سوڈان کی خانہ جنگی کے نتائج
سوڈان میں داخلی اختلافات کی ایک لمبی داستان ہے مگر اس کی تازہ اور بدترین شکل ایک سال پرانی ہے جب دو گروپ آپس میں محض دنیاوی طمع و لالچ میں آ کر لڑ پڑے جس سے سوڈان کا تیئا پانچہ ایک ہو گیا۔ اس ملک کی آبادی 4 کروڑ 90 لاکھ ہے جس میں سے اس وقت 2.5 کروڑ لوگ مصائب زدہ ہیں جنہیں فوری امداد کی ضرورت ہے۔ اسے انسانی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ قرار دیا جا رہا ہے۔ کم ازکم وقت میں زور زبردستی سے نکالے گئے افراد کی تعداد اس وقت تک 80 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔
امن کی کوئی صورت نظر نہیں آتی لہذا خدشات ہیں کہ یہ تعداد روزبروز بڑھتی جائے گی۔ اس سال مہاجرین کی تعداد ایک کروڑ تک پہنچ جائے گی جو انسانی تاریخ کا ایک تاریک ترین باب ہو گا۔ ریاستی عملداری ختم ہو رہی ہے، تباہی و بربادی کی داستانیں رقم ہو رہی ہیں عدم تحفظ بڑھ رہا ہے، سکول، اسپتال تباہ و برباد ہوئے، پانی کی فراہمی تھم گئی ہے، بینکنگ لگاتار لٹنے پھٹنے کے بعد اور مواصلاتی نظام یاد ماضی ہوا، اور لوگوں کی عزتیں کوچہ و بازار میں پامال ہوئیں، بھائی بھائی کا جان لیوا ہوا، موت گلی گلی رقصاں ہوئی، غربت و افلاس سب پردے فاش کر دیتی ہے اگر کوئی جائے عبرت ہے تو یہی ہے۔
اس اجڑے دیار میں کوئی شیر دلیر ہمت کرے کہ وہ کسی کی دلجوئی کرنے کی ٹھانے تو وہ بھی اکثر اسی ہلاکت خیزی کا نشانہ بن جاتا ہے۔ یہاں راج صرف بیماری کا ہے حکم صرف زور بازو کا ہے وحشت ننگی ناچ رہی ہے۔ لوگ اپنے گھر بار چھوڑنے میں کسی قدر تامل کرتے ہیں مگر جب اب کچھ لٹ رہا ہو تو یہ اقدام بہ امر مجبوری کرنا پڑتا ہے مگر شکاری خونخوار درندے انسانی عظمت و عصمت دری کے درپے ہوتے ہیں جو موقع پاتے ہی درندوں کی مانند کچی کلیاں نوچ لیتے ہیں۔
سرحد پار کرتے وقت جو مسائل درپیش ہیں ان کا ذکر بھی روح فرسا ہے جہاں بچوں، بوڑھوں اور خواتین کو نشانۂ ستم بنایا جاتا ہے۔ سفری دستاویزات کی عدم موجودگی کا بہانہ بنا کر یہ شیطان صفت افراد ان لٹے پٹے پناہ گزینوں کی بچی کچھی پونجی بھی لوٹ لیتے ہیں۔ کسی نہ کسی طور اگر کوئی سرحد پار بھی کر گیا تو ان کے مسائل حل کرنے والا کوئی نہیں بلکہ رہی سہی کسر بھی پوری کردی جاتی ہے۔ سیکورٹی کے نام پہ صدیوں پرانے رشتے ناتے بھلا دیے جاتے ہیں اور ایک عجیب سی بے حسی کا مظاہرہ کر کے ان مہاجرین کی زندگیوں میں زہر گھول دیا جاتا ہے۔
لیکن سوڈان کے غمگین و رنجیدہ مہاجرین کے مسائل کا ذمہ دار کسی ہمسایہ ملکوں کو قرار نہیں دے سکتے کیونکہ اپنی اپنی جگہ وہ حالات کے ہاتھوں ستائے ہوئے ہیں۔ ممالک جب عدم استحکام کا شکار ہو جائیں تو پھر ان کی کوئی قدر و قیمت رہ نہیں سکتی۔ پچھلے سال اپریل میں جب سے یہ خوفناک خانہ جنگی شروع ہوئی اب تک اندازہً سولہ لاکھ افراد مہاجرین بن کے دوسرے علاقوں میں آباد ہوئے ہیں یا ہمسایہ ممالک میں پناہ گزین ہوچکے ہیں۔
ماہرین سمجھتے ہیں کہ اس سال ان کی تعداد دگنا ہو سکتی ہے۔ ہجرت یا وطن بدری بڑی ظالم چیز ہے اکثر لوگ حالات کی وجہ سے ہجرت پہ مجبور ہو جاتے ہیں مگر کچھ لوگوں کو یہ راس بھی آجاتی ہے تن آسان اور خیراتی امداد کے خوگر اس کو موج مستی بھی سمجھنا شروع ہو جاتے ہیں اور وہ ایک وقت آتا ہے جب اپنے اصل دیس کی یاد بھی بھلا بیٹھتے ہیں اور یوں دربدری کے ثمرات سمیٹتے ہیں اب ذرا دیکھئے افغان مہاجرین کی کس قدر دلداری کی گئی اور جب انہیں واپس جانے کا کہا جاتا ہے تو وہ کسی نہ کسی حیلے بہانے سے پھر مڑ کر پاکستانی سرزمین کو چومنا چاہتے ہیں یہی نفسیاتی کیفیت ہر سو پائی جاتی ہے۔
بہرحال مالی و معاشی بدحالی اور خانہ جنگی کے باعث جو لوگ بھی ہجرت پہ مجبور ہوتے ہیں انسانی ہمدردی کے مستحق ہیں۔ ہماری دعا ہے کہ سوڈان میں داخلی استحکام برقرار ہو تاکہ لوگ ایک پرامن زندگی گزار سکیں۔

