پاکستان کا والٹیئر۔ ارشد محمود

پاکستان میں روشن خیالی اور عقلیت پسندی میں دلچسپی رکھنے والوں کے لئے ارشد محمود ایک جانا پہچانا نام ہے۔ ان سے میری پہلی ملاقات کوئی پندرہ برس قبل ہمارے مشترکہ دوست وسیم الطاف کے گھر پر ہوئی جو سول سروس میں میرے بیچ میٹ تھے۔ ان دنوں میں ایف بی آر سے رخصت لے کر برطانیہ کی وارک یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کر رہا تھا۔ جب ارشد صاحب کا برطانیہ آنے کا پلان بنا تو میری خصوصی فرمائش

Read more

عدلیہ کی آزادی یا ججوں کی آزادی؟

اگر ہمارے سامنے دو افراد یہ دعوی کریں کہ وہ شادی شدہ ہیں تو اس کا بات کا حتمی تعین کیسے ہو گا کہ وہ واقعی شادی شدہ ہیں کہ نہیں؟ اسی طرح اگر کوئی دو افراد یہ اعلان کریں کہ وہ بطور کمپنی بزنس کر رہے ہیں تو اس کا فیصلہ کیسے ہو گا کہ ان کو کمپنی ماننا چاہیے یا نہیں۔ برطانوی عدالت اس کا سیدھا سادا جواب یہ دے گی کہ دونوں صورتوں میں مروجہ قوانین طے

Read more

اسلامی قوانین اور جدید دور کے چیلنجز

”کیا اسلامی قوانین جدید دور میں قابل عمل ہیں کہ نہیں؟“ ۔ یہ سوال کچھ نیا نہیں اور مختلف مسلم مفکرین اور اکابرین اس سوال پر صدیوں سے مباحثے کرتے آئے ہیں۔ کچھ دن قبل برطانیہ میں مقیم ڈاکٹر عائشہ بخاری نے مجھ سے رابطہ کر کے یہ شکوہ کیا کہ میڈیا صرف چٹپٹے اور سنسنی خیز موضوعات کی رپورٹنگ کرتا ہے اور علمی موضوعات سے کنارہ کش رہتا ہے۔ محترمہ فیملی فرینڈ ہونے کے علاوہ مرحوم شاعر محسن احسان

Read more

پاکستانی سرکار کی ختم شدہ بیٹریاں

”البرٹ پنٹو کو غصہ کیوں آتا ہے؟“ اس ٹائیٹل کی انڈین آرٹ فلم دیکھ کے اس کا جواب ڈھونڈا جا سکتا ہے۔ جہاں تک میرا معاملہ ہے تو مجھے غصہ مشکل سے ہی آتا ہے لیکن یہ ضرور ہے کہ دیار غیر میں بیٹھ کر جب کبھی پاکستان کی کسی سہولت سے استفادہ کرنے کی ٹھانی ہے تو آ بیل مجھے مار کے مصداق غم و غصے کا بے ہنگم سیلاب میری جانب متوجہ ہوجاتا ہے۔ کئی برس پہلے کی

Read more

برطانیہ کا ڈیفنس منسٹر میرے دروازے پر

منگل کی شام گھنٹی بجی۔ دروازہ کھولا تو ایک بزرگ خاتون پمفلٹ لئے کھڑی تھی۔ دھیمے لہجے میں بولی کہ گرانٹ شاپس کے لئے ووٹ کی طلبگار ہوں۔ میں نے خوشگوار انداز میں اسی طرز کا جواب دیا جو چند دن پہلے لیبر کے لئے کمپین کرنے والے حضرت کو دیا تھا۔ محترمہ کو تھوڑا حوصلہ ہوا اور بولی کہ گرانٹ خود ووٹ مانگے گا۔ اور ایک دم پیچھے مڑ کر اس نے اونچی آواز میں گرانٹ کا نام پکارا

