حلوہ اور عمومی رویہ


پچھلے کچھ دنوں سے ہر جگہ پہ ایک ویڈیو وائرل تھی کہ ایک عورت جس نے عربی کیلیگرافی کے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ اس پہ حلوہ لکھا ہوا تھا جس کو دیکھتے ہی کچھ حضرات بھڑک اٹھے اور انہوں نے کہا جی ان کے کپڑے چینج کروائے جائیں۔

پولیس آئی اور ایک ڈرامہ برپا ہوا۔

پولیس کا اس معاملے کا اچھی طرح سنبھالنا قابل تعریف عمل ہے۔ اور کچھ لوگوں کے مطابق یہ پولیس کی حیثیت کو بہتر کرنے کے لیے رچا گیا منصوبہ تھا۔

ساری باتیں ایک طرف، اس بات پر زور دیا گیا کہ کہ جی حلوہ پہنیں تو کیا ہو گیا ہم لوگوں کو تربیت کریں۔ ہم یہ کریں قرآن پاک پڑھائیں کہ وہ حلوہ اور کسی دوسرے لفظ کی پہچان کر سکیں۔ تو اس طرح کی باتوں سے آج ہم لوگ یہ کر لیں گے کہ ہم نے اگر حلوہ لکھا ہے تو کچھ نہیں کل کو اگر کلمہ بھی لکھا ہوا ہو گا تو ہم کہیں گے وہ عربی لکھی ہوگی کیلی گرافی ہو گئی پھر ساتھ ہم مکہ مدینہ کے سیوریج لائنز ہیں ان کی تصاویر دکھانا ہے کہ وہاں پہ بھی جا کے لڑائی کرو۔

ہمارے ملک میں کافی عرصے سے منٹو دوپٹے وائرل ہیں ان کے اوپر غزل شعر و شاعری مختلف اقوال وغیرہ لکھا ہوتا تھا وہ اردو لکھے ہوتے ہیں ہم آسانی سے پڑھ لیتے ہیں۔ حالانکہ وہ کوئی خاندانی ڈیزائن نہیں تھے۔ اور بہت سے لوگ اس کو ناپسند کرتے تھے۔

اب جب ہمارے پاس ایک غیر ملکی برانڈ اور دوسری زبان کا برانڈ ہمارے پاس لکھا ہوا آئے گا تو فساد تو برپا ہو گا۔ سمپل عربی میں اور کیلیگرافی میں اچھا خاصا فرق ہوتا ہے۔ قرآن کی آیات ہی کیلی گرافی ہوتی ہوئی آئیں ہیں۔ اور لفظ ”حلوہ“ کیلی گرافی سٹائل میں تھا۔ حلوہ لفظ کا مطلب صرف حلوہ ہی نہیں تھا اس کا مطلب ہے خوبصورت پیارا۔ تو یعنی اپ کسی کو دعوت دے رہی ہیں کہ آؤ مجھے دیکھو کہ میں کتنی خوبصورت کتنی پیاری لگ رہی ہوں یہ تو پھر خود کی نمائش ہوئی ہم لوگ بس ایک ہی چیز کے پیچھے پڑ گئے ہیں کہ جی بس اپنی تعلیم و تربیت کریں۔ تربیت کریں لازمی تعلیم و تربیت کی ہمارے معاشرے کو ضرورت ہے لیکن اتنی ہی ضرورت ہے کہ ہم اس کو بیاں کر سکیں یہ نہیں کہ ہم ایک بے حیائی کی چیز کی اگے بڑھانے میں مدد کریں۔

بہت سے لوگوں کو اختلاف ہو گا کہیں گے کہ اپ بھی اسی سوچ کے مالک ہیں جو مولوی ہیں مولوی جیسے بھی ہو ہمیں مولویوں سے زیادہ نا خود پہ غرض کرنی چاہیے میں یہ کہوں گی کہ کوئی فرض نہیں ہے مولویوں پہ ہی اسلام کو لاگو کرنا ہمارا اپنا بھی فرض ہے وہاں پہ صرف مولوی نہیں تھے وہاں پہ بہت سے اور لوگ تھے۔ ویڈیو تو عام لوگوں نے بنائی۔ بس مولویوں کو آگے کر دیا۔ ادروائز وہاں پہ بہت سے لوگ تھے۔ سب نے اس کو گھور گھور کے دیکھا ہو گا۔ اس کے جسم کو ٹٹولا ہو گا۔ جب انکھوں سے ٹٹول ٹٹول کے ان کو بس وہ کیلیگرافی ہی نظر آئی رنگ برنگی تو انہوں نے یہ سمجھا کہ بس اس نے بے حرمتی کر دی۔

تو اب انہوں نے اس چیز پہ زور نہیں دیا کہ وہ اس کے جسم کو ٹٹولنے کے ساتھ ساتھ الفاظ کو بھی ٹٹول لیں کہ وہ لکھا کیا ہوا ہے اسلام میں ویسے بھی مردوں کو نظریں جھکانے کا حکم ہے جہاں پہ قرآن مجید میں کہا گیا ہے کہ عورتیں پردہ کریں اور گھروں میں رہیں وہیں پہ اللہ پاک نے مردوں کو بھی نظر جھکانے کا حکم دیا ہے اب مجھے تو ڈر ہے کہ جب اگلا آٹھ مارچ آئے گا تو پھر کیا کچھ ہمیں دیکھنے کو ملے گا۔ یہ لباس عرب برینڈ کا تھا تو ادھر ہی پہنتے تاکہ ایسا کوئی ایشو نہ بنتا۔

ویسے بھی فسادات برپا کرنے میں تو ہم ماہر ہیں۔ پہلے ہی ہمارا ملک ایک مشکل دور سے گزر رہا ہے تو کم از کم ہم عوام ہی کچھ صبر و استقامت کا مظاہرہ کر لیں۔ برداشت پیدا کریں۔ تاکہ دنیا میں کچھ تو عزت رہ جائے۔

Facebook Comments HS