توہینِ مذہب یا مقابلہ توہینِ انسانیت


یہ بات انتہائی قابل افسوس اور باعث شرم ہے کہ توہین مذہب کے الزامات کا سہار لے کر اس ملک میں جو توہین انسانیت ہوتی ہے اس کا کچھ نہیں کیا جا سکتا۔ بھٹو کو زندہ کہنے والے ٹھیک کہتے ہیں۔ بلاسفیمی لاز والی پخ بھٹو نے ہی قانون میں ڈالی تھی اور آج تک خواص اس سے فائدہ اٹھا رہے جب کہ عوام بھگت رہے ہیں۔

ذرا چشم تصور میں دل کو لرزا دینے والا وہ دہشت ناک منظر لے کے آئیں کہ جیسے آپ مذہبی جنونی، عقل سے فارغ اور غصے سے پاگل ہجوم کے نرغے میں پھنسے ہیں اوپر سے آپ مردوں کے اس سفاک معاشرے میں ایک کمزور سی عورت ہیں اور وہ بے قابو ہجوم توہین مذہب کے الزام میں آپ کی تکہ بوٹی کرنے کے درپے ہے۔ لوگ چیخ چلا کے آپ کی قمیص اتارنے کا بول رہے ہیں۔ تو ایسے میں آپ کی حالت کیا ہو گی؟ ہر گزرتے لمحے کے بعد کیا آپ اپنی زندگی سے مایوس نہیں ہو رہے ہوں گے؟

خوف اور دہشت کے اس عالم میں آپ کا دماغ کام کرنا نہیں چھوڑے گا؟ آپ کے پورے بدن میں خوف کی سرد لہر نہیں دوڑے گی؟ کیا آپ دل ہی دل میں اپنی طرف سے آخری بار اپنی فیملی کے بارے میں نہیں سوچیں گے؟ آپ کو اپنے ارد گرد خون آشام انسان بھیڑیوں کے اس غول کی مانند نہیں لگیں گے جو اپنے شکار پر جھپٹنے کو بے چین ہو رہا ہو؟

پھر تصور کریں کہ پولیس بھی موقع پر پہنچ جاتی ہے اور مولوی صاحب بھی۔ پولیس اس وحشی ہجوم کے چنگل سے بڑی مشکل سے آپ کو نکالتی ہے مگر آپ کو بے قصور ہونے کے باوجود بر سر عام معافی مانگنا پڑتی ہے۔ جس کی ویڈیوز کچھ ہی دیر میں وائرل ہو جاتی ہے۔ اور جب آپ معافی مانگ رہے ہوتے ہیں تو ایک خدائی ٹھیکے دار آپ سے آپ کا فرقہ پوچھ رہا ہوتا ہے۔

مندرجہ بالا حالات فقط چشم تصور کا شاخسانہ نہیں بلکہ اچھرہ لاہور کے کسی فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ میں ہونے والا ایک سچا واقعہ ہے جب ایک خاتون کو عربی رسم الخط میں لکھے گئے کچھ الفاظ کو قرآنی آیات سمجھ کر وہاں موجود لوگوں نے اسے نرغے میں لے کر انتہائی بد تہذیبی و بد تمیزی کا مظاہرہ کیا اور اسے بد ترین نفسیاتی تشدد کا نشانہ بنایا۔ یہاں تک کے قمیض تک اتارنے کا کہا گیا۔ اس خاتون کی وائرل ہوئی ویڈیو کو شیئر کرنے کا حوصلہ نہیں۔

ایک ممکنہ موت اور بد ترین بدسلوکی کا خوف خاتون کے چہرے پر اس قدر عیاں ہے کہ دیکھ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ذرا دل پہ ہاتھ رکھ کے بتائیے کہ اس صورت حال سے گزرنے کے بعد آپ کی ذہنی حالت کیا ہو گی؟ کیا آپ کے دل میں اس مذہب اور اہل مذہب کے لئے نفرت کے جذبات نہیں ابھریں گے جس کی توہین کا الزام آپ پر لگایا گیا؟ کیا آپ پھر سے خوشی خوشی درندوں کے اس سماج میں زندگی گزارنا چاہیں گے جہاں ہر کوئی منہ اٹھا کا توہین توہین اور سر تن سے جدا کا نعرہ لگا کر آپ کی زندگی کا چراغ گل کر دینے کا بڑی عقیدت سے منتظر ہو؟

سوال تو یہ بھی ہیں کہ کیا کسی خاتون کی قمیض اتار کے مذہب کی ”عزت بچانا“ ٹھیک ہے یا کیا ایسے ”عزت“ بچائی جا بھی سکتی ہے؟ اس خاتون کی غلطی نہ ہوتے ہوئے بھی اس سے سر عام معافی منگوانا کس مذہب یا قانون کی کتاب میں لکھا ہے؟ اور خوف و دہشت میں گھری اس بیچاری خاتون سے یہ پوچھنا کیوں ضروری ہو گیا تھا کہ اس کا فرقہ کون سا ہے؟ پولیس نے اس ممکنہ قاتل کے خلاف کوئی کارروائی کی جو اس ویڈیو میں کہتا سنائی دیتا ہے کہ میں نے اسے گولی مار دینی تھی۔ پنجاب پولیس، جو مظاہرین پر سیدھا فائر کرنے سے بھی نہیں چوکتی، وہ بھی پاگلوں کے اس ہجوم کے آگے کیوں بے بس نظر آئی۔ یہ کیسے مذہب کے دیوانے ہیں جنہیں عربی رسم الخط میں لکھا ”حلوہ“ قرآنی آیت لگا؟

سچی بات تو یہ ہے کہ نفرت، مذہبی جنون، اور عدم برداشت کا یہ پودا سیاست دانوں نے اپنے مفادات کے لئے لگایا اور اداروں نے اپنی معتوب سیاسی جماعتوں کو سبق سکھلانے کے لئے پورے جی جان سے اس کی آبیاری کی۔ جس کے نتیجے میں اب یہ پودا ایک تن آور درخت بن چکا ہے جس کے منحوس سائے نے پورے ملک کو لپیٹ میں لے لیا ہے اور جس کی جڑیں ملک عزیز کی سرزمین میں اس قدر گہری ہیں کہ انہیں کاٹ پھینکنا تقریباً ناممکن ہے۔

ناممکن اس لئے کہ کوئی حکومت، اس مسئلے کے درست حل پر تیار نہیں اور ہر سیاسی جماعت اور ہر ادارہ مذہب کارڈ کو اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے استعمال کرتے رہنا چاہتا ہے۔ قصہ مختصر۔ اگر توفیق میسر ہو تو پاکستان سے زندہ بھاگ۔

Facebook Comments HS

مظفر حسین بخاری

ایم ایچ بخاری ڈیویلپمنٹ پروفیشنل ہیں اور ایک ملٹی لیٹرل ترقیاتی ادارے سے منسلک ہیں۔ کوہ نوردی اور تصویر کشی ان کا جنون ہے۔ مظہر کے تخلص سے شعر کہتے ہیں۔

muzzafar-hussain-bukhari has 32 posts and counting.See all posts by muzzafar-hussain-bukhari