Read more

ہمارے اپنے اپنے ڈزنی لینڈ

ہماری موسکہ سات سال کی ہوئی تو سالگرہ پر وعدہ کیا کہ اسے ڈزنی لینڈ لے جاؤں گا۔ امریکہ والے ڈزنی لینڈ جانے کے لئے وقت بھی بہت درکار ہے اور رقم بھی۔ اس لیے پڑوس یعنی پیرس میں واقع ڈزنی لینڈ لے گیا تاکہ ایفائے عہد کر سکوں۔ اب کیا ڈھونگ کا سہارا لوں۔ سچ تو یہ ہے کہ بچی کا ذوق و شوق اپنی جگہ لیکن خود ہم والدین بھی متجسس تھے کہ جا کر دیکھیں کہ کون

Read more

ایف بی آر میں اکھاڑ پچھاڑ

میری پچھلی تحریر فیض آباد کمیشن رپورٹ کے حوالے سے تھی اور کلیدی نکتے کی وضاحت کے لئے ماضی کے ایک واقعے کا تفصیلی تذکرہ کرنا پڑا تھا۔ ارادہ تھا کہ پچھلی زندگی یعنی نوکر شاہی والے دور سے وابستہ کہانیاں کسی اور موقع پر بیان کروں گا کہ سردست کچھ اہم موضوعات بہت چاہ سے بغلگیر ہونے کو بیتاب ہیں۔ لیکن جب ایک دوست نے ایف بی آر میں اکھاڑ پچھاڑ کی فہرست بذریعہ واٹس ایپ ارسال کی تو

Read more

کھودنا پہاڑ فیض آباد دھرنا کمیشن کا

جب فیض آباد دھرنا کمیشن کے ممبران کا اعلان ہوا تو جہاں اپنے بھائی صاحب کو کمیشن کا سربراہ دیکھ کر مسرت آمیز حیرت ہوئی، وہیں کمیشن کی ہیئت دیکھ کر غالب کا کہا یاد آ گیا کہ وہ مری چین جبیں سے غم پنہاں سمجھا راز مکتوب بہ بے ربطی عنواں سمجھا دو ریٹائرڈ پولیس افسران اور ایک حاضر سروس سرکاری بابو پر مشتمل کمیشن سے یہ توقع لگا لینا کہ وہ جان رامبو کی طرح سب نظام کو

Read more

امریکہ اور یورپ کی چڑیلیں پاکستان میں

یہ 1692 کا ایک عمومی سا دن تھا۔ ایک مقامی ویسٹ انڈین غلام خاتون، امریکہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں سیلم میں چند بچیوں کو کوئی لوک داستان سنا رہی تھی کہ اچانک نو سال کی بچی الزبتھ اور اس کی گیارہ سالہ کزن ابیگیل پر رقت طاری ہو گئی۔ الزبتھ نے ہیجانی کیفیت میں بائبل بھی اٹھا کر پھینک ڈالا۔ یہ لا ابالی سی کیفیت گاؤں کی دس اور لڑکیوں میں بھی رونما ہو گئی جو عجیب و غریب

Read more

زخمی کپتان اور پاکستان کا پھنسا ہوا ثور انقلاب

تبدیلی کی حقیقت قدیم زمانے کے فلاسفا سے لے کر عصر حاضر کے مفکروں کے لئے چند اہم موضوعات میں سے ایک رہا ہے۔ یونانی فلسفے میں ایک گروپ کا خیال تھا کہ ”ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں“ یعنی تبدیلی کائنات کی بنیادی حقیقت ہے تو دوسرا گروہ یہ کہتا سنائی دیتا ہے کہ تبدیلی نظر کے فریب کے سوا کچھ بھی نہیں۔ اس فلسفیانہ مباحثے میں گئے بغیر اگر انسانی معاشروں کی تاریخ پر نگاہ ڈالیں تو

Read more

چائے والا، چاہت علی اور عمران خان

پچھلے سال منعقدہ ٹی ٹوینٹی کرکٹ کپ کی سب سے زیادہ دلچسپی والی بات کیا تھی؟ پاکستان کا ڈوبتے ڈوبتے بچ جانا اور پھر سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ کو شکست دینا؟ بہت سے لوگ شاید یہی کہیں گے۔ لیکن اس بابت منچلوں کا بیان قدرے مختلف ہے۔ ان کے مطابق اس ورلڈ کپ کی سب سے زیادہ قابل ذکر دریافت نتا شا تھی۔ اب اگر آپ بھی میری طرح کم علم اور اعلی ذوق سے عاری ہیں تو میری

