ہمیشہ ”حب وطن لکھا، پڑھا اور سمجھا لیکن بدقسمتی سے اب وطن عزیز ایسی مسموم ہواؤں کی زد میں ہے جہاں“ حب وطن ”کی جگہ“ حب عمران ”نے لے لی ہے۔
2024 ء کے عام انتخابات کے بعد تحریک انصاف نے ایک دفعہ پھر ملکی بربادیوں کی داستان رقم کرنے کی کوشش کی ہے۔ پی ٹی آئی کے رہنماء علی ظفر نے کہا کہ پی ٹی آئی کے بانی عمران خاں آئی ایم ایف کو خط لکھیں گے جس میں مطالبہ کیا جائے گا کہ انتخابات میں دھاندلی کی وجہ سے پاکستان کی حمایت بند کی جائے۔ شیر افضل مروت کا یہ احمقانہ بیان بھی سامنے آیا ”آئی ایم ایف ہمارا سب کچھ طے کر رہا ہے تو الیکشن آڈٹ بھی طے کرے“ ۔
جمعہ 23 فروری کو عمران خاں نے عدالت میں میڈیا کے نمائندوں سے غیررسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا ”آئی ایم ایف کو خط لکھ دیا ہے۔ آج خط چلا گیا ہو گا۔ وہ خط اس لیے لکھا ہے کہ اگر ایسے حالات میں ملک کو قرضہ ملا تو واپس کون کرے گا؟“ ۔ حقیقت یہ کہ پاکستان کو کسی بھی نئی سہولت کی توسیع روکنے کے لیے آئی ایم ایف کو خط بھیجنے کی کوشش سے صورت حال مزید خراب ہو سکتی ہے کیونکہ اس وقت نئے قرض کی اشد ضرورت ہے۔ اس مالی بحران سے نکلنے کے لیے پاکستان کو آئی ایم ایف سے قرضے کی آخری قسط 1.9 ارب ڈالر کی اشد ضرورت ہے۔ سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ ایسا خط لکھنے سے کچھ فرق نہیں پڑے گا لیکن یہ ملک و قوم سے غداری کے مترادف ضرور ہے۔
ولسن سینٹر میں ساؤتھ ایشیا انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر مائیکل کوگلمین نے 22 فروری کو ایک بیان میں کہا ”عمران خاں کی جانب سے آئی ایم ایف کو لکھے گئے مجوزہ خط کو نظرانداز کر دیا جائے گا اور اس کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی، تاہم یہ ایک خوفناک آئیڈیا ہے“ ۔ آئی ایم ایف کی ڈائریکٹر کمیونیکیشن جولی کو زیک کو جب عمران خاں کے خط پر تبصرے کے لیے کہا گیا تو اس نے تبصرے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا آئی ایم ایف کو خط لکھنا سیاسی معاملہ ہے۔
وہ اس پر بات نہیں کریں گی۔ آئی ایم ایف پاکستان کے اندرونی سیاسی معاملات میں بیان نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا سٹینڈ بائی ارینجمنٹ کے تحت پاکستان کو 1.9 ارب ڈالر جاری ہوں گے۔ جولی کو زیک نے میڈیا بریفنگ میں کہا ”نگران حکومت کے دور میں حکام نے معاشی استحکام کو برقرار رکھا، مہنگائی قابو میں رکھنے اور زرمبادلہ بڑھانے کے لیے حکام نے سخت مانیٹری پالیسی پر عمل کیا۔ پاکستان میں میکرو اکنامک استحکام کو یقینی بنانے کے لیے نئی حکومت کے ساتھ پالیسی پر کام کرنے کے منتظر ہیں تاکہ وسیع تر اقتصادی استحکام اور پاکستانی شہریوں کی خوشحالی یقینی بنائی جائے“ ۔ جولی کو زیک نے یہ امید افزا پیغام تو دے دیا سوال مگر یہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی اس مذموم کوشش کو کس خانے میں فٹ کریں گے؟ کیا یہی نئے پاکستان کا خواب ہے، کیا یہی ریاست مدینہ ہے اور کیا یہی حب الوطنی ہے؟
تحریک انصاف نے عام انتخابات کو دھاندلی زدہ قرار دینے کے لیے ایک اور ڈرامہ سٹیج کیا۔ 17 فروری کی دوپہر پاکستان سپر لیگ کے میچوں کی تفصیل سے متعلق کمشنر راولپنڈی کی طرف سے
بلائی گئی پریس کانفرنس میں کمشنر لیاقت علی چٹھہ نے اس وقت دھماکہ کر دیا جب اس نے کہا ”میں نے راولپنڈی ڈویژن کے ہارے ہوئے امیدواروں کو 50,50 ہزار کی لیڈ میں تبدیل کر دیا۔ میں انتخابی دھاندلی کی ذمہ داری قبول کرتا ہوں اور اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کرتا ہوں۔ مجھے راولپنڈی کے کچہری چوک میں سزائے موت دی جائے“ ۔ لیاقت چٹھہ نے چیف جسٹس آف پاکستان اور چیف الیکشن کمشنر کو بھی انتخابی دھاندلی کا ذمہ دار ٹھہرایا۔
اس کے اس بیان سے پورے ملک میں کھلبلی مچ گئی۔ الیکشن کمیشن نے فوری ایکشن لیتے ہوئے انکوائری کمیٹی قائم کردی۔ حقیقت یہ کہ کمشنر کا انتخابات سے براہ راست کوئی تعلق ہی نہیں ہوتا۔ وہ ڈی آر او ہوتا ہے نہ آر اؤ۔ راولپنڈی ڈویژن کے تمام ڈی آر اوز اور آر اوز نے انکوائری کمیٹی کو بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے شفاف انتخابات کا دعویٰ کیا۔ یہ ڈرامہ 23 فروری کو اس وقت فلاپ ہوا جب لیاقت چٹھہ نے انکوائری کمیٹی کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے کہا کہ اس کا پہلا بیان صریحا غیر ذمہ دارانہ اور غلط بیانی پر مبنی تھا۔ لیاقت چٹھہ نے ایک سیاسی جماعت کے عہدیدار کے کہنے پر ایسا عمل کیا۔ یہ عہدیدار 9 مئی کے واقعات میں ملوث ہونے پر مفرور ہو گیا تھا۔ ہمارا سوال پھر وہی کہ کیا حب الوطنی اسی کا نام ہے؟


