دی عمران خان گرپ!
جے جی فیرل کے ناول دا سنگاپور گرپ کا مرکزی کردار، عنوان میں موجود اس محاورے کا معنی سمجھنے کے لئے پوری کہانی میں کوشش کرتا دکھائی دیتا ہے۔ پہلے جب وہ بذریعہ جہاز سنگاپور آتا ہے تو فلائٹ کے عملے نے اس گرپ کا ذکر کیا اور پھر بعد کے دنوں میں مختلف لوگوں سے ہوئی گفتگو میں بھی اس محاورے کا ذکر آتا رہا۔ اسے اس محاورے کے مختلف معنی سننے میں ملتے رہے، جن میں جنگ عظیم دوم سے پہلے کے ایشیا کی معیشت اور روایتی ثقافتوں پر انگریزوں اور دیگر یورپی نو آبادیاتی قوموں کی استحصالی گرفت، ایک مخصوص جنگلاتی بخار اور ایک عجیب طریقے سے مصافحہ شامل ہوتے ہیں۔ وہ ان کے علاوہ اس محاورے کے ایک غیر شائستہ معنی بھی سنتا ہے جس کے بارے میں مزید، کچھ اس مضمون کے آخر میں۔
مجھے لگتا ہے کہ ہم پاکستانی بھی اسی طرح کی ایک گرپ یا گرفت میں ہیں، اور مذکورہ بالا تمام معنی عمران خان کی شخصیت کے اثرات اور ان کے طرز سیاست پر کم و بیش لاگو ہوتے ہیں۔ کرکٹ کھیلنے اور پلے بوائے کی زندگی گزارنے کے دنوں، ملک کے پہلے ممتاز کینسر ہسپتال کی تعمیر اور 2011 میں سیاسی منظر نامے پر نمایاں ہو جانے تک سے انہوں نے لوگوں کے تصورات پر ایک مضبوط گرپ رکھی ہے۔ یہ گرپ کرکٹ ورلڈ کپ جیتنے والے کرپشن فری لیڈر کا ایک ایسا تصور ہے جو پاکستان کو گزشتہ سات دہائیوں کی حکومتی اور معاشی خرابیوں سے نجات دلائے گا اور ملک کو ان بلندیوں پر لے جائے گا جو پہلے حاصل نہیں ہو سکیں۔
عمران خان ہر طرح کے حالات میں نتائج سے بے پرواہ ہو کر جیت کی کوشش کرنے والے انسان ہیں۔ وہ ایک ایسی شخصیت ہیں جو اپنی تمام تر توانائیاں ایک وقت میں کسی ایک مقصد کے لیے وقف کر دینے اور اس مقصد کے حصول کی خاطر ہر قیمت ادا کر دینے پر تیار رہتے ہیں۔ ماضی میں ایسی شخصیتوں کی مثال یا مماثلت سیاسی رہنماؤں میں بھی مل جاتی ہے ؛ ایسے کرشماتی افراد جو تاریخ کے دھارے کو اپنی مرضی کے مطابق موڑنے کی کوشش میں جتے رہتے ہیں۔
اپنے مقصد کو حاصل کرنے کا جنون خود انہی لوگوں کے اپنے اوپر بھی ایسی گرپ رکھتا ہے جو دوسروں میں ان کے لئے ہمدردی یا تاسف کے جذبات کو جنم دیتا ہے۔ بہرحال اس انداز یا طرز قیادت کے ثمرات اور نتائج کا تنقیدی جائزہ بھی ضروری ہے۔ ایسی لیڈرشپ کے انداز کو انگریزی محاورے میں مائے وے یا ہائی وے کہتے ہیں، یعنی اگر ان کے بتائے راستے پر نہ چلا جائے تو سب کچھ قربانی کے لائق ہو جاتا ہے بشمول خود مقصد کے ؛ یعنی قوم کا اتحاد، معاشرتی اور معاشی ترقی۔
عمران کا سیاسی بیانیہ یہ ہے کہ ملک کی باگ ڈور صرف ان ہی کے حوالے کر دی جانی چاہیے ورنہ ملک تباہ ہو جائے گا۔ اس سب کو ایک تبصرہ نگار نے ایسے بیان کر رکھا ہے کہ عمران کا بیانیہ یہ نہیں کہ میں دوسروں سے اچھا ہوں (اور اس لئے مجھے سپورٹ کرو) بلکہ یہ ہے کہ دوسرے سارے برے ہیں۔ عام طور پر دوسروں کے مقابلے میں اپنے آپ کو اچھا کہنے کا دعوی پاور گیم میں شراکت داری کے لیے کیے گئے سیاسی یا جمہوری ڈائیلاگ کا حصہ ہوتا ہے اور جس کے لیے پھر اپنے دور حکومت کی کارکردگی کو بنیاد بنایا جاتا ہے۔ مگر عمران نا صرف اپنے دور حکومت کے دوران بلکہ بعد میں بھی اپنی حکومتی کارکردگی سے کہیں زیادہ اس بیانیہ پر زور دیتے نظر آئے کہ میرے مخالف چور اور کرپٹ ہیں، میری سیاسی جدوجہد حق و باطل کی جنگ ہے اور پھر یہ کہ میری حکومت کی برطرفی میں سازش شامل تھی۔
بظاہر عمران کی اپنے فالوورز پر ایسی گرپ ہے کہ ان کی حکومت کو گرانے کے پیچھے بیرونی سے اندرونی سازش کے بدلتے بیانیہ کی تبدیلی ان کے لئے کوئی تضاد نہیں رکھتی۔ جہاں وہ حکومت گرانے کی اندرونی سازش کا الزام فوجی اسٹیبلشمنٹ پر لگاتے ہیں ان کے اپنے ہی بیانات کے مطابق ان کے دور حکومت میں ملک کا سیاسی انتظام فوجی ایجنسیوں کے ہاتھ میں تھا اور اپنی حکومت کے آخر وقت تک وہ اس معاملے میں انہی پر منحصر نظر آئے۔ تو اگر سب سیاسی انتظام فوج کے ہاتھ میں تھا اور اس نے بوجوہ اپنی سپورٹ کھینچ لی تو عمران حکومت کے عدم اعتماد کی بنیاد پر گر جانا تو حیران کن نہیں رہتا۔
البتہ یہ سوال بنتا ہے کے عمران دور حکومت میں جس فوج کا سیاسی امور میں دائرہ کار بے مثل بڑھ چکا تھا اور جس کی مداخلت پر حکومت کا آخری وقت تک انحصار تھا اس نے عدم اعتماد کامیاب ہونے ہی کیوں دی؟ اور اگر عمران حکومت کے گرنے میں فوج کے ساتھ طاقت کی کشمکش شامل نہیں تھی تو پھر تھا کیا؟ کیا حکومت گر جانے کے پیچھے خراب معاشی کارکردگی اور بگڑتے ہوئے بین الاقوامی تعلقات تھے؟
میرا خیال ہے کہ فوج کا عدم اعتماد کو کامیاب ہو لینے دینے یا اسے تحریک دینے کے پیچھے عمران کی (ہر قیمت) پر اپنی عوامی مقبولیت یا ان کی عوام کے تصورات پر اپنی گرپ کو قائم رکھنے کی کوشش بھی شامل تھی۔ جس کی ایک مثال ایبسولیوٹلی ناٹ میں امریکہ کو ان فوجی اڈوں کی ڈیمانڈ پر ہدف بنانا تھا جس ڈیمانڈ کے وجود کا انکار عمران کے اپنے وزیر خارجہ اور نیشنل سکیورٹی ایڈوائیزر نے خود کیا اور دوسری مثال ترکی کے ساتھ مسلم ممالک کا ایک علیحدہ بلاک بنانے کی کوشش تھی جو سعودی عرب کے اسلامی دنیا پر اثر و رسوخ کے متوازی ہوتا۔ اور ان مثالوں کو عوام کی طرف سے پاکستان میں استحصال یا تسلط سے آزاد اور خودداری پر مشتمل خارجہ پالیسی کے استعارہ کے طور پر لیے جانے کی خواہش تھی۔
عمران جنہیں بقول خود خدا نے ہر چیز یعنی عزت دولت شہرت پہلے ہی دے رکھی تھی اور وہ ہر لالچ سے آزاد ہیں اب اپنی قوم کے لیے بھی ویسی ہی آزادی یا خودداری چاہیں تو اس میں کیا غلط ہے؟ شاید یہ کہ ایسی خارجہ پالیسی سے ہماری دفاعی افواج کو اسلحہ اور اس کے سپئر پارٹ یا ملک کو قرضوں کی فراہمی یا تجارتی منڈیوں تک رسائی یا مفت میں ملنے والا تیل دستیاب نہ رہے اور یہ بات بھی کہ غریب عوام کا پیٹ آزادی اور خود داری کے نعروں سے بھرتا بھی کہاں ہے۔ تو جب تک پاکستان دوسرے ممالک کی طرح معاشی طور پر اپنے پیروں پر کھڑا نہیں ہو جاتا، یہ سب عوامی مقبولیت کے حصول کے لئے لگائے غیر ذمہ دارانہ نعروں کے سوا کچھ اور ہے؟
پاکستان میں حالیہ ہوئے انتخابات میں پی ٹی آئی کے حاصل کردہ اور ممکنہ نتائج بھی عمران کی قوم پر گرپ کی ایک مثال ہیں۔ ان انتخابات میں جہاں تمام رکاوٹوں کے باوجود یا ان کی وجہ سے عمران کو ہمدردی کا ایسا ووٹ پڑ گیا جو کہ غیر متوقع تھا وہاں ایک اور کام بھی ہوا جو شاید زیادہ دیرپا ثابت ہو گا۔ اور وہ ان کے فالوورز بلکہ اب کچھ ناقدوں کی نظر میں بھی مظلومیت کا ایک تاثر اور تمام پچھلی غلطیوں کا یاداشت سے محو یا نظر انداز ہو جانا ہے۔ لیکن جن غلطیوں کا نتیجہ سیم پیج نامی اونٹ کو ملک کے پہلے سے شکستہ حال جمہوری خیمہ میں داخل ہونے کی ایسی دعوت ثابت ہو رہا ہے جو اب شاید طویل مدت تک بدو کو خیمہ سے باہر ہی رکھے گا۔
ایک موقع پر عمران خان نے ایک صحافی سے بات کرتے ہوئے اپنی باؤلنگ میں ایک کمزوری کا اعتراف کیا تھا اور یہ بھی بتایا کہ انہوں نے اس کمزوری کو کیسے کسی حد تک دور کیا تھا۔ یہ کمزوری ایک ہی رسٹ ایکشن یا گرپ کے ساتھ ان سوئنگ (ان کے لیے فطری) اور آؤٹ سوئنگ نہ کر سکنا تھا۔ انہوں نے اس بات کا ذکر ایک دوسرے پاکستانی باؤلر سے اپنے موازنہ میں کیا جو ایسا کرنے کے قابل تھا۔ عمران کے اپنے الفاظ میں آؤٹ سوئنگ کرنے کے لیے ان کا طریقہ گیند کو لیگ کٹر کے طور پر پھینکنا تھا اور جو ان کی اپنی دانست میں بھی اتنا موثر نہیں تھا۔ آج کل کی تازہ ملکی پاور گیم میں ایسا لگتا ہے کہ عمران خان کی عوامی مقبولیت بھی غیر موثر ثابت ہو رہی ہے یا کر دی گئی ہے حالانکہ جمہوری عمل کے تسلسل میں لیڈران کی سیاسی واپسی کی توقع رکھنی چاہیے۔
جے جی فیرل کے ناول کے اختتام تک اس کا مرکزی کردار محاورہ دی سنگاپور گرپ میں کسی غیر مہذب معنی کے ہونے کے امکان کو مسترد کر دیتا ہے اور استحصالی نوآبادیاتی نظام کی ہر قیمت پر مفاد پرستی کو ہی مطلب مان لیتا ہے۔ اور ہمیں بھی عمران خان کی ذاتی زندگی کی چوائسز پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہیے چاہے وہ خود پارسائی کے تاثر کے پروپیگنڈا یا اسلامک ٹچ سے ممکنہ فائدہ اٹھانے کی دانستہ کوشش میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ اور عمران کے طرز سیاست میں انتہائی نرگسیت، خود غرضی اور اہداف کی ہر قیمت پر تکمیل جیسے عوامل پر ہی زیادہ توجہ دینی چاہیے۔
اور اب مضمون کے آخر میں ایک سوال؛ کیا عمران خان اپنی گرپ بدلنا سیکھ سکتے ہیں یا پاکستان کے عوام اس گرپ سے باہر نکل سکتے ہیں؟


