ناول اینمل فارم کا تعارف و جائزہ
اینمل فارم کی اشاعت 17 اگست 1945 کو انگلستان میں ہوئی اینمل فارم ایک کلاسیک اور با اثر تصنیف ہے جس میں ایک فکر انگیز کہانی بیان کی گئی ہے۔ ناول کا پلاٹ انقلاب، طاقت، بدعنوانی اور اختیارات کے غلط استعمال کے گرد گھومتا ہے۔ یہ ناول طنزیہ ہے اور اس کا انداز تحریر علامتی ہے۔ جارج آرویل نے سیاسی، سماجی اور مقتدر طاقتوں کے لیے علامتی طور پر مرکزی کرداروں کے لیے مختلف جانوروں کا استعمال کیا ہے۔ ہر جانور کی اپنی الگ شناخت اور عزم ہے جو مل کر حکمران طبقے کی نا انصافی اور جبر کے خلاف انقلاب برپا کرتے ہیں۔ لیکن جب اقتدار حاصل کر لیتے ہیں تو وہ بھی وہی کچھ ہی کرتے ہیں جو ان سے پہلے حکمران انجام دیتے تھے۔ اس ناول کے ذریعے مصنف نے طاقت اور اختیارات کے غلط استعمال کے خطرات اور اس کے ردعمل کی طرف توجہ مبذول کروائی ہے۔
جنگ عظیم دوم کے باعث کاغذ کی قلت پیدا ہو جانے کی وجہ سے انگلستان میں اس کی صرف 25،500 کاپیاں ہی چھپ سکیں لیکن 1950 میں جارج آر ویل کے انتقال کے بعد امریکا میں اس کی 590،000 کاپیاں چھپیں جو کہ ایک بہت بڑی تعداد تھی اور یہی اس ناول کی بے پناہ مقبولیت کا ثبوت تھا۔ اس ناول کا دنیا کی تقریباً تمام بڑی زبانوں میں ترجمہ کیا جا چکا ہے۔ اردو زبان میں اس کتاب کا ترجمہ ڈاکٹر جمیل جالبی نے 1958 میں کیا تھا۔
ناول کی کہانی مسٹر جونز کے مویشی خانہ کے گرد گھومتی ہے جو برطانیہ میں واقع ہے۔ فارم میں بے شمار جانور ہیں جو مسٹر جونز سے سخت ناخوش اور ناراض ہیں اور اس کی وجہ مسٹر جونز کا جانوروں کے ساتھ نا مناسب رویہ ہے۔ جانوروں میں ایک بوڑھا خنزیر جس کا نام میجر ہے کرشماتی صلاحیتوں کا مالک ہے۔ وہ دانش مند ہے اور مویشی خانے کے حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ وہ اپنی متاثرکن شعلہ بیانی سے تمام جانوروں کو متحد کرتا ہے اور انہیں بغاوت پر اکساتا ہے انہیں غلامی کے نقصانات اور آزادی کے فوائد کے بارے میں کہانیاں سناتا ہے۔
وہ جانوروں کو قائل کرتا ہے کہ سب کو مل کر مسٹر جونز کے جبر کا مقابلہ کرنا ہو گا اور مویشی خانے پر قبضہ کر کے ایسی آزاد حکومت تشکیل دینا ہو گی جس میں تمام جانوروں کے حقوق برابر ہوں اور سب کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے گا اور خوراک کی منصفانہ تقسیم بھی کی جائے گی۔ وہ ایک منظم جدوجہد کے بعد مسٹر جونز کو مویشی خانے سے بے دخل کر دیتے ہیں اور مویشی خانے پر قابض ہو جاتے ہیں۔ بوڑھا میجر انقلاب سے کچھ دیر قبل ہی انتقال پا جاتا ہے۔
اس کے مرنے کے بعد تحریک کی بھاگ دوڑ دو نئے کرداروں کے ہاتھ میں چلی جاتی ہے یہ بھی سور ہیں ان میں سے ایک کا نام نپولین اور دوسرے کا سنوبال ہے۔ یہ دونوں سور بھی دانائی میں تمام جانوروں سے افضل ہیں لیکن نپولین اکیلا ہی تمام تر اختیارات حاصل کرنا چاہتا ہے اور سیاست سے وہ اپنے ایک قریبی ساتھی کی مدد سے سنوبال کو مویشی خانے سے زبردستی بے دخل کروا کر واحد حکمران بن جاتا ہے۔ اس کے علاوہ انقلاب کے بعد مویشی خانے کا آئین تشکیل دیا جاتا ہے جس کے سات نکات ہیں۔
دو ٹانگوں والے (یعنی انسان) دشمن ہیں۔
جن کی چار ٹانگیں ہیں یا اڑنے کے لیے پر رکھتے ہیں وہ تمام دوست ہیں۔
کوئی جانور کپڑے نہیں پہنے گا۔
کوئی جانور بستر پر نہیں سوئے گا۔
کوئی جانور شراب نہیں پیے گا۔
کوئی جانور دوسرے جانور کو قتل نہیں کرے گا۔
تمام جانوروں کے حقوق برابر ہیں۔
سب جانوروں کو ان نکات پر عمل کرنے کی تلقین کی جاتی ہے جب کہ حاکم نپولین اور اس کے قریبی ساتھی ہر وہ کام انجام دیتے ہیں جو آئین کے خلاف ہے۔ نپولین بے دخل کیے گئے سنوبال کے بجلی پیدا کرنے والے ونڈ مل کے منصوبے کو اپنا بنا کر اس پر کام شروع کروا دیتا ہے۔ جب یہ منصوبہ تکمیل کے آخری مراحل میں پہنچتا ہے تو مویشی خانے پر ایک اور بیرونی حملہ ہوتا ہے جس میں مویشی خانے کا کافی نقصان ہوتا ہے اور ونڈ مل بھی تباہ کر دی جاتی ہے لیکن حملہ آور مویشی خانے پر قبضہ نہیں کر پاتے۔ اس حملے کی منصوبہ بندی کا الزام بھی سنوبال پر لگایا جاتا ہے حالاں کہ اس کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اس حملے کے بعد ایک آئینی ترمیم بھی کی جاتی ہے۔
”All animals are equals, but some animals are more equal than others.“
یعنی تمام جانوروں کے حقوق برابر ہیں، لیکن ان میں سے کچھ کو دوسروں پر فضیلت حاصل ہے۔
نپولین ایک ظالم حکمران ثابت ہوتا ہے۔ مویشی خانے میں نہ تو انصاف فراہم کیا جاتا ہے اور نہ ہی خوراک کی برابر تقسیم، لیکن کام پہلے سے بھی زیادہ سخت لیا جاتا ہے۔ وہ اختیارات کا غلط استعمال کرتا ہے اور طاقت کا بے دریغ استعمال بھی کرتا ہے اور سب جانور ڈر سے اس کا حکم بجا لانے پر مجبور کر دیے جاتے ہیں۔ مویشی خانے کے آئین کے مطابق سب انسان جانوروں کے دشمن ہیں اور ان کے ساتھ تعلقات رکھنے والوں کو غدار تصور کیا جاتا ہے لیکن نپولین آئین شکنی کرتے ہوئے انسانوں سے کاروباری مراسم قائم کر لیتا ہے اور انہیں ضیافت پر بلاتا ہے اور اپنے قریبی ساتھیوں سمیت بہترین لباس زیب تن کیے میز پر سجے بے شمار کھانوں پر ہاتھ صاف کرتا ہے۔ باقی جانور چپکے سے بے بسی کے عالم میں یہ سارا منظر دیکھ رہے ہوتے ہیں اور انہیں جانوروں اور انسانوں میں کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا۔
انیمل فارم طاقت کے غلط استعمال کی طرف توجہ دلاتا ہے۔ جیسے جیسے جانور مویشی خانے پر قبضہ جمانا شروع کرتے ہیں وہ ابتدائی طور پر اصول و ضوابط اور نظریات کا ایک مجموعہ تشکیل دیتے ہیں۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ رہنما اقتدار کے نشے میں اختیارات میں تجاوز کرتے ہوئے بدعنوان بھی ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ ان اقدار سے بھی روگردانی کر جاتے ہیں جن کے لیے کبھی انہوں نے جدوجہد کرتے ہوئے آزادی حاصل کی تھی۔ ناول میں انسانی فطرت میں موروثی خامیوں، صاحب اختیار ہو جانے پر طاقت کے غلط استعمال اور بدعنوانی کو فروغ دینے کے عمل کی نفی کی گئی ہے۔
جارج آرویل بیان بازی اور پروپیگنڈے کی طاقت پر روشنی ڈالتا ہے۔ وہ اس فکشن کے ذریعے رہنماؤں کے دوسروں کو قابو میں رکھنے کے حربوں، ان کے فن خطابت جیسے حیلوں سے بھی قاری کو متعارف کرواتا ہے۔ وہ آمریت، مساوات، عدم انصاف، بولنے کے حق سے محرومی اور شخصی آزادیوں کو دبانے کے خطرات کی نشان دہی کرتا ہے اور قارئین کو طاقت کی نوعیت اور اس کے غلط ہاتھوں میں چلے جانے پر ممکنہ نتائج پر غور کرنے کی ترغیب دلاتا ہے۔
بہرکیف ’اینمل فارم‘ بہترین، متاثرکن اور فکر انگیز علامتی ناول ہے جو روس کے انقلاب کے پس منظر میں تحریر کیا گیا تھا۔ جارج آر ویل اپنی تمثیلی کہانی کے ذریعے قارئین تک اپنا مخصوص پیغام پہنچانے میں کامیاب رہا ہے۔ اس ناول کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ کم ضخامت ہونے کے باوجود اس کا کینوس اتنا وسیع ہے کہ جس کے ذریعے انسانی رویوں اور معاشرت کی بہترین عکاسی کی گئی ہے۔


