اچھرہ واقعہ: ریاست سے جنگل تک


اچھرہ بازار میں ہونے والے واقعہ پر پوری دنیا حیران ہے کہ اسلام کے عشق میں سرشار اور قرآن کی حرمت پر قربان ہونے والے ہجوم میں کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں تھا جو قرآنی آیات کی پہچان کر سکتا، اسلام کے متوالوں میں سے کسی کو بھی اس بات کا علم نہیں تھا کہ اس خاتون کی قمیض میں جا بجا نظر آنے والا لفظ ”حلوہ“ ایک عربی لفظ ضرور ہے مگر قرآن میں کہیں بھی موجود نہیں۔ نا ہی کسی نے یہ سوال اٹھایا کہ اگر عربی لفظ ”خنزیر“ بھی خوبصورت کیلیگرافی میں لکھ دیا جائے تو کیا وہ مقدس ہو جائے گا؟

اور تو اور ”مومنوں“ کی اکثریت یہ سمجھنے سے بھی قاصر ہے کہ عربی صرف قرآن کی زبان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں 300 ملین سے زیادہ لوگوں کی مادری زبان بھی ہے جہاں سڑکوں کے بل بورڈز سے بیت الخلا کے دروازوں تک ہر لفظ عربی میں ہی لکھا جاتا ہے۔ پاکستان میں جب بھی ایسا کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے تو ایک ہی سوال اٹھتا ہے کہ کیا غیرت مند مسلمان صرف پاکستان میں ہی موجود ہیں؟ اور غیرت بھی ایسی جس میں بے غیرتی کوٹ کوٹ کر بھری ہو۔

یہ جہالت ہے یا پاگل پن، معصومیت ہے یا منافقت کہ عربی کا ایک لفظ قمیض پر نظر آئے تو گستاخی، قرآنی آیات پر مشتمل چادریں قبروں پر چڑھائی جائیں تو عقیدت۔ قرآن کے سائے میں بیٹیوں کو رخصت کرنا لازمی لیکن قرآن کو کھول کر پڑھنا شاذ و نادر، قرآن خوانی کی ترغیب مگر قرآن فہمی معدوم۔ سچ تو یہ ہے کہ قرآن کو چوم چوم کر اس قدر بلند طاقوں میں رکھ دیا گیا ہے کہ بس اسے چوم چوم کر اور جھوم جھوم کر پڑھنے کی رسم ہی باقی رہ گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنی آیات کو پہچاننے کے لئے بھی علما کرام کی خدمات لی جاتی ہیں۔

قرآنی آیات کی حرمت کا خیال رکھنے والوں نے کبھی یہ سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کی کہ وہ قرآنی احکامات کی بے حرمتی میں کس طرح ملوث ہیں۔ ہمارے معاشرے کا چلن دیکھیں اور قرآن کی تعلیمات تو منافقت صاف ظاہر ہے۔ قرآنی آیات تو کہتی ہیں کہ کم مت تولو، نا انصافی مت کرو، فساد مت پھیلاؤ، کوئی خبر پہنچے تو تحقیق کر لیا کرو، غریبوں کا خیال رکھو، یتیموں کا تحفظ کرو، کمزور کی مدد کرو، بھوکے کو کھانا کھلاؤ، ضرورت مندوں پر مال خرچ کرو، وراثت کی تقسیم اللہ کے حکم کے مطابق کرو، جھوٹ مت بولو، رشوت مت لو، جھوٹی گواہی مت دو ، بے حیائی سے بچو، زنا سے بچو، قتل مت کرو، چوری مت کرو، ملاوٹ مت کرو، گناہ اور زیادتی میں تعاون نا کرو، لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ، جس پر خود عمل نا کرتے ہو اس کی نصیحت بھی مت کرو۔ قرآن نے مزید یہ بھی سمجھا دیا کہ دین میں کوئی زبردستی نہیں اور دین میں داروغہ نا بنو، نا صرف یہ بلکہ قرآن نے تو یہ تک کہہ دیا کہ

جب تم کسی کو اللہ کی آیات کا مذاق اڑاتے سنو تو ان کے ساتھ نہ بیٹھو یہاں تک کہ وہ دوسری باتوں میں مصروف ہو جائیں (سورہ النساء، آیت 140 ) ۔

کیا کسی نے اس آیت میں پوشیدہ حکمت جاننے کی کوشش کی؟ ایسا اس لئے کہا گیا کہ اگر مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوں تو وہ طیش میں آ کر کوئی انتہائی قدم نا اٹھائیں۔ اب اس سے زیادہ مسلمانوں کو انسان بننے کے لئے کیا چاہیے؟ سچ تو ہے کہ قرآن کو سمجھ کر پڑھنے والا شخص کبھی اچھرہ والے واقعات میں ملوث نہیں ہو سکتا کیونکہ قرآن تحقیق کیے بغیر کوئی قدم اٹھانے کا درس ہی نہیں دیتا اور قرآن کی تعلیمات پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مذہبی شدت پسندی میں پر تشدد ہونے والا ہجوم غیرت مند نہیں بلکہ فساد فی الارض کا مرتکب ہے اور انہیں سخت سزا دینے کی بجائے معافی مانگنے والا معاشرہ جنگل تو کہلا سکتا ہے مگر ریاست نہیں۔

کیونکہ ایسا تو جنگل میں ہی ہو سکتا ہے کہ ”گولی“ مارنے کی دھمکی دینے والا شخص تو پولیس کے ساتھ سینہ تان کر فخر سے کھڑا ہو اور ہراساں کیے جانے والی خاتون پولیس کی موجودگی میں ہاتھ جوڑ کر اس گناہ کی معافی مانگے جو اس نے کیا ہی نا ہو۔ سچ تو یہ ہے کہ اے ایس پی شہربانو نے اس خاتون کی جان تو بچا لی مگر اس کی عزت نفس نہ بچا سکی۔ جان بچانے پر میڈل ضرور دیں مگر مذہبی انتہاپسندوں کے ہاتھوں قوم کی اجتماعی عزت نفس مجروح ہونے پر ماتم تو کر لیں اور مان لیں کہ اچھرہ والے واقعہ کے بعد پولیس اسٹیشن میں جو کچھ ہوا وہ شدت پسندی کے سامنے ریاستی اداروں کی ناکامی اور بے بسی کا کھلا اعلان ہے۔

یاد رکھیں کہ اب اس جنگل کو ریاست بنانے کے لئے اتنی ہی کوششوں کی ضرورت ہے جتنی اس ریاست کو جنگل بنانے کے لئے کی گئیں تھیں۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر نازیہ نذر

ڈاکٹر نازیہ نذر سے ان کی ایمیل پر رابطہ کیا جا سکتا ہے nazianazar783@gmail.com

dr-nazia-nazar has 7 posts and counting.See all posts by dr-nazia-nazar