ساڈے اسلام دا مذاق
”ساڈے اسلام دا مذاق“ (ہمارے اسلام کا مذاق) اس عنوان سے اچھرہ لاہور میں جو شدت پسندی ہوئی وہ ہماری اجتماعی نفسیات بنتی اور بڑھتی جا رہی ہے۔ اسلام کیا ان کا نہیں ہے جن کی یہ زبان ہے؟ جن پہ یہ نازل ہوا ہے؟ جن سے یہ ہم تک آیا ہے۔ ؟ جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے اور ہم مسلمان ہو کر بوکھلا گئے ہیں۔
ہر گھر سے بھٹو نکلے نہ نکلے مولوی ضرور نکل رہا ہے جو مذہبی جنونی یاجوج ماجوج پیدا کر رہا ہے جنہوں نے ہر کسی کی اصلاح کا ازخود ٹھیکا لے لیا ہے نہ صرف ٹھیکا لیا ہے بلکہ ہر وقت ہر جا ڈیوٹی موجود ہوتے ہیں۔
ایک قمیض جس پہ حلوہ لکھا ہوا تھا۔ جنونی بدووں کو بھا گئی۔
کاروبار کا سب سے اہم اصول موقع پرستی ہے جو ہم ہاتھ سے جانے ہی نہیں دیتے اور جناب ہم نے اس عورت جس نے عربی حروف یا عربی نستعلیق یا کیلی گرافی والی قمیض پہن رکھی تھی اس کو پہلے کھڑا کیا۔
بس مارنے کی تیاری کر ہی رہے تھے کہ ایک پولیس افسر شہر بانو نقوی نے اس بندی کی جان بخشی کروا دی۔ ناصرف جان بخشی کروائی بلکہ اسے قوم اور مولوی سے معافی بھی مانگنی پڑتی۔
معافی مانگنا کیوں ضروری تھا جب کہ مترجم نے بتا دیا تھا کہ یہ آیات مقدس نہیں ہیں۔ بس عربی حروف کی نقش گری ہے۔
معافی مانگنا نفسیاتی سطح پہ ضروری تھا کہ یاجوج ماجوج کا دماغ نہیں ہوتا۔ جذبات کا انبار ہوتا ہے جیسے کوڑے کا ڈھیر ہوتا ہے۔
کوڑے کے ڈھیر سے ہم کیا توقع رکھ سکتے ہیں؟
کیا یہ عورت کبھی یہ واقعہ بھول پائے گی؟
یا یہ عورت اس ملک میں ایک آزاد شہری کے طور پہ مکمل ذہنی صحت کے ساتھ زندہ رہ پائے گی؟
کیا یہ عورت پھر کبھی یونہی کسی جگہ بیٹھ کر شوہر کے ساتھ کھانا کھانے کی تمنا کرے گی؟
"ایک عورت شادی کے بعد محفوظ ہوتی ہے” یہ والی نفسیات کیا اسے کبھی سمجھ آئے گی؟
ایک ہجوم کے سامنے ایک بے بس شوہر، کیا ہجوم جھٹ جانے بعد اپنی بیوی کو قصور وار کہے گا یا سماجی نفسیات سمجھے گا؟
اس کے رشتہ دار، ملنے والے، سماج سب اس عورت کو کیا کیا کہیں گے؟
یہ عورت ساری عمر معافی مانگتی رہے گی؟
اسلام کی جو صورت ہم نے بنا دی ہے اسے اسلام بھی شرماتا ہو گا
آج کے بعد اردو کو بھی اگر اسلامی زبان سمجھا جانے لگا تو کیا ہو گا؟ کیونکہ اردو رسم الخط تو عربی فارسی کے عروض پہ ہے۔
ہم جنونی یاجوج ماجوج قوم بن اور بڑھ رہے ہیں۔ خاتون پولیس افسر کی جگہ مرد پولیس افسر ہوتا بھی کیا یہ واقعہ یونہی اختتام پذیر ہوتا یا المیہ جڑ پکڑ چکا ہوتا؟
ایک پورے گھر کی معاشرت ہی آج بدل گئی ہے۔ آج اس گھر میں بھی یاجوج ماجوج ذہن لاشعوری طور پہ بیدار ہو گیا ہے۔ آج ایک گھر سماج کے لئے کاربن ڈائی سکینڈر بن گیا ہے۔
یہ عورت آج کے بعد ایک عام نارمل عورت ہی نہیں رہے گی ایک ذہنی مریضہ بن جائے گی اور ہر وقت توبہ کی تسبیح گھمائے گی۔ ممکن ہوا تو ملک چھوڑ جائے گی۔ کبھی یہ بھی سوچے کی کاش اس روز مر ہی گئی ہوتی۔ زندہ رہنا بہت مشکل ہو گیا ہے۔
اس نے چند گھنٹے کے اندر نقاب کر لیا تھا۔ چند سالوں میں پردہ کرنے کر جانا بھی کہتے ہیں۔
اگر کسی زمین پہ ”ساڈا اسلام“ یعنی ہمارے اسلام، ہماری ملکیت کا احساس پیدا ہو جائے تو مجھے ہی حفاظت کرنی ہے ناں!
اپنے اندر ملکیت کا احساس بذات خود شرک نہیں ہے کیا؟
ہم فانی، کب محدود عقل کے ترقی پذیر ملک کے، نکمے قسم کے ویلے لوگ ہر وقت کسی مذہب کی جنگ میں پھنسے رہتے ہیں اور اسی لئے پھنسے رہتے ہیں کہ ہمیں دنیا کا کوئی اور کام نہیں ہے۔ نہ ہمارے پاس مکمل کیا کوئی رتی بھر بھی مصدقہ علم ہو۔ نہ ہی ہمارے حکمران یہ چاہتے ہیں کہ ہمیں کوئی اور کام آتا ہو کیونکہ اس کام سے سب کا نظام چل رہا ہے
اور آج مولویوں کے سامنے سب سے معافی مانگ کر اس نظام کو بچا لیا گیا ہے
کچھ عرصہ قبل ایسا ہی فیصل آباد میں ہوا، یا جوج ماجوج کی فوج حملہ آور ہوئی تھی۔ کبھی سیالکوٹ، کبھی یوحنا آباد، ہر طرف اس کوڑے کے ڈھیر کا اضافہ ہو رہا ہے مگر گھر پھر بھی صاف نہیں ہو رہے۔
ڈئیر یاجوج ماجوج آپ سے پرہیز ہی اچھا ہے کہ آپ اس ملک کی کاربن ڈائی آکسائیڈ بنے ہوئے ہیں۔ ساڈی آکسیجن والی والی سوچ ہوتی تو آپ کا دماغ بھی کام کرتا کہ آپ کو کون کیا دے کر ، کیوں بڑھا رہا ہے۔
بہت سستے بک گئے ظالم، کاش معیار کے ہوتے


