مستنصر حسین تارڑ ۔ایک مکمل ادیب کا نامکمل خاکہ
اک وضاحت میں اپنے تئیں کرنا ضروری سمجھتی ہوں یہ خاکے نہ تو کوئی تعین و ترتیب ہے میری جانب سے بس یہ رگ جاں پہ ایک قرض ہے جو مجھے اس زندگی میں چکانا ہے، یہ وہ لوگ ہیں وہ قیمتی، اونچے ارفع، سنہرے سورج لوگ جو میرے اس ادبی سفر میں اپنی تحریر سے، اپنی گفتگو سے یا کسی بھی طرح میرے لیے مددگار ہی نہیں مہمیز ثابت ہوئے۔ میرے تخلیقی منطقے پہ اس تخلیقی جزیرے پہ مثل ابر و باراں برس گئے، ان کی تحریر و گفتار میرے لیے تحیر و اسرار کی وادی ثابت ہوئی اور میری مجذوبیت مجھے کیفیتوں کے انوکھے جہاں میں بہا لے گئی۔ شاید اس امر کی وضاحت کرنا بے معنی اور فضول ہو کہ کوئی شخص، کوئی تحریر، کسی کے لفظ یا کوئی واقعہ کوئی خبر کیسے تخلیقی منطقے کو مہمیز کرنے کا سبب بن جاتے ہیں۔
یہ خاکے شاید آپ کو کچھ ادھورے لگیں کہ شاید یہ نا مکمل عکاسی ہو مگر یہ بس وہی مشاہدہ و تجربے ہیں جو چند ایک ملاقاتوں کا محاصل ہیں یا پھر ان کی تحریر میرے اندر دبے سوالوں کا جواب دے کر مجھے مزید سوال تھما گئی۔
مستنصر حسین تارڑ کا نام اگر میں کہوں کہ ان میں سب سے اوپر آتا ہے تو یہ بے جا نہ ہو گا کہ میں ہی نہیں کئی نسلیں ہیں جو عہد تارڑ سے فیض یاب ہوئیں۔
میں اپنے بچپن کی راکھ کریدوں تو بطور اداکار تارڑ میری یادداشت میں محفوظ نہیں ہیں یا پھر مجھے متاثر نہیں کر پائے میں اس کا کوئی فیصلہ نہیں کر پاتی۔
اس سے اگلی سیڑھی نوجوانی کی ہے سکول کو تیار ہوتے، اپنے لمبے بالوں میں پراندہ ڈالتے میرے ہاتھ سست پڑ جایا کرتے تھے کہ سامنے ٹی وی پہ چاچا جی بیٹھے ہوتے تھے اور وہ ہم بیبے اور باں باں بچوں سے مخاطب ہوتے کتنے اچھے اور کتنے اپنے لگتے تھے یہ میری عمر کے بہت سے لوگوں کو یاد ہو گا، آج کی بات کے عنوان سے ان کی باتوں پہ مشتمل ایک ڈائری میں نے مرتب کر رکھی تھی شاید میرے لاشعور میں تب لکھاری بننے کی آرزو پلتی ہو وہ آرزو جس سے میں بے خبر تھی!
پھر کالج لائف میں داخل ہوئے تو ان کی پہلی کتاب جو پڑھی وہ پیار کا پہلا شہر تھی، اررے کیا بتائیں کہ پیرس کے منظر میں ناول کے ہیرو اور پاسکل اور اس کی معذوری حواس کو کتنے روز جکڑے رہی۔
اس کے بعد جو کتاب ہاتھ آئی ”غار حرا میں ایک رات“ تھی جس کا رنگ و ذائقہ بالکل الگ تھا، دل میں ایک کھوج تھی کہ اس شخص سے شاید کبھی میں مل سکوں اس سے بات کر سکوں۔
ان کے کالمز بھی بہت شوق سے پڑھا کرتی تھی کہ کتابوں اور دنیا جہاں کے قصے ہوتے تھے کئی کتابیں ان کے تذکرے کے بعد خریدیں۔
ایک کتاب جو ادبی دنیا میں وارد ہونے کے بعد ان کے تذکرے کے بعد لی وہ ڈاکٹر کاشف مصطفی کی دیوار گریہ کے آس پاس ہے یوں ڈاکٹر صاحب سے دوستی کا پہلا سبب وہی بنے۔
اس کے بعد ان کا ناول ”خس و خاشاک زمانے“ میرے ہاتھ آیا اور میں ذمہ داری سے کہہ سکتی ہوں کہ یہ ناول نہیں ایک عہد کی بوطیقا ہے یہ بہت طاقتور ناول ہے جو واقعی مجھے خس و خاشاک کی طرح بہا کر لے گیا، اس میں بیان کیے قصے کہانیاں و روایتیں مجھے میری نانی کی سنائی کہانیوں کی یاد دلاتی تھیں وہاں ایک ماہلو ہے اس کی پینگ ہے اور ہوشربا حسن، سانپوں کے سروں سے اُگے کھیت ہیں چناب کنارے بستے جاٹوں کے گاؤں ہیں ایک صدی کے قصے ہیں اور وہ بوہلی کتے ہیں جو ایک پل میں آپ کو ذات عرفان سے ملوانے پہ قادر ہیں، یہ ناول ایسا ہے کہ جتنی بار پڑھو نئی لذت ملے۔
میرا پہلا ناول شائع ہوا تو میں نے ڈرتے ڈرتے ہمت کر کے ناول ان کے نام پوسٹ کر دیا۔ پہلی کتاب آپ جانتے ہی ہیں یا ہمت و دل ہمیشہ کے لیے توڑ دیتی ہے یا پھر زاد راہ بن جایا کرتی ہے۔ جہاں بہت سے تلخ تجربے ہوئے وہاں پہلے ناول پہ ان لوگوں سے شاباش ملی جہاں سے امید ہی نہیں تھی، تارڑ صاحب ان میں سے ایک ہیں۔ ایک دن ایک کال آئی اور مجھ سے پوچھا گیا ”کیا آپ سمیرا بات کر رہی ہیں“ میں نے ترنت کہا ”جی سمیرا نہیں میں سمیرہ ہوں“ ۔
”جی جی میں مستنصر حسین تارڑ ہوں آپ کا ناول وصول ہوا تھا، میں نے سارا تو نہیں مگر کچھ صفحات پڑھے ہیں آپ کی اردو بہت اچھی ہے اور تحریر میں روانی ہے۔ “ چند منٹ بات ہوئی اور فون منقطع ہو گیا۔ یہ کال مجھے ہوا میں کئی دن اڑائے پھری، بھلا اپنے پسندیدہ مصنف کی شاباشی کال آپ کو کیسے نہ سرشار کرے۔
اس کے بعد ان کے بہت سے ناول میرے زیر مطالعہ آئے ”قربت مرگ میں محبت“ ، راکھ، اے غزال شب، ڈاکیا اور جولاہا، جپسی بہت پسند آئے۔ قلعہ جنگی افغانستان اور جنگ کے پس منظر میں ایک الگ ذائقہ ہے اور پھر بہاؤ آیا جو آپ کو دور تک بہا لے جائے ان کے کس کس ناول کو کہا جائے کہ یہ انہیں زندہ رکھنے پہ قادر ہے۔
”شہر خالی، کوچہ خالی“ کرونا جیسی وبا پہ لکھا وہ ناول ہے جو تارڑ جیسے قد آور ادیب کا ایک بس ایوریج ناول ہے۔ بہتر ہوتا کہ اسے ایک افسانے میں سمیٹ دیا جاتا۔
میں نے ان کے ناولز زیادہ پڑھے بہ نسبت ان کے سفر ناموں کے ہاں جب اخبار جہاں میں ان کا کالم چھپتا تھا تو وہ شوق سے پڑھا کرتی تھی۔ تارڑ نے مگر اتنا لکھا ہے کہ مجھ سا نالائق قاری مکمل پڑھنے کا اعتراف کیسے کرے۔ 15 کہانیاں کے نام سے افسانوی مجموعے کے بھی کئی افسانے پڑھ رکھے ہیں۔
فیصل آباد میں فیصل آباد لٹریری فیسٹیول تھا وہاں تارڑ صاحب سے میری پہلی ملاقات ہوئی، میرے بچے میرے ساتھ تھے اور وہ مجھ سے بھی زیادہ پرجوش تھے۔ ساتھ ہی عبداللہ حسین مرحوم بیٹھے ہوئے تھے تارڑ صاحب کو ملنے کو بہت سے لوگ جمع تھے۔ عبداللہ حسین بولے ”لیجیے آپ کی گوپیاں آ گئیں“ تارڑ صاحب نے نہ صرف مجھے پہچانا بلکہ یہ بھی بتایا کہ وہ میرے ایک دو افسانے بھی پڑھ چکے ہیں۔ پہلی ملاقات میں ان کے ناولوں کے حوالے سے تفصیلی بات ہوئی اور جیسا کہ ہر لکھاری کو اچھا لگتا ہے کہ ملنے والا ان کی تحریر کو گہرائی سے پڑھ کر بات کرنے پہ قادر ہے یہی وجہ ہے کہ انہوں نے مجھے اور میرے بچوں کو وقت بھی دیا تصویریں بھی بنوائیں یہ اور بات ہے کہ یہ وقت وہاں کئی لوگوں کو ناگوار خاطر گزرا۔ اس دن میں جس تارڑ سے ملی وہ اس تاثر سے مختلف تھا جو تحریر باندھتی ہے ایک ایسا بڑا ادیب ملا جو اپنے مقام و حیثیت سے خوب اچھی طرح واقف تھا مگر اپنے قاری کی توجہ آج بھی اسے خوش کرنے پہ قادر تھی۔
جب میرا دوسرا افسانوی مجموعہ آنے کو تھا تو یہ ذوقی صاحب اور یونس بھائی کی خواہش تھی کہ فلیپ تارڑ صاحب سے لکھوایا جائے جبکہ میں شدید متذبذب تھی بار بار کہتی یونس بھائی جو انہوں نے انکار کیا تو میری ہمت ٹوٹ جائے گی مجھے نہیں بھیجنا اور ذوقی صاحب اور یونس بھائی دونوں کہتے تھے وہ جینوئن ادیب ہیں وہ ضرور لکھیں گے۔ میں نے ذمہ داری یونس بھائی کو سونپی کہ پھر آپ ہی بھیجیں میں نہیں بھیجتی کہ تارڑ صاحب کے مزاج نازک سے ڈر لگتا ہے جانے کب کس بات پہ غصہ آ جائے۔
یونس بھائی نے مسودہ پیش کیا کہنے لگے ”کرن نے خود کیوں نہیں بھیجا۔ اس سے کہو مجھ سے رابطہ کرے“ اب میں نے دھڑکتے دل سے رابطہ کیا ہلکی پھلکی ڈانٹ کھائی اور تارڑ صاحب نے مسودہ پڑھنے کے بعد مجھے اپنی رائے بھجوا دی۔
اس کے بعد کبھی کبھار ان سے رابطہ رہا۔ پیاری لکھاری دوست رابعہ رحمان نے میری کتب کی تقریب پذیرائی اردو اکادمی لاہور میں رکھی جو کہ تارڑ صاحب کا پرانا گھر ہے، ہم نے بتایا کہ ہمارا ارادہ تارڑ صاحب سے ملنے کا ہے۔ رابعہ نے انہیں تقریب کے لیے انوائٹ کیا مگر انھوں نے معذرت کر لی لیکن اس کا ازالہ انہوں نے یوں کیا کہ اگلے روز ہم تینوں یعنی یونس بھائی، رابعہ رحمان اور مجھے اپنے گھر مدعو کر لیا۔ یونس بھائی، رابعہ میں اور چھوٹا بیٹا تارڑ صاحب کے ڈیفنس والے راحت کدے پہ حاضر ہوئے۔ ایک پرسکون اور شانتی بھرا ماحول تھا ان کا ڈرائنگ روم اور سٹڈی بہت آرٹسٹک اور نفیس ذوق کی حامل تھی۔ تارڑ صاحب کی صحت ان دنوں بہت اچھی نہیں تھی اس کے باوجود انہوں نے ہمیں بہت وقت دیا بہت باتیں ہوئیں سوالات ہوئے تفصیلی جواب سننے کو ملے میں نے ایک دو جگہ بولنے سے پہلے رابعہ سے بات کرنے کی کوشش کی تو مجھے تارڑ صاحب نے گھرک دیا ”چپ کر گلاں دی گالڑ“ لیجیے اب ہم تو دبک کر بیٹھ گئے اس کے بعد جتنے بھی سوال کیے بہت محتاط ہو کر کیے۔ میرا چھوٹا بیٹا جو اس وقت کچھ زیادہ چھوٹا تھا یہ ثقیل گفتگو برداشت نہیں کر پایا اور بار بار تنگ کرنے لگا کہ اٹھیں گھر چلیں، تارڑ صاحب خود اٹھے اور اس کے لیے بسکٹ کا جار لے آئے حالانکہ میں نے سن رکھا تھا کہ بچوں کو لے کر آنے کی اجازت نہیں تھی ان کے ہاں اور وقت کی پابندی بھی عائد تھی مگر مجھے اس روز دونوں استثنات ملیں۔ اک حساس شخص جو معاشرے کے مسائل سے نا اشنا نہیں تھا وہ جانتے تھے کہ میں فیصل آباد سے آئی ہوں اور میرے والدین حیات نہیں ہیں۔ سو بچے کو ساتھ رکھنا مجبوری تھی اک ایسا ادیب جس نے اپنے اندر کی حساسیت کو کچھ درشت لبادہ پہنا رکھا تھا، میں اس روز تارڑ صاحب کے گھر سے بہت سی حسین یادیں لے کر لوٹی۔
اس کے بعد کبھی کبھار رابطہ ہوجاتا تھا میسجز کا تبادلہ بھی ہو جاتا۔ میں نے یہی دیکھا کہ وہ ایک حساس شخص ہیں اور ان کی یادداشت غضب کی ہے۔
ایک بار کال پہ بات ہوئی تو کہنے لگے ”تم نے کوئی پرچہ چھوڑا بھی ہے جہاں تمھارا افسانہ نہ چھپا ہو تمھیں خود بھی پتہ ہے تم کہاں کہاں چھپ رہی ہو؟“ میں ہنسنے لگی میں نے کہا ”سر گھر سے نکلنا تو میرا محال ہی ہے پھر میرے پاس یہی حل تھا کہ لکھوں اور چھپوں سو میں نے بڑی ڈھٹائی سے ہر پرچے کو افسانے بھیجنے شروع کر دیے“ ۔ بات کچھ فلسفیانہ پہلو اختیار کر گئی، وجودی رائیگانی، انسان اور دیگر مخلوقات، شیطان کی سرگوشی کہ بس تم ہی ہو، اس گفتگو نے مجھے اتنا بے چین اور مہمیز کیے رکھا کہ میں نے ایک افسانہ ”تخلیقی منطقے کا موسم“ لکھا۔
ان کی پی ٹی آئی سے وابستگی ڈھکی چھپی نہیں تھی اس کا اظہار وہ بہت سی تحاریر میں بھی کر چکے تھے، میں نے جب انہیں بتایا کہ میں نے آغاز میں ووٹ دیا تھا عمران کو مگر اس کے آمرانہ متکبر رویے اور بہت سے عوامل نے مجھے اس سے برگشتہ کر دیا کہنے لگے یہ تمھارا جمہوری حق پے مگر اس کے بعد شاید وہ شرارتا ً نون لیگ کے خلاف میسجز مجھے بھیج دیتے۔ میں ہنس کر ٹال دیتی ایک دفعہ میں نے بھی جواباً پی ٹی آئی مخالف کچھ بھیج دیا تو خفا ہو کر مجھے واٹس ایپ پہ بلاک کر دیا۔ وقتی طور پہ تو غصہ آیا بہت دیر رابطہ منقطع رہا پھر جب وہ بیمار ہوئے تو میں رہ نہیں سکی کال کی بات ہوئی رابطہ پھر بحال ہو گیا، ان کے میسجز کا وہی ڈھب تھا میرے کسی بھی علمی ادبی میسج پہ جواب سیاسی ہی ہوتا ایک بار میں نے گلہ کیا اور اس رویے پہ دکھ کا اظہار کیا تو انہوں نے پھر ایسے میسجز بھیجنے چھوڑ دیے مگر اس کے باوجود ہماری گفتگو میں سیاست داخل ہو جاتی تھی اور جس میں اختلاف رائے ہوتا تھا۔
ان کی اکیاسیویں سالگرہ پہ گفتگو سنجیدہ ہو چلی تو میں نے میسج کیا سر یہ 81 نہیں بلکہ قلم کے لحاظ سے آپ کی 18 سالگرہ ہے ماحول خوشگوار ہو گیا۔
کچھ عرصہ پہلے میں نے اپنا کوئی کالم انہیں بھیجا شاید فکاہیہ کالم تھا شومئی قسمت کہ انہوں نے میرے کالم کے نیچے موجود پینل میں میرا کالم ”مجھے عمران خان ہی کیوں اتنا ناپسند ہے“ پڑھا اور پڑھ کر خوب خفا ہوئے میرے لاکھ صفائی دینے پہ کہ یہ میں نے نہیں بھیجا نہ میں آپ کو کبھی ایسی تحریر بھیجتی ہوں کہ آپ کی سیاسی وابستگی کے بارے علم ہے مجھے اور یہ کہ میں اس پینل میں اپنے کالمز ہائیڈ نہیں کر سکتی وہ گرج برس کر ایک بار پھر مجھے بلاک کر گئے اور یوں ایک بہت عمدہ ادیب جس کے ساتھ بہت سی اچھی یادیں وابستہ ہیں جس کی تحریر و تقریر سے میرا بچپن و نوعمری جڑے ہوئے ہیں سیاست نے ایک بار پھر خلیج حائل کردی۔ دل میں بار بار سوال اٹھتا ہے کہ سیاسی اختلاف رائے کیا بہت جمہوری حق نہیں ہے؟ اور یہ معرکہ کربلا تو ہے نہیں کہ حق و باطل یا ایمان و کفر کا فیصلہ ہے ہم سب کو اپنے حصے کا ”کم گلا سڑا“ سیب چننا ہے! اس سیاست کی نذر محبت بھرے تعلق کیے جا سکتے ہیں کیا؟
اور کبھی کبھی میرا دل کرتا ہے میں انہی کی طرح اک شرارت کروں، کال کر کے پوچھوں ”سر آپ ہی فرمائیے بھلا ان اداؤں سے کیا عمران خان مجھے مزید ناپسند نہیں ہو جائے گا؟“ اور اس کے بعد وہ شاید مجھے کال لاگ سے بھی بلاک کر دیں۔
لیکن یہ کہنے سے مجھے کون باز رکھ سکتا ہے کہ میں تارڑ کی تحریر کی مداح ہوں اور ان کی تحریر مجھ پہ دیرپا اثر چھوڑتی ہے کہ عہد تارڑ میں جینا بھی ایک اعزاز ہے اور ان سے تمام تر سیاسی اختلاف اور اس جا رہا نہ رویے کے مجھ جیسے بے شمار قاری ان سے بہت محبت کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے۔


