میرا شہر ملتان


یہ امر بھی سچ ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں ملتان میں آلودگی کی شرح بڑھی ہے مگر با وجود اس کے ملتان کی فضا کس بھی حساس آدمی کے لئے اتنی متحرک ہو سکتی ہے کہ خوامخواہ کچھ کہنے کو جی چاہتا ہے۔ مجھ میں بھی کوئی چیز ابل سی رہی تھی کہ مدت ہوئی کچھ لکھا نہیں پھر اچانک زیر لب ایک تحریک پیدا ہوئی کہ کیوں نہ اپنے شہر پر ہی لکھا جائے۔ لیجیے پھر۔

گزشتہ برس ملتان ( پاکستان ) اور بخارا ( ازبکستان) کو تصوف اور مشترکہ ثقافت کی وجہ سے Sister Cities قرار دیا گیا ہے۔ ان دونوں شہروں کے متعلق دو اشعار بہت مشہور ہیں۔ ملتان جس کے متعلق شیخ بہا الدین نے فرمایا:

ملتان ما بہ جنت اعلی برابر است
آہستہ پا بنہ کہ ملک سجدہ می کنند
ترجمہ : ملتان عرش بریں کی مانند ہے آہستہ قدم رکھیے کہ فرشتے سجدہ کر رہے ہیں۔
بخارا ایک تاریخی اور خوب صورت شہر ہے۔ معروف شاعر حافظ شیرازی نے کہا تھا :
اگر آں ترک شیرازی بدست آرد دل مارا
بخال ہندوش بخشم سمرقند و بخارا

ترجمہ: اگر میرا محبوب میری دلداری پر آمادہ ہو جائے تو میں اس کے رخسار پر چمکنے والے تل پر سمرقند و بخارا نچھاور کردوں۔

ملتان کی تاریخی حیثیت بہت مستند ہے۔ لفظ ’ملتان‘ کی بات کی جائے تو اس کے بارے کئی روایات ہیں۔ کسی نے اس کو مالی استھان کی بگڑی ہوئی صورت قرار دیا۔ ”استھان“ سنسکرت زبان میں ’جگہ‘ کو کہتے ہیں۔ اور مالی۔ استھان ایسی جگہ کو کہیں گے جہاں مالی قوم آباد ہو۔ کہاں جاتا ہے جب سکندر اعظم نے 326 قبل مسیح میں ملتان پے حملہ کیا جسے Mallian Compaign کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس وقت سکندر کو ملی قوم کی طرف سے مارا گیا زہریلا تیر تھا جس کی وجہ سے وہ جانبر نہ ہو سکا اور واپس یونان جاتے ہوئے راستے میں چل بسا۔

بچپن سے میں اس شہر کی وجہ شہرت ”شہر اولیا“ سنتا آیا ہوں۔ بڑی عجیب بات ہے کہ روز بارہا بار سامنے سے گزر ہوتا ہے مگر زندگی کی مصروفیت کہیے کہ آج تک کسی بزرگ کے مزار پر نہیں جا سکا۔ اولیاؒ کے مزار شہر میں چاروں جانب پھیلے ہوئے ہیں۔ ابھی بھی بہت سے بزرگ دنیا کی نگاہوں سے پوