عام انتخابات، انگریز دلہن اور عجیب و غریب آوازیں
فروری کو ملک خداداد میں عام انتخابات ہونے تھے۔ ان دنوں ایک پاکستانی نوجوان اپنی شادی کے لیے ایک گوری میم کو پاکستان لایا ہوا تھا تاکہ پاکستان میں دیسی شادی کے رسم و رواج کے ساتھ ساتھ گوری میم کو الیکشن کی گہما گمی اور الیکشن کلچر کو انجوائے کرایا جا سکے۔ پاکستانی نوجوان اور گوری میم کی شادی بڑی دھوم دھام کے ساتھ انجام پائی۔ گوری میم نے اپنی شادی کے روایتی لباس میں ملبوس دیسی ڈانس کر کے خود کو اور باراتیوں کو یہ محسوس کرایا کہ شادی ہو تو پاکستانی کلچر جیسی ہو انگریزوں کی شادی میں وہ رنگ و مزا نہیں جو پاکستانی شادی میں نظر آیا۔
گوری دلہن نے شادی ہال تک آتے آتے رستوں اور چوراہوں پر رنگ برنگے سیاسی جماعتوں کے پرچموں کی بہار دیکھی۔ الیکشن کے سیاسی نغموں کی گونجتی آوازیں اور لوگوں کے جلسے جلوسوں سے یہ لگ رہا تھا کہ یہ سب شاید اس کے باراتی ہیں اور یہ سب شور و غل اس کی شادی کہ وجہ سے برپا ہے۔ بہر حال شادی خانہ آبادی خیر و خیریت سے انجام پذیر ہوئی۔ باقی رہے پاکستانی انتخابات تو اس پر تبصرے اور تجزیے جاری و ساری رہے۔
شب کا آخری پہر تھا کہ گوری دلہن کو گھر سے عجیب و غریب آوازیں سنائٰی دینا شروع ہوئیں پہلے تو وہ آوازیں سنتی رہی مگر جب آوازیں زیادہ بلند ہونا شروع ہوئیں تو اس نے اپنے پاکستانی دولہے کو گہری نیند سے اٹھایا اور ان عجیب و غریب آوازوں کے بارے میں دریافت کیا کہ آخر یہ آوازیں نکال کون رہا ہے؟ پہلے تو دولہے نے ٹال مٹول سے کام لینے کی کوشش کی کہ ہو گا کوئی سو جاؤ چھوڑو ہمیں اس سے کیا! مگر گوری میم تجسس کے انداز میں بولی نہیں نہیں ایسا لگ رہا ہے کہ کوئی تمہارے گھر میں اتنی اونچی آوازوں کے ساتھ سیکس کر رہا ہے کہ آوازیں اوپر کمرے تک آ رہی ہیں۔
دولہا پہلے تو کچھ شرمندہ ہوا مگر پھر کھسیانی ہنسی کے ساتھ بولا کہ چلو دیکھ کر آتے ہیں کہ کون آوازیں بلند کر کے سیکس کو انجوائے کر رہا ہے۔ دولہا اور گوری دلہن جیسے ہی اوپر اپنے کمرے سے نیچے سیڑھیوں سے اترے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک دم ہی دولہے کا چھوٹا بھائی اپنے کمرے کا دروازہ زور سے بند کرتا نظر آیا تو گوری میم کو فوراً اس پر شک ہوا کہ ہمارے نیچے آتے ہی آوازیں بھی بند ہو گئیں۔ وہ مسکراتے ہوئے واپس اپنے کمرے میں لوٹ آئے۔
اور کچھ ہی لمحے بعد ان کے کمرے پر دستک ہوئی۔ جب دروازہ کھولا تو دیکھا کہ دولہے کا بھائی جو نیچے دروازہ بند کرتے نظر آیا تھا۔ وہ اپنے بھائی سے پوچھنے لگا کہ خیریت تو تھی نا آپ آدھی رات کو نیچے آئے کچھ چاہیے تھا؟ دولہے نے مسکراتے ہوئے کہا بس کچھ غلط فہمی ہو گئی تھی تمہاری بھابھی کو۔ چھوٹا بھائی مسکراتے ہوئے نیچے چلا گیا۔ اگلے دن ہر طرف انتخابات کے نتائج کا ہی چرچا تھا۔ کہیں چور، چور کی صدائیں بلند تھیں تو کہیں دھاندلی کا رونا تھا، انتخابات جتوانے کے لیے پیسے مانگے گئے کے الزامات تھے تو کہیں فارم 45 اور 47 کا تذکرہ تھا تو کہیں اس بات کی گونج تھی کہ دھاندلی کرنے والوں نے صرف آزاد امیدواروں کی لائنیں لگا دیں!
عجیب و غریب صورتحال تھی ملک خداداد میں۔ پنجاب میں وسیم اکرم پلس کی تاریخ کی بد ترین حکومتی کارکردگی کے باوجود قیدی کے بیانیے کا جادو چل گیا۔ سندھ کی قسمت میں مراد علی شاہ ہی ہے چاہے جی ڈی اے کا مضبوط بیانیہ اور پاکستان پیپلز پارٹی کی خراب ترین حکومتی کارکردگی کے باوجود بھی جی ڈی اے کی ضمانتیں ضبط ہوتی نظر آئیں۔ کراچی تو واپس جانا ہی تھا کراچی والوں کے پاس۔ خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی سوشل میڈیا انفلیونسرز نے تو 25 ہزار ماہوار پیسے لے کر آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا ایسا جادو جگایا ہے کہ کارکردگی ہو نہ ہو ووٹ تو خان کو ہی دینا ہے والی بات نظر آئی۔
باقی رہا بیچارہ بلوچستان اس کو تو سمجھو دشمن کی نظر ہی لگ گئی۔ اسلام آباد کے اقتدار کے ایوانوں میں تو حکومت کی رٹ چیلنج کی ہی نہیں جا سکتی۔ اتنی ساری باتیں اور نہ ختم ہونے والے ملکی مسائل اگر ہم گوری میم کو بتائیں وہ صورت یہ ہی کہ سکتی ہے او مائی گاڈ! کیونکہ ملکی معاملات تو راکٹ سائنس سے بھی زیادہ پیچیدہ نظر آ رہے ہیں۔ باقی انتخابات کی سیاست اور ملکی صورتحال کو ٹھیک کرنے کے لیے اگر الہ دین کو چراغ سمیت بھی بلایا جائے تو یقین مانیے وہ بھی گھبرا کر بھاگ جائے گا کہ بھائی یہ میرے بس کی بات نہیں۔
باقی بات رہی گوری دلہن کی تو وہ بیچاری اس پاکستانی الیکشن کو سمجھنے سے قاصر تھی۔ انتخابات کے ساتھ ساتھ محلے دار بچوں اور خواتین نے بھی اس انگریز دلہن کے سر میں درد کر ڈالا تھا۔ شام ڈھلتے ہی اس نے اپنے کمرے کا رخ کیا۔ آدھی رات ہوتے ہی وہ ہی عجیب وہ غریب آوازیں دوبارہ اسے سنائی دینا شروع ہو گئیں اور پھر دولہا دلہن آوازیں نکالنے والے کی تلاش میں نکل پڑے۔ اب کی باری سامنا دولہا میاں کے ابا جان سے ہوا جو نہایت غصے میں ان سے مخاطب ہوئے کہ بھلا رات کے اس پہر کس چیز کی تلاش میں ہو؟
ابا جی کا غصے میں بھرا یہ سوال سنتے ہی ان دونوں کا شک سیدھا ابا جی پر ہی گیا۔
اب اپنے شک کو یقین میں بدلنے کے لیے انہوں نے منصوبہ بنایا کہ اگلی رات وہ ابا جی کے کمرے کے قریب ہی گزاریں گے کہ آخر اصل ماجرا کیا ہے اس عمر میں آخر کار اتنی بلند آوازیں وہ کیسے نکال پا رہے ہیں؟ اور سارے گھر والے جن میں جوان بچے بچیاں بھی شامل ہیں وہ بھی تو ان آوازوں کو سنتے ہی ہوں گے انہیں کیا اس سے کوئی مسئلہ نہیں؟
اب کیا تھا کہ دونوں نے ابا جی کے کمرے کے قریب ڈیرا ڈال دیا ابا جی سمیت سب گھر والوں کی نظر ان پر تھی کہ کب وہ اوپر اپنے کمرے میں جائیں لیکن ان کا تو منصوبہ ہی کچھ اور تھا۔ آخر کار تھک ہار کر ابا جی اور اماں جان اپنے کمرے میں چلے گئے۔ کچھ ہی دیر گزری تھی کہ پھر وہی عجیب و غریب آوازیں آنا شروع ہوئیں تجسس کے مارے دولہا اور انگریز دلہن فوراً کمرے کی طرف لپکے تو دیکھا کہ ابو چپ چاپ بسترے پر لیٹے ہوئے تھے مگر آوازیں پھر بھی مسلسل سنائی دے رہی تھیں۔ تو ابا جی حیرانی سے پوچھا کہ آخر ہوا کیا ہے تو ان دونوں نے ان آوازوں کے بارے میں پوچھا تو ابا جی کمرے سے گلی کی طرف جاتا دروازہ کھولا تو وہاں ایک پاگل شخص یہ عجیب و غریب آوازیں نکال رہا تھا۔ ابا جی نے بتایا کہ جب اس پاگل کے گھر والے اس پر گھر کا دروازہ نہیں کھولتے تب یہ پاگل یہ عجیب و غریب آوازیں نکالتا رہتا ہے جس کے عادی پورے محلے والے ہو چکے ہیں۔ یہ سب ماجرا سنتے ہی دونوں میاں بیوی کھسیانی ہنسی ہنسنے لگے اور باقی سارے گھر والے ان کی یہ حالت دیکھ بہت محظوظ ہوئے۔


