گاؤں میں مردے زندہ کرنے والا ایک ڈاکٹر
جونہی جنازہ میرے پاس سے گزرا میں ٹھٹھک گیا۔ میں نے کفن میں ملبوس میت پر نگاہ ڈالی اور جنازہ اٹھانے والے لوگوں کو جنازہ نیچے رکھنے کا اشارہ کیا۔ انہوں نے تذبذب کی حالت میں جنازے کو نیچے اتار کر زمین پر رکھا۔ تو میں نے ان سے درخواست کی کہ میں مردے کا منہ دیکھنا چاہتا ہوں۔ ایک بزرگ نے کفن کھول کر مجھے میت کا چہرہ دکھایا۔ میں تو چہرہ دیکھتے ہی بھانپ گیا تھا کہ یہ انسان اصل میں فوت نہیں ہوا بلکہ گم ہوا ہے۔
میں نے شرکاء سے درخواست کی کہ مجھے اس مردے کا علاج کرنے کی اجازت دے دیں۔ ان میں سے اکثریت کا خیال تھا کہ یہ ایک پاگل شخص ہے جو دیوانگی کی باتیں کرتا ہے۔ جو آدمی مر چکا ہے اس کا جنازہ پڑھایا جا چکا ہے۔ اب اسے دفن کرنے کے لیے جا رہے ہیں اور یہ شخص اس کے علاج کی باتیں کر رہا ہے میں نے انہیں سمجھایا کہ بھائیو! دیکھو تمہارے نزدیک تو یہ آدمی مر چکا ہے۔ مجھے ایک کوشش کر لینے دو ۔ تم ذرا سوچو اگر یہ آدمی زندہ ہو گیا تو اس میں تمہارا کس قدر بھلا ہے اور اگر یہ زندہ نہ ہو سکا تو تمہارا کوئی نقصان نہیں ہے۔
بات لوگوں کی سمجھ میں آ گئی اور انہوں نے مجھے علاج کرنے کی اجازت دے دی۔ میں نے فوراً ہی چند آدمیوں کو دیسی کھانڈ نکالنے والا ایک ڈرم، گوری گائے کا گوبر اور تین عدد مشکیں کنویں کے تازہ پانی کی لانے کے لیے گاؤں بھجوایا۔ چند منٹ میں ہی مطلوبہ اشیاء موقع پر موجود تھیں۔ میں نے پانی کی دو مشکیں ڈرم میں ڈال کر اس میں گوری گائے کا گوبر اچھی طرح ملوا دیا۔ اس کے بعد حاضرین سے کہا کہ مردے کو اٹھا کر سر کے بل گوبر ملے پانی میں ڈال دو ۔
کچھ لوگ مجھے اس طرح گھو ر رہے تھے کہ اگر ان کا بس چلے تو مجھے کچا چبا جائیں۔ بہرحال چار و ناچار انہوں نے ایسا ہی کیا۔ جونہی مردہ پانی میں ڈالا جا چکا تو میں نے مردے کے دائیں پاؤں کی چیچی کو ہاتھ میں پکڑ کر گھڑی پر ٹائم نوٹ کرنا شروع کر دیا۔ ٹھیک چار منٹ اور انسٹھ سیکنڈ کے بعد میرے ہاتھ نے چیچی میں ہونے والی خفیف سی حرکت کو محسوس کر لیا اور اس کے پورے تین منٹ بعد مردے نے پانی میں ہاتھ پاؤں چلانا شروع کر دیا۔
وہاں پر موجود تمام افراد پہلے تو سکتے کی کیفیت میں یک دم گم سم ہو گئے لیکن بات سمجھ آنے پر انہوں نے خوشی سے چلانا شروع کر دیا۔ مردے کو زندہ انسان کی شکل میں ڈرم سے نکالا گیا اور پانی کی تیسری مشک سے اسے نہلا دھلا کر صاف ستھرا کر کے کپڑے پہنائے گئے۔ اب کیا تھا۔ لوگوں نے جوش مسرت میں مجھے کندھوں پر اٹھایا اور ڈاکٹر صاحب زندہ باد، ڈاکٹر صاحب زندہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے واپس گاؤں کی طرف چل دیے۔ راستے میں ایک ڈھولچی بھی ساتھ مل گیا۔
