کیا ایم کیو ایم اپنے اجتماعی لاشعور کو دفن کر سکے گی
پاکستان میں سیاست ایک خونی داستان رکھتی ہے۔ مذہبی جماعتوں اور قوم پرستوں نے سیاست کو اس راستے پر لگایا۔ دنیا میں جہاں سیاست سے استحکام آیا اور لوگ امن پسند ہوئے وہاں پاکستان میں اس کے الٹ ہوا ہے۔ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں بیشتر سیاسی جماعتوں کی تاریخ آپ کو خون آلود ملے گی۔ ایم کیو ایم یعنی مہاجر قومی مومنٹ جو بعد میں متحدہ قومی مومنٹ کے نام سے رجسٹرڈ ہوئی کی تاریخ بھی کچھ زیادہ اچھی نہیں ہے۔
کراچی شہر میں مقامی آبادی سے ہزاروں گنا زیادہ افراد باہر سے آ کر آباد ہوئے۔ زیادہ تعداد میں ہندوستان سے ہجرت کرنے والے مہاجرین نے اس شہر کو اپنا بسیرا بنایا۔ ان کے ساتھ ساتھ پشتونوں، بلوچوں، پنجابیوں اور دیگر زبانیں بولنے والوں نے بھی روزگار کی تلاش میں اس شہر کا رخ کیا اور یہاں آباد ہوئے۔ اندرون سندھ سے بھی لاکھوں افراد یہاں آ کر آباد ہوئے۔ کراچی جو کسی زمانے میں ایک شہر بے مثال تھا۔ آبادی میں بے تحاشا اضافہ اور بدانتظامی اور امن و آمان کی خراب ترین صورتحال نے اس تجارتی شہر کو دو دہائیوں تک دنیا کا خطرناک ترین اور غیر محفوظ ترین شہر بنا دیا تھا۔
پاکستان بننے کے کچھ عرصہ بعد لیاری میں ڈکیتوں کی حکمرانی شروع ہوئی اور 1971 کے بعد کئی ڈکیت پیپلز پارٹی کی چھتری تلے آ گئے۔ روس افغان جنگ نے ان کو اسلحہ میں مالامال کیا۔ یہ ڈکیت گروہ بھتہ خوری، اغوا، قبضے کے ساتھ ساتھ اسلحہ اور منشیات کا کاروبار بھی کرنے لگے۔ اپنے اپنے علاقوں میں انہوں نے لوگوں کو خوراک و سہولیات دینے کا انتظام بھی کیا۔ دادل، ارشد پپو، رحمان ڈکیت اور عزیر بلوچ کے نام سے کون آگاہ نہیں ہے۔
یہ سب سیاسی آشیر باد سے کراچی اور اس کی عوام کو لوٹتے رہے۔ ان کی دیکھا دیکھی، پشتون بھی اس کام میں حصہ لینے لگے یوں کراچی میں لیاری گینگسٹر، کٹی پہاڑی کے دہشت گرد، اور لالوکھیت کے بدمعاش اس شہر کو کرائم سٹی میں تبدیل کرتے رہے۔ ان سب کے ساتھ کراچی شہر کو اس حالت تک پہنچانے میں دیگر کئی عوامل کے ساتھ مہاجر قومی مومنٹ کا بھی بڑا ہاتھ تھا۔ 1986 سے لے کر 1998 تک یہ شہر جرائم، قتل و غارت گری، اغواء، بھتہ خوری، قبضہ گیری، اور گینگ وار کا شکار رہا ہے۔ جس کے اثرات اب تک اس شہر میں موجود ہیں۔
مہاجر قومی مومنٹ جسے الطاف حسین نے طلباء کے حقوق کے لیے بنایا تھا وقت کے ساتھ ساتھ ایک طاقتور سیاسی کم ملیٹنٹ گروپ بن چکا تھا۔ اس گروپ نے جناح پور اور بعد میں آزاد مہاجر ستان تک بنانے کی کوشش کی۔ کراچی کے مکین اس جماعت سے وابستہ خوف و دہشت پھیلانے والے سینکڑوں ناموں سے واقف ہیں۔ جاوید لنگڑا، اجمل فریا، اظہر سیان، نسیم پاجامہ، امجد چٹھہ، اسلم چٹھہ، اسامہ قادری، یوسف بل، صولت مرزا، عاصم، ندیم موٹا، اعزاز کالامنا، رفیع ببلی، رائے خان، عارف برگر، ماجد ملا، عبدالسلام چنگاری، اشرف کالا، صفیر موٹا، شبیر قصائی، اکرم کانا، ندیم ماربل، ریحان کانا، شکیل چکنا، عبدالرحمن بھولا، زبیر چریا۔
یہ فہرست اتنی طویل ہے کہ اس کے لیے سینکڑوں صفحات درکار ہیں۔ نوے کی دہائی اور گزشتہ دو دہائیوں میں کراچی شہر میں پولیس اور رینجرز کے اتنے اہلکار شہید ہوئے ہیں کہ ان کا حساب ممکن نہیں ہے۔ کراچی پولیس اور رینجرز نے کراچی میں اتنا اسلحہ برآمد کیا ہے کہ اس کی مدد سے کسی بھی ملک سے جنگ لڑی جا سکتی ہے۔ سفاکی اس حد تک بڑھ گئی تھی کہ بھتہ نہ دینے پر بلدیہ میں فیکٹری کے دروازوں کو بند کر اس میں آگ لگا دی گئی اور سینکڑوں انسانوں کو زندہ جلایا گیا۔
کراچی شہر میں پولیس کو ایم کیو ایم کے غنڈے مارتے اور جواباً قانون نافذ کرنے والے ان کو مارتے یوں اس شہر پر جیسے آسیب کا سایہ ہو گیا تھا۔ 1992 میں ریاست نے ایک بڑا آپریشن کیا جس سے بدامنی میں کچھ کمی ہوئی۔ لیکن اس کے بعد جو اصل کام تھا وہ نہیں کیا گیا یعنی کراچی شہر کو اسلحہ سے خالی نہیں کیا گیا، مسلح جتھوں کا صفایا نہیں کیا گیا اور اس شہر کو دنیا کے دیگر بڑے شہروں کی طرح محفوظ بنانے پر کام نہیں کیا گیا۔
اس آپریشن کے بعد بھی ایم کیو ایم نے کراچی کو سیکٹروں میں تقسیم کیا تھا اور ہر سیکٹر اور وارڈ دفاتر یہی لوگ چلاتے تھے۔ دو دہائیوں سے زیادہ الطاف حسین کراچی کا مالک تھا جب چاہتا کراچی بند کروا دیتا تھا۔ جب چاہتا کراچی میں دنگے فساد کروا دیتا تھا۔ وہ اور اس کے ساتھی لندن میں بیٹھ کر کراچی کو کنٹرول کرتے تھے یہاں تک کہ قومی میڈیا اس کی خرافات کو نشر کرنے کا پابند تھا۔ پورے پاکستان کے چینل اس ذہنی مریض شخص کی لایعنی گفتگو نشر کرنے کے پابند تھے۔
ایم کیو ایم کے تمام اراکین ٹیلیفون پر سپیکر لگا اجتماعی جلسے منعقد کر کے اس کا خطاب سنتے تھے اور سب جی بھائی جی بھائی کا ورد کرتے تھے۔ 12 مئی 2007 کو جس طرح کراچی کی سڑکوں پر لوگوں کو مارا گیا۔ مبینہ طور پر ایم کیو ایم اور اس وقت کے حکمران پرویز مشرف کے حکم پر یہ سب کیا گیا۔ ایم کیو ایم کی طرز سیاست اس حد تک طاقتور ہو گئی تھی کہ الطاف حسین سرعام پاکستان کی ریاست کی مخالفت کرنے لگے۔ ریاست نے آخر کار الطاف حسین کو بین کر دیا۔
مگر وہ سب لوگ جو ایم کیو ایم کی سیاست کرتے تھے ان کو مختلف ناموں سے پھر سے سیاست کرنے کی اجازت دی گئی۔ یہ جماعت ہر حکومت میں شامل ہوتی ہے۔ حالیہ الیکشن میں غیر متوقع طور پر ایم کیو ایم نے تاریخ ساز سیٹیں حاصل کی ہیں۔ اور وہ اب حیدرآباد اور کراچی شہر کے تنہا مالک ہیں۔ یہ جماعت ہمیشہ اقتدار میں رہی ہے، کراچی کی تباہی میں دوسری جماعتوں کے ساتھ ساتھ اس کا بھی مرکزی کردار ہے۔ سیاست میں رہنا اور سیاست کرنا ایک جمہوری عمل ہے۔
لیکن سیاست کی آڑ میں پاکستان میں جماعتیں جو کچھ کر رہی ہیں وہ کسی بھی طور مناسب نہیں ہے۔ ایم کیو ایم کو پھر سے موقع ملا ہے کہ وہ اپنے گزشتہ شناخت کو ختم کر کے ایک تعلیم یافتہ لوگوں کی سیاسی جماعت کے طور پر پارلیمانی سیاست میں اپنے وجود کو ثابت کرے اور اپنے ماضی سے سبق سیکھے۔ کراچی اور حیدر آباد کی ترقی کی طرف توجہ دے اور اپنی پارٹی سے الطاف حسین کی روح نکال کر پاکستان کی روح پھونک کے آگے بڑھے۔ کراچی شہر پاکستان کا صنعتی ہپ ہے۔
اس شہر میں دو کروڑ لوگ بستے ہیں، ملک کی سب سے بڑی بندرگاہ یہاں پر ہے۔ سب سے زیادہ کاروبار اس شہر میں ہوتا ہے اور یہ شہر سب سے زیادہ ٹیکس بھی دیتا ہے۔ لیکن یہ شہر اس حوالے سے بدقسمت شہر ہے کہ اس شہر کو اچھے حکمران اور منتظم نہیں ملے۔ اس شہر میں بھتہ خوری اور قبضہ مافیا کی حکمرانی ہے۔ یہاں تک کہ اس شہر میں پانی بھی آپ مافیا سے لے کر پینے کے پابند ہیں۔ اس شہر کی پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی کارکردگی اتنی خراب ہے کہ اگر یہ سب نہ ہوتے تو شاید کراچی کے حالات موجودہ حالات سے بہتر ہوتے۔
اس شہر کا سٹیل مل بند ہو گیا ہے اور اس کے ہزاروں ملازمین ابھی بھی گھر بیٹھے تنخواہ لیتے ہیں، بلدیہ کراچی میں بہت سے ملازمین کام کیے بغیر تنخواہ لیتے ہیں۔ یہ دنیا کے گندے اور آلودہ ترین شہروں میں شمار ہونے لگا ہے۔ اس کے مکین ہمیشہ خوف کے سائے میں زندگی گزارتے ہیں۔ ایم کیو ایم اب چونکہ یہاں سے تمام صوبائی اور قومی اسمبلی کی سیٹوں پر کامیاب ہوئی ہے تو اسے ثابت کرنا چاہیے کہ وہ اس شہر کی نمائندہ سیاسی جماعت ہے۔ وہ بدل چکے ہیں اور ان کا الطاف حسین کے طرز سیاست سے اب تعلق نہیں ہے۔ وہ خود بھی بھتہ خوری سے پرہیز کریں اور دوسروں کو ایسا کرنے سے روکیں، بلدیہ کراچی کو فعال بنائیں، کراچی کے پینے کے پانی کا مسئلہ حل کریں، شہر کی صفائی اور نکاسی اب کی طرف توجہ دیں۔ کراچی کے ٹرانسپورٹ کا نظام درست کریں۔ اور دیہی کراچی علاقوں میں زندگی کی بنیادی سہولیات پہنچانے کا انتظام کریں۔ منشیات کے خلاف کوئی جامع پلان بنائیں۔ شہر کی خوبصورتی پر توجہ دیں۔ تعلیم اور صحت تک سب کی رسائی ممکن بنائیں۔ دیگر قومیتوں کے ساتھ تعلقات برادرانہ رکھیں۔
اگر ایم کیو ایم والے ایسے نہیں کرتے تو مستقبل قریب میں ان کے ساتھ بھی الطاف حسین اور ان کے دیگر ساتھیوں جیسا سلوک بعید از قیاس نہیں ہے۔ اس لیے کہ کراچی میں اب ان کا سامنا ایک نئی نسل کے ساتھ ہے جو گزشتہ لوگوں سے زیادہ باشعور ہے۔ موجودہ سیاسی حالات دیکھ کر یہ اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں ہے کہ دو ایک برس میں ہم پھر الیکشن کی طرف جائیں گے اور اگر ایم کیو ایم نے خود کو اس کم عرصہ میں ثابت نہ کیا تو وہ سیاسی منظر نامہ سے مکمل ہٹ جائے گی۔ اور اس کی جگہ ایک دوسری سیاسی جماعت جو آج کل زیر عتاب ہے لے لی گی۔
اس لیے ایم کیو ایم کو اپنے اجتماعی لاشعور کو دفن کرنا پڑے گا اور ایک نیا سفر شروع کرنا ہو گا۔ جس میں الطاف حسین کی جگہ مکمل پارلیمانی سیاست پر یقین رکھنا والا کوئی ماڈل ان کے سامنے ہو جو انہیں عوامی خدمت بذریعہ پارلیمان کا درس دے اور انہیں کسی گینگسٹر کی خدمات حاصل کرنے سے روکے۔ وہ خود بیٹھ کر فیصلے کریں۔ فرمانوں پر چلنے کی عادت ترک کر دیں۔ اور کسی مقتدر کی فرمائش پر عمل کر کے اپنے سیاسی وجود کو بھی دفن نہ کریں کہ ان کے کندھے صرف ڈولی کے لیے ہوتے ہیں وہ لاشوں کو کندھے نہیں دیا کرتے۔


