جعلی جنت بیچنے والوں سے محتاط رہیں


ایک حکایت ہے کہ ایک مذہبی پیشوا نے یہ اعلان کر دیا کہ وہ جنت کو فروخت کر رہا ہے۔ مذہبی پیشوا کے اثرات بہت مضبوط تھے۔ یا یوں کہہ لیجیے کہ مکمل طور پر مذہبی ٹچ اس کو حاصل تھا۔ لوگ جوق در جوق اس مذہبی پیشوا کے پاس جانے لگے اور اس سے جنت کی دستاویزات کو خریدنے لگے، مذہبی پیشوا کی تو چاندی ہو گئی کہ بس لکھ کے دے دیتا تھا کہ اس کو جنت فروخت کر دی گئی ہے اور اس جنت کی ”رجسٹری“ کے بدلے میں سکوں پر سکے اس کی تجوری میں جا رہے تھے۔

اس زمانے کا ایک دانا، اسے ہم اپنی حکایت میں سقراط کا نام دے دیتے ہیں، اس کو بہت اچھی طرح سے محسوس کر رہا تھا کہ یہ مذہبی ٹچ والا کام اس مذہبی پیشوا کا بس ڈھکوسلہ ہے اور اس نے اس کو اپنی دنیا کو جنت بنانے کے لئے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ سقراط نے عوام کو سمجھانا شروع کر دیا مگر مذہبی پیشوا کا میڈیا بہت تگڑا تھا بلکہ یوں کہہ لیجیے کہ اس کا سوشل میڈیا بہت مضبوط تھا اس لئے سقراط کی حقیقت پر مبنی گفتگو، دلائل سے مذہبی پیشوا کے ”عقیدت مند“ بالکل بھی متاثر نہیں ہوئے اور اس کا جنت فروخت کرنے کا دھندا کامیابی سے دن دگنی رات چوگنی ترقی کرتا رہا۔

سقراط آخر سقراط تھا وہ سمجھ گیا کہ صرف دلائل یا فلسفیانہ باتوں سے اس مذہبی پیشوا کا طلسم نہیں توڑا جا سکتا ہے بلکہ اس کو اس کی ”پچ“ پر ہی شکست دینی ہوگی۔ چنانچہ وہ ایک دن مذہبی پیشوا کے پاس خود بھی چلا گیا اور اس نے اس سے ایک عجیب شے کی خریداری کی خواہش ظاہر کردی، وہ عجیب شے تھی جہنم اور خواہش تھی جہنم کی خریداری، لمحوں کے لئے مذہبی پیشوا بھی چونک گیا مگر پھر اس نے سوچا کہ یہ تو بہت ہی شاندار کاروبار ہاتھ آ گیا ہے کہ اب جنت کے ساتھ ساتھ جہنم بھی فروخت کیا کروں گا۔

سقراط نے اس سے جہنم کی قیمت دریافت کی اور اس نے بے پر واہی سے تین سکے جہنم کی قیمت بتا دی۔ سقراط نے تین سکے مذہبی پیشوا کو ادا کیے اور اس کو کہا کہ مجھے جہنم کی ”رجسٹری“ لکھ دو اس نے لکھ دی۔ سقراط اس مذہبی پیشوا کے پاس سے آیا اور شہر کے مرکزی چوک میں پہنچ گیا اور لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے با آواز بلند بولا یہ دیکھو میں نے جہنم کو خرید لیا ہے اور اب میں کسی کو اپنی ملکیت یعنی جہنم میں داخل نہیں ہونے دوں گا اس لئے اب تم میں سے کسی کو بھی جنت خریدنے کی ضرورت نہیں ہے بات عوام کے شعور اور مزاج کے مطابق تھی لہذا مان لی گئی اور مذہبی پیشوا کا کاروبار ٹھپ ہو گیا۔

اب عام انتخابات کے بعد حکومتوں کے قیام کا مرحلہ شروع ہو گیا ہے اور اس مرحلہ کے آغاز کے ساتھ ہی نئی حکومتوں کو ناکام بنانے کی غرض سے جنت کو بیچنے کے دعوے دار بھی مزید متحرک ہو جائیں گے اور ان کے کاروبار کو ٹھپ کرنے کی غرض سے ایسا ہی بیانیہ تشکیل دینے کی ضرورت ہے جس کو عوام یا یوں کہہ لیجیے کہ مذہبی ٹچ سے متاثرین سمجھ سکیں۔

