سیڑھیوں کا گھن چکر


ویرانے میں کہیں ٹھکانہ نصیب ہوا۔ اپنوں سے دور، آس پاس کی دنیا سے دور، دن ایسے لمبے کہ ختم نہ ہوں، رات کو آنکھ کھل جائے تو رات لمبی، دفتری کام کاج کی کارروائی شروع ہوتی تو ختم ہونے کا نام نہ لیتی، انہی دنوں سمجھ لگی کہ ’دور‘ کے ساتھ ’دراز‘ کیوں لکھا جاتا ہے۔ کہ جو دور ہو جاتا ہے اس کے لئے باقی سب امور دراز ہو جاتے ہیں۔

سائیٹ پہ صبح صبح دعا کے بعد سبھی کو کام تفویض کر دیے جاتے، ساتھ ہی نوآموز عملے اور نئے کارکنان کو بھی کسی تجربے کار شخص کی ذمہ داری میں دے دیا جاتا کہ ان کی عملی تربیت بھی ساتھ ساتھ چلتی رہے۔ ایسے ہی ایک دن ایک سینئر سپروائزر کی ٹیم کے ساتھ ہمیں نتھی کر دیا گیا۔ لگ بھگ پون کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے کام کی جگہ پہ پہنچے تو پہلا ہی واسطہ لکڑی کی منحنی اور ضعیف سی سیڑھی سے پڑا کہ جس کی مدد سے زیر زمین جانا تھا۔

خیر جیسے تیسے کر کے نیچے اتر گئے۔ سپروائزر صاحب نے اپنے معمول کے مطابق کام شروع کر دیے۔ جو بھی وہ صاحب کرتے یا کہتے وہ تو بالکل ہی ایک الگ دنیا تھی۔ یونیورسٹی میں ایسا کچھ پڑھایا گیا تھا اور نہ ہی بتایا گیا تھا۔ بہرکیف سپروائزر صاحب انتہائی ذمہ دار، فرض شناس اور انسان دوست شخصیت کے مالک تھے۔ ہماری عملی نا اہلیت بھانپ گئے۔ اور پھر جو گر انہوں نے سکھائے وہ آج بھی کہیں نہ کہیں کسی صورت میں کام آ رہے ہیں۔

وقت کے ساتھ دور کی درازی کچھ کم ہوئی تو لاہور کے قرب و جوار ہی میں ذمہ داریوں کے دوران ایک صاحب نے اس سے ملتا جلتا ایک اور واقعہ سنایا کہ ان کے شروع کے دنوں میں بھی کچھ ایسی ہی داستان تھی۔ خاص طور پہ سیڑھیوں کے ڈیزائن اور ابتدائی مارکنگ کے حوالے سے ان کی یادیں بہت تلخ تھیں۔ سادے وقتوں میں سیڑھیاں بھی سیدھی اور سادی ہوتی تھیں۔ گاؤں دیہاتوں میں گھروں کے صحن کھلے اور کشادہ تھے تو دوسری منزل کا رواج کم تھا، وہاں لوگوں نے بانس کی سیڑھیاں رکھی ہوتی تھیں۔ شہروں میں بھی چھت پہ جانے کے لئے ایک کونے سے سیدھی سیڑھیاں اوپر کو اٹھا دی جاتی تھیں۔

پھر زمانے کی رفتار نے کروٹ بدلی، خیالات بدلے، سوچ بدلی، پہلا وار سادگی پہ ہوا۔ سادگی ختم ہوئی تو ہر چیز میں جدت آنے لگی، منفرد نظر آنے کے لئے جب ڈیزائن پیچیدہ ہونے لگے تو بھلا سیڑھی کس باغ کی مولی تھی۔ سیڑھی بھی سیدھی سے چوکور، چوکور سے گول اور پھر گول سے گول تر ہونے لگی۔ سیڑھی کی بھی عجب کہانی ہے، اس کا ہر زینہ اور ہر موڑ نفسیات کے تناظر میں کسی نہ کسی جگہ موزوں ہو ہی جاتا ہے۔ سیڑھی ہمیشہ اوپر ہی کو نہیں جاتی، کچھ سیڑھیاں نیچے بھی لے جاتی ہیں۔ طوائف کے کوٹھے اور درویش کے در کی سیڑھیوں میں بھی کچھ ایسا ہی تفاوت ہے۔ کوٹھے پہ گاہک درہم و دینار جیب میں ڈال کے سیڑھیاں چڑھتا اوپر جاتا ہے جبکہ درویش کے در پہ آنے والا اپنا درد اور دم لے کے اپنے ہی بھیتر سیڑھیاں اتر کے اپنے نہاں خانوں میں خود کی کھوج میں اترتا ہے۔

موصوف کے بڑے صاحب جان بوجھ کر کوئی نہ کوئی اہم آئٹم دفتر چھوڑ آتے اور بعد میں ان کو بھیجا جاتا کہ جائیں وہ چیز لے آئیں اور جب تک یہ پہنچتے وہ الٹا انہی کو کوستے اور سخت سست کہتے کہ اتنی دیر کیوں کی؟ اب اس کے بغیر ہی سیڑھیوں کا کام شروع کرنا پڑا۔ اور یوں ان کو سیڑھیوں کا تعمیراتی عمل سیکھنے میں بہت وقت لگ گیا۔

سیکھنے سکھانے کا عمل بھی بانٹنے اور تقسیم کرنے جیسا ہی ہے۔ اپنا علم، اپنا فن یا اپنا ہنر دوسروں میں بانٹنا، دوسروں کو سکھانا بالکل ایسے ہی ہے کہ جیسے دوسروں کو دنیاوی سرمایہ بانٹنا ہے۔ مال و دولت کی اہمیت اور ہنر کی حیثیت کسی طور بھی اک دوسرے سے کم نہیں۔ یہ دونوں ساتھ ساتھ چلتے نظر آتے ہیں۔ مال و دولت ہو تو اس کی بدولت کوئی بھی ہنر سیکھا جا سکتا ہے اور پھر اپنی محنت اور قابلیت سے اس میں مہارت اور کمال تک پہنچا جا سکتا ہے۔ دوسری طرف اگر کوئی اپنے فن میں ید طولیٰ رکھتا ہو تو اس سے نا صرف نام بلکہ مال بھی کمایا جا سکتا ہے۔ جیسے پیسے کا روک کے رکھنا مناسب نہیں ایسے ہی اپنے فن کو اپنے تک ہی محدود رکھنا بھی موزوں نہیں۔ دانائے راز فرماتے ہیں کہ جو کنواں پانی دینا چھوڑ دے وہ بالآخر خشک ہو جاتا ہے

توصیف رحمت
Latest posts by توصیف رحمت (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments