محمود خان اچکزئی: صاحب بصیرت اور استقامت سیاستدان


الیکشن 2018 کے بعد مولانا فضل الرحمان نے جس تحریک کا آغاز کیا اس میں مختلف جماعتوں نے ساتھ دینے کا عہد کیا ابتدائی طور پر سفر ساتھ شروع کیا مگر اکثریت نے بیچ راستہ میں چھوڑ دیا۔ واحد محمود خان اچکزئی تھے جنہوں نے آخر تک ساتھ نبھایا۔ صرف ساتھ نہیں بلکہ ڈٹ کر کھڑے رہے کیوں کہ جمعیت علماء کی تحریک کا مقصد سیاست کو اسٹیبلشمنٹ کی شرارت، شراکت اور مداخلت سے محفوظ کرنا تھا۔ ہمارے اس نعرے سے محمود خان اچکزئی نے اتفاق کیا اور بھرپور ساتھ دیا۔ جب کپتان حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک وارد ہوئی اور کامیابی سے ہمکنار ہوئی تب محمود خان اچکزئی نے مولانا فضل الرحمان کو واضح الفاظ میں کہا کہ اس تحریک کا ساتھ نہ دے یہ ان لوگوں کی مرضی سے آیا ہے جس کے خلاف آپ ساڑھے تین سال تحریک لیڈ کر رہے تھے مگر مولانا فضل الرحمان نے تحریک عدم اعتماد کا بھرپور ساتھ دیا۔ تحریک کامیابی سے ہمکنار ہونے کے بعد سابقہ اپوزیشن حکومت میں بیٹھ گئی اور باقاعدہ وزارتیں لی گئی، ساڑھے تین سالہ تحریک نے جمعیت علماء کو جو کامیابی دی تھی وہ 16 ماہ کی حکومت نے ہم سے چھین لی، سولہ ماہ کی حکومت میں ہم نے جو بدنامی سمیٹ لینا تھی اور جو ناکامیاں ہمارے حصے میں آنی تھی وہ سب ہم پر گزری آخری ناکامی حالیہ انتخابی معرکہ میں ہماری بڑی شکست سولہ ماہ کی حکومت کا بڑا کارنامہ تھا اس حوالے سے ہمیں محمود خان اچکزئی نے پہلے آگاہ کیا تھا مگر ہم نے ان کی بات نہیں مانی پھر مجبوراً محمود خان اچکزئی کو ہمارے حکومت سے برات کا اعلان کرنا پڑا کہ میں پی ڈی ایم کا جس مقصد کے لئے حصہ تھا وہ ملکی سیاست کو اسٹیبلشمنٹ سے صاف کرنا تھا وہ پی ڈی ایم سے نہ ہوا لہذا اس حکومت سے جو ناکامیاں مملکت کے حصے میں آئی گی مجھے ان کا حصہ شمار نہ کرے اب وہی نعرہ تحریک انصاف کا ہے ملکی سیاست اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت سے صاف کرنا ہے محمود خان اچکزئی نے ان کی حمایت کا اعلان کیا اگر محمود خان اچکزئی میاں نواز شریف کا ساتھ دیتے تو ہر قسم عہدہ اور مراعات ان کے دہلیز پہ حاضر ہوتے، آرام اور سکون کی زندگی گزارتے۔

اپنی پارٹی کے لئے عہدے اور مراعات لے کر عیش کرتے مگر اس نے ایک بار پھر اسٹیبلشمنٹ کے خلاف طبل جنگ بجا دیا پاکستان کی سیاست کو مقتدرہ کی مداخلت سے پاک کرنا اچکزئی صاحب کا مشن ہے اس مقصد کے لئے وہ اپنے سیاسی مخالف کو تو چھوڑیے، جانی دشمن کے ساتھ ہاتھ ملانے کے لئے بھی تیار ہے

اچکزئی صاحب دوستی کے پکے ہے جس کو وفا کا ہاتھ دیا وہ کٹ سکتا ہے مگر چھوٹ نہیں سکتا۔
مولانا فضل الرحمان کی ساڑھے تین سالہ تحریک میں اچکزئی کی وفا پر جتنا بھی لکھا جائے کم ہے۔

اچکزئی وفا کا پیکر اور اصول کا ساتھی ہے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف جنگ میں اس کی کامیابی کے لئے دست بہ دعا ہیں۔ رب کریم اس کو اپنے مقصد میں کامیابی نصیب فرمائے۔

Facebook Comments HS