تھوڑی دیر پہلے جو لوگ ایک مردے کی تدفین کے لیے گاؤں سے نکلے تھے اب وہ ڈھول کی تھاپ پر ناچتے گاتے گاؤں میں داخل ہوئے تو سارے گاؤں کے کمین حقیقت حال جاننے کے لیے باہر امڈ پڑے۔ جونہی انہیں پتا چلا کہ میں نے مردے کو زندہ کیا تو وہ فوراً ہی میرے مرید ہو گئے اور لگے میری منت سماجت کرنے کہ میں انہی کے گاؤں میں رہائش پذیر ہو جاؤں۔ ان کے بصد اصرار کے سامنے میری ایک نہ چلی اور بالآخر میں نے وہیں پر قیام کر لیا۔
میں پانچ سال وہاں رہا ہوں۔ میرا خدا جانتا ہے کہ میں نے ان پانچ سالوں میں ایک بار بھی گھر سے کھانا نہیں کھایا۔ لوگوں نے میرے کھانے کے لیے باریاں باندھ رکھی تھیں اور بعض اوقات اس سلسلہ میں چھوٹی موٹی لڑائیاں بھی ہو جاتی تھیں۔ لیکن پانچ سال کے طویل عرصہ کے بعد میں وہاں سے اکتا گیا اور چوری چھپے گاؤں چھوڑ کر یہاں چلا آیا اور اب میں آپ لوگوں کی خدمت کرنا چاہتا ہوں۔ یہ کہانی ڈاکٹر وادھو کی زبانی گاؤں کا ہر فرد اتنی بار سن چکا تھا کہ ہر ایک کو کوما اور فل سٹاپ کے ساتھ حرف بحرف یاد ہو گئی تھی۔
سچی بات تو یہ ہے کہ ڈاکٹر وادھو کو زندوں کو مردوں میں تبدیل کرتے ہوئے تو سبھی لوگوں نے دیکھا۔ بلکہ ایسا کرتے ہوئے بار بار دیکھا لیکن کسی مردے کو زندہ کرتے ہوئے دیکھنے کی حسرت ہی رہی۔ اس کے باوجود وہ ایک معالج کی حیثیت سے پورے گاؤں پر چھایا رہا۔ میرے بھائی کو بخار میں بہت زیادہ بولنے کی عادت تھی۔ ایک بار موصوف کو ان کے علاج کے لیے بلایا گیا تو مریض نے ڈاکٹر کا استقبال فصیح و بلیغ گالیوں سے کیا۔ ڈاکٹر صاحب نے تشخیص کیا کہ اسے جن بخار ہے۔ بخار اتارنے کے لیے گولیاں اور جن بھگانے کے لیے تعویذوں کی دھونی تجویز ہوئی۔ اسی طرح ٹھنڈا بخار و گرم بخار، آدھے سر کا درد اور نہ جانے کون کون سی بیماریاں ان کی اپنی ذاتی اختراع کے نتیجے میں وقوع پذیر ہوئیں۔
ایک دن ہم بیٹھک کے سامنے تھڑے پر چارپائیاں بچھائے بیٹھے تھے کہ ڈاکٹر صاحب کا ادھر سے گزر ہوا۔ ان دنوں ارشد صاحب کا میڈیکل کالج میں نیا نیا داخلہ ہوا تھا۔ ہم نے ازراہ تفنن ان سے دریافت کیا کہ ڈاکٹر صاحب ارشد کا میڈیکل کالج میں داخلہ ہو گیا ہے۔ اب یہ بھی پانچ سال بعد وہاں سے ڈاکٹر بن کر نکلے گا تو بڑے تعجب سے ارشاد ہوا۔ پانچ سال اتنا عرصہ ضائع کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ اسے میرے پاس چھوڑ دیں صرف چھ ماہ میں چھ ٹیکے اور دس کی دس گولیوں کا استعمال اسے سکھا دوں گا۔
اس کے بعد دنیا میں جہاں چاہے ڈاکٹری کر لے کبھی نہیں ڈولے گا۔ قصہ مختصر یہ ہے کہ ڈاکٹر موصوف نے ایک فرضی اور خود ساختہ داستان کی بنیاد پر تقریباً نصف صدی تک گاؤں میں میڈیکل پریکٹس بڑے دھوم دھڑکے کے ساتھ کی۔ اس عرصے کے دوران اس سے کبھی کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ تمہارے پاس کوئی ڈگری ہے یا تم نے یہ تعلیم کہیں سے حاصل کی بھی ہے یا نہیں۔ اگر کوئی شخص اس کے علاج سے فوت ہو جاتا تو اس کا مقسوم قرار دیا جاتا اور اگر کوئی شخص تندرست ہو جاتا تو وہ ڈاکٹر کا معجزہ ہوتا۔


