پرویز رشید کو بھی ”حافظ کے حلوہ“ سے نواز دو
سب کے لیے موسم بدل رہا ہے۔ میمو گیٹ اسکینڈل کے سیاسی شہید حسین حقانی پر جو پابندی عائد تھی اس کا نصف حصہ ختم کیا گیا ہے اور وہ آج کل جنگ میں ہر ہفتے تقریباً حاضری دے رہے ہیں۔ پاناما کیس کے عدالتی شہید میاں نواز شریف نہ صرف ملک آئے، تاحیات نا اہلی ختم کروائی، قومی اسمبلی کے ممبر بنے مگر اپنی جماعت کی سربراہی میں وفاق اور پنجاب میں حکومت بنانے کا اعزاز بھی حاصل کیا ہے۔
انتخابی مہم کے دوران نواز لیگ والوں کا ملکی ووٹرز سے مطالبہ تھا ”پاکستان کو نواز دو“ ۔ ووٹرز نے تو نواز کو نواز کی تقاضاؤں کے مطابق نہیں نوازا مگر پنڈی والے ”حافظ کے حلوے“ سے انہوں نے جان کی امان پائی ہے۔ کل تک اخبارات اور ٹی وی پر بالکل اس ہی طرح میاں کا نام اور تصویر نہیں آتی تھی جیسے آج عمران کی۔ عمران کا ”چلا“ ادھورا تھا اس کے نتیجے میں ان کو ”فیض ادھورا“ ملا۔ اس کے مقابلے میں نواز کو تو ”حافظ کا حلوہ“ مکمل نصیب ہوا ہے۔ اس حلوے کا ذائقہ ابھی تک پتہ نہیں کیوں ڈان لیکس کی پہلے شہید سینیٹر (ر) پرویز رشید تک نہیں پہنچا۔ یہ وہ جان لیوا حلوہ نہیں جو عربی عبارات میں خاتون کے کپڑوں پر لکھا ہوا تھا اور وہ اچھرہ بازار لاہور میں ہجوم کے ہاتھوں ماری جاتی اگر زندگی کے فرشتے جیسی اے ایس پی شہر بانو نقوی ان تک نہ پہنچتی۔
ملکی اقتدار کے ٹیڑھے آنگن میں پاؤں رکھنے کے لیے ابھی تک پرویز رشید کی قبولیت شاید ممکن نہیں ہوئی۔ ان کو عرفان صدیقی صاحب سے عرفان لے کر حافظ کے حلوے تک پہنچنے والے راستے کا پتہ شاید معلوم نہیں۔ حالانکہ کل کے مہا غدار آج ہول سیل دام پر قبول کیے جا چکے ہیں۔ ان کے لیے راستے کھل چکے ہیں مگر پرویز رشید اور سرل المیڈا کے لیے وہ ہی پابندی کا بورڈ لگا ہوا ہے۔
المیڈا تو سانپوں سے کھیلنے والے شوق میں ابھی تک ایکس پر بانی تحریک انصاف سے محبت کا اظہار کر کے لگے ہوئے ہیں۔ وہ پنڈی بوائز کی ناراضگی کو برقرار رکھنے کی مشق جاری رکھے ہوئے ہیں مگر پرویز رشید تو اب ووٹ کو عزت دلوانے یا ایسی کوئی عزت بحال کروانے کی ضد بھی نہیں کرتے ان کو تو مارچ میں ہونے والے سینٹ الیکشن میں ممبر بننے کا حق ملنا چاہیے۔
گزشتہ سینیٹ الیکشن میں ”ڈان“ کے نام سے پنڈی بوائز کو چڑ تھی اور انہوں نے پرویز رشید کا نامزدگی فارم اس بنیاد پر رد کروا دیا تھا کے ان پر پنجاب ہاؤس کے واجبات ہیں۔
پنجاب ہاؤس کا قرضہ پرویز رشید پر ابھی باقی ہے یا باقیوں کی طرح پرویز رشید نے بھی وہ قرضے بھی اب اتار دیے ہیں جو ان پر واجب تک نہ تھے۔ کیا پرویز رشید کو سینیٹ تک پہنچنے کی این او سی ملے گی یا یہ آفر صرف محدود لوگوں کے لیے تھی۔
ڈان لیکس کے سیاسی شہید پرویز رشید کو اگر کسی ایوان میں آنے کی اجازت نہیں دی جا رہی کم سے کم کبھی کبھی عاصمہ شیرازی اور حامد میر کے ساتھ ٹی وی اسکرین پر آنے کی تو اجازت مل جانی چاہیے۔
بس تو پھر چنو نئی سوچ کو اب پرویز رشید کو بھی نواز دو اور حافظ کا حلوہ پیش کرو۔