Read more

آرٹیکل 5 اور 6 کی مشترکہ کہانی

کچھ عرصہ پہلے میں نے لندن یونیورسٹی کی درسگاہ SOAS میں عاصمہ جہانگیر کی یادگاری تقریب میں قاضی فائز عیسی کے لیکچر اور ان سے پوچھے گئے سوالات کا ذکر گیا تھا۔ راقم نے اس خواہش کا بھی اظہار کیا تھا کہ وہ سوال تحریراً پوچھ لیتا ہوں جو میں قاضی صاحب سے آرٹیکل 6 کے بارے میں پوچھنا چاہتا تھا۔ غم روزگار کی دلفریبی میں الجھ کر شاید میں اپنے ارادے کو ملتوی کر دیتا لیکن تحریک عدم اعتماد

Read more

قاضی فائز عیسی سے لندن میں پوچھے گئے سوالات

سکول آف اورینٹل اینڈ افریقن سٹڈیز (SOAS) لندن یونیورسٹی کا ایک انتہائی مشہور اور معتبر تعلیمی ادارہ ہے۔ میرے مشفق دوست نادر چیمہ صاحب وہاں معاشیات کی تدریس سے وابستہ ہیں اور بلومسبری (Bloomsbury) نامی تنظیم کے تحت پاکستان سے متعلق علمی سرگرمیوں کا انعقاد کرتے رہتے ہیں۔ اس سلسلے میں سالانہ باچا خان لیکچر اور عاصمہ جہانگیر لیکچر سر فہرست ہیں جن میں مقامی پاکستانی اساتذہ، طلبا اور دیگر اصحاب رائے کی بھرپور شرکت ہوا کرتی ہے۔ اس سال

Read more

افغان باقی کہرام باقی!

ایک ہفتے میں جس طرح افغان حکومت پر طالبان نے قبضہ کیا ہے اس پر کافی مبصرین اب اپنی آراء رقم کریں گے۔ ”اب کیا ہوگا“ کی بجائے میں افغانستان کا نوحہ اس کی تاریخ کے کچھ ادوار کا حوالہ دے کر لکھنا چاہتا ہوں کیونکہ آج کو سمجھنے کے لئے گزرے کل کی سمجھ مددگار ثابت ہوتی ہے۔ بندہ پشتون گھرانے سے ہو اور طالبعلمی میں مارکسیت سے بھی متاثر رہ چکا ہو وہ بھلا افغانستان سے کیسے لا تعلق رہ سکتا ہے۔ میں افغان تاریخ کو تاہم قوم پرستانہ اور خود پسندانہ نقطۂ نظر سے دیکھنے کی بجائے ریشنل ازم کے غیر جذباتی فریم ورک کی مدد سے دیکھتا ہوں۔

Read more

درد کی زنجیر، زینب سے نور تک

گھناؤنے جرائم کی نہ کوئی قومیت ہوا کرتی اور نہ کوئی تذکیر و تانیث۔ ابھی پچھلے دنوں 3 مارچ کو لندن کے ایک خاموش علاقے میں سارہ نامی ایک خاتون اپنی سہیلی سے ملنے کے بعد شام ڈھلے واپس پیدل آ رہی تھی کہ اچانک غائب ہو گئی۔ پولیس نے تفتیش شروع کرتے ہوئے کیس کی خوب تشہیر کی۔ ایک ہفتے کے بعد ایک قریبی جنگل سے خاتون کی لاش بر آمد ہو گئی۔ اس سے اگلے دن لندن پولیس کی خاتون سربراہ نے پریس کانفرنس میں ایک پولیس والے کی گرفتاری کا اعلان کرتے ہوئے سخت ندامت اور افسوس کا اظہار کیا۔

Read more