امریکہ اور یورپ کی چڑیلیں پاکستان میں


یہ 1692 کا ایک عمومی سا دن تھا۔ ایک مقامی ویسٹ انڈین غلام خاتون، امریکہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں سیلم میں چند بچیوں کو کوئی لوک داستان سنا رہی تھی کہ اچانک نو سال کی بچی الزبتھ اور اس کی گیارہ سالہ کزن ابیگیل پر رقت طاری ہو گئی۔ الزبتھ نے ہیجانی کیفیت میں بائبل بھی اٹھا کر پھینک ڈالا۔ یہ لا ابالی سی کیفیت گاؤں کی دس اور لڑکیوں میں بھی رونما ہو گئی جو عجیب و غریب حرکتیں کرتی دکھائی دیں۔ گاؤں کے سنجیدہ بزرگوں نے تشخیص کا عمل شروع کیا اور سب اس پر متفق ہو گئے کہ لڑکیوں پر شیطان کا سایہ پڑ گیا ہے۔ پہلے تو مرض کی دوا کی کوشش کی گئی۔ بچوں کے پیشاب کو میدے میں ملا کر ایک کیک بنایا گیا جسے گلی کے ایک آوارہ کتے کو کھلا دیا گیا۔ خیال تھا کہ یوں بچیوں پر پڑی مصیبت کتے کو منتقل ہو جائے گی۔

تفتیش کا مرحلہ شروع ہوا تو بچیوں کے سامنے مختلف نام رکھے گئے کہ ان میں سے کس نے شیطانی عمل کیا ہے۔ جب کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ ہو سکی تو تفتیش کاروں نے خود ممکنہ مجرموں کو ڈھونڈنا شروع کر دیا۔ پہلا رقعہ بھکاری خاتون سارہ کے نام نکل آیا۔ سارہ نے جرم سے انکار کیا کہ وہ ان لڑکیوں سے کبھی ملی بھی نہیں۔ عدالت کب ماننے والی تھی۔ زبردستی چڑیلوں والے عملیات پر مبنی جرائم کا اعتراف کروا کر مزید ملزمان کے نام اگلوائے گئے۔ جلد ہی ملزمان کی تعداد بڑھتی گئی۔ ایک طرف جسمانی و ذہنی بیماری کے شکار غربا کی شامت آ گئی تو دوسری طرف اچھے خاصے شرفا بھی اس سماجی ہیجان کی زد میں آ گئے۔ بہت سے موقع پرست انتقام کے جذبے سے سرشار ہو کر اپنے مخالفین پر چڑھ دوڑے۔ جب گاؤں کا گاؤں شیطان کے ہراول دستے یعنی چڑیلوں اور جادوگروں سے سہما ہوا تھا ایسے میں کسی نہتے انسان کے انسانی حقوق کا دھیان کسے ہوتا۔ عالم یہ ہو چکا تھا کہ جب گاؤں کے ڈپٹی کانسٹیبل جان ولارڈ نے کہا کہ سزا چڑیلوں جیسی حرکتیں کرتی لڑکیوں کو ملنی چاہیے نہ کہ ملزمان کو تو جان ولارڈ کو اپنی جان کے لالے پڑ گئے۔ آنا فانا گاؤں سے راہ فرار اختیار کی لیکن دس دن بعد ناموس عیسائیت کے متوالے اس کو گرفتار کر کے واپس گاؤں لے آئے اور اس پر چڑیلوں کا معاون ہونے کا الزام عائد کر دیا گیا۔ ہر کوئی حق کی فتح اور شیطان کی شکست فاش دیکھنے کا آرزومند تھا چنانچہ عدالت نے فوری انصاف کیا اور اگلے ہی دن اس کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔

الزامات کی اس گھنگھور گھٹا نے ایک پادری جارج بروز کو بھی گھیر لیا۔ وہ بہت عرصہ پہلے کچھ لوگوں سے ناراض ہو کے گاؤں سے دور جا بسا تھا۔ مخالفین نے اس کا نام بھی چڑیلوں کے ہمدرد کے طور پر مشہور کر دیا اور لڑکیوں نے طرح طرح کی کہانیاں سنا ڈالیں۔ چنانچہ پادری کو بھی گرفتار کر کے گاؤں لایا گیا۔ اس نے مذہبی نکات کے ذریعے دعوی کیا کہ یہ شیطانی عملیات والی ساری کہانی غلط ہے۔ بس یہ کہنا تھا کہ منصفین بھڑک اٹھے اور اگلے دن اس کو پھانسی گھاٹ لایا گیا۔ پادری نے اس موقع پر بائیبل کی تلاوت شروع کردی۔ گاؤں کے بہت سے لوگ سہم کر اس کی طرفداری کرنے لگے۔ اس پر گاؤں کے چڑیل کشی کے ماہر کاٹن ماتھر نے لوگوں کو سمجھایا کہ شیطان جب معصومین کے روپ میں آ جائے تو سب سے زیادہ خطرناک ہو جاتا ہے۔ لوگ جلدی سمجھ گئے اور پادری سمیت کئی دیگر ملزمان کی پھانسی کے وقت حق کی فتح پر بلند بانگ نعرے بلند کرتے رہے۔