مریم نواز شریف نے پنجاب حکومت کو سنبھالنے سے قبل پنجاب کی ترقی کا ایک بہت بہتر ویژن پیش کیا ہے۔ نواز شریف اور شہباز شریف کا ماضی اس کا گواہ ہے کہ انہوں نے ترقی کے، منصوبوں کے جو بھی وعدے کیے وہ ان دعووں کو عملی شکل دینے میں بھی کامیاب رہے اور اسی لئے مریم نواز شریف سے بھی یہ ہی توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ اس روایت کو برقرار رکھتے ہوئے وعدوں کو حقیقت کا روپ دینے کو ہی اپنی منزل قرار دے گی مگر اس کارکردگی کے مقابلہ میں مفروضہ جنت بیچنے والے زبردست روڑے اٹکا دیں گے اور میڈیا کے تینوں شعبوں میں اگر گہری نظر سے حکمت عملی اختیار نہ کی گئی تو بہت شدید مسائل پیدا ہوں گے۔

ہمارے سامنے کی بات ہے کہ عثمان بزدار دور گزارنے کے باوجود پنجاب سے ووٹ حاصل کرلئے گئے حالاں کہ پنجاب کے ووٹر کے سامنے نواز شریف اور شہباز شریف کے ادوار بھی موجود تھے، یہ پراپیگنڈے کی طاقت ہے، یہ مسائل صرف پی ایم ایل این کو پریشان نہیں کریں گے بلکہ اگر عوام کے مخصوص طبقہ کے ذہن میں یہ تصور راسخ ہو گیا کہ ریاست ان کے مسائل حل نہیں کر سکی ہے تو وہ ریاست سے لا تعلق ہوتے چلے جائیں گے اور ریاست کمزور ہوتی چلی جائے گی اس بار کارکردگی اور کارکردگی کا بیانیہ دونوں ہم قدم ہوں گے ساتھ ساتھ چلیں گے تو ریاست توانا ہوگی۔ اور اگر کوئی اپنی خود ساختہ جنت بیچتا چلا گیا اور اس کے پراپیگنڈے کا مقابلہ نہیں ہو سکا تو سیاست تو سیاست ریاست کو بھی ناقابل بیان نقصان پہنچ جائے گا۔

ویسے بھی ریاست کو معاشی میدان میں غیر معمولی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ تحریک انصاف کے لیڈر اپنی سیاسی نا کامی پر اتنے بد لحاظ ہو چکے ہیں کہ آئی ایم ایف کو خط لکھ کر پاکستان کو دیوالیہ کرانے تک کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ حالاں کہ دنیا پاکستان کے معاشی مسائل کو سمجھنے کے لئے تیار کی جا سکتی ہے۔ ابھی دو چار ایام قبل متعدد اعلی مغربی سفارت کاروں سے ملاقاتیں ہوئی اور سب کے سامنے یہ بات رکھی کہ اگر آئی ایم ایف اپنی کڑی شرائط پر بضد رہا تو یہ ایسے ہی ہو گا جیسا مصر وغیرہ کی معیشت کے ساتھ ہوا تھا عوام ناقابل برداشت بوجھ تلے دبتے چلے جائیں گے، سفارت کار یہ سب سمجھنے اور اپنے ممالک کو سمجھانے پر بھی آمادہ نظر آئے اور اگر یہ مسئلہ مغربی سفارت کاروں، پالیسی سازوں کو سمجھا دیا جائے جو کہ سمجھایا جا سکتا ہے تو آئی ایم ایف اور دیگر مالیاتی اداروں سے بہت اچھی شرائط پر معاہدے کیے جا سکتے ہیں۔

اسی طرح انڈیا کی جانب سے بھی یہ ہی ہوا چل رہی ہے کہ وہ پاکستان کی آئندہ کی حکومت سے گفتگو کرنے کے لئے تیاریاں کر رہے ہیں اور یہ مرحلہ بھی بہت احتیاط، بہت دانش کا تقاضا کر رہا ہو گا کہ دنیا یہ جان سکے کہ ہم اپنے ہمسایہ سے تعلقات کی بہتری کے لئے اور مسائل کے حل کے لئے تیار ہیں۔ مگر اگر کسی ایک بھی محاذ پر جعلی جنت بیچنے والوں کے پراپیگنڈے کا مقابلہ نہ کیا جا سکا تو بھاری مشکلات کا پتھر سیاست اور ریاست دونوں کو اٹھانا ہو گا۔

Facebook Comments HS