جب سیلم گاؤں میں مزید ملزمان کی گنجائش ختم ہو گئی تو جذبہ عیسائیت سے سرشار چڑیلوں کے شکاریوں نے اپنا دائرہ کار گاؤں سے باہر پھیلا دیا۔ تاہم الزام لگانے والوں کو اب ایک مسئلہ درپیش تھا کہ گاؤں سے باہر والوں کے متعلق ذاتی معلومات کی کمی تھی۔ اس کا حل یہ ڈھونڈا گیا کہ ملزمان کو ایک صف میں کھڑا کر دیا جاتا اور شیطانی عمل کی شکار لڑکیوں کو ہیجان کی حالت میں پیش کیا جاتا۔ اگر ملزم کے ہاتھ لگانے پر لڑکی نارمل ہو جاتی تو یہ ملزم کے چڑیل ہونے کے لئے کافی ثبوت سمجھا جاتا۔ جب قریبی قصبے میں جج ڈڈلی نے چالیس وارنٹ جاری کرنے کے بعد مزید وارنٹ جاری کرنے میں لیت و لعل سے کام لیا تو اس پر بھی چڑیلوں کا معاون ہونے کا الزام لگا دیا گیا۔ جج اور اس کے بھائی کو جان بچانے کے لئے گاؤں سے فرار ہونا پڑا اور مشتعل لوگوں نے ان کے کتے پر مقدمہ چلا کر اسے مار ڈالا اور یوں اپنی آگ ٹھنڈی کی۔

ریکارڈ سے یہ ثابت ہے کہ سیلم گاؤں میں اس سال ڈیڑھ سو ملزمان چڑیل یا چڑیلوں کے کافرانہ مذہب سے وابستگی کے الزام میں عدالتی کٹہرے میں پیش کیے گئے۔ ان میں سے پچپن افراد نے اعتراف جرم کیا اور ان کو اچھی عیسائی زندگی گزارنے کا وعدہ لے کر معافی دے دی گئی۔ باقی ملزمان میں سے اکتیس پر مقدمہ چلایا گیا۔ جن میں چھ مرد اور باقی خواتین تھیں۔ انیس ملزمان کو جرم ثابت ہونے پر پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ دو خواتین ملزمان جیل میں دم توڑ گئیں۔ اسی سالہ مرد ملزم جائلز کورے کو الزام قبول کرنے کے لئے بھاری وزن تلے ڈالا گیا۔ اس اقرار جرم کے طریقۂ کار میں انکاری ملزم کے ننگے بدن پر وزن لادا جاتا اور اسے اس وقت تک بڑھایا جاتا جب تک ملزم اقرار جرم نہ کر لے۔ جائلز وزن کی تاب نہ لا سکا اور جذبہ ایمانی سے معمور الزام کاروں نے سکھ کا سانس کیا کہ ان کی جدوجہد کی بدولت ایک اور کافر کو جہنم رسید کر دیا گیا۔

امریکی گاؤں میں رونما ہونے والا یہ کوئی انوکھا واقعہ نہیں تھا۔ جذبہ ایمانی سے سرشار گروہوں کے ہاتھوں کفر و شرک کے ملزموں کی ہلاکت اور سرکوبی کے واقعات سولہویں اور سترہویں صدیوں میں یورپ کے کئی ممالک میں خوب دلجمعی کے ساتھ رونما ہوتے رہے اور آج کل اسی شد و مد کے ساتھ پاکستان میں وقوع پذیر ہو رہے ہیں۔ داستان اہم ہے۔ اس لیے اگلی قسط میں جاری رہے گی۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر حیدر شاہ

مصنف برطانیہ کی ہارٹفورڈ شائر یونیورسٹی میں درس و تدریس سے وابستہ ہیں اور ریشنلسٹ سوسائٹی آف پاکستان کے بانی ہیں۔ ان سے hashah9@yahoo.com پر رابطہ کیا جاسکتا ہے

haider-shah has 22 posts and counting.See all posts by haider-shah

One thought on “امریکہ اور یورپ کی چڑیلیں پاکستان میں

  • 28/02/2024 at 8:41 شام
    Permalink

    Nice article

Comments are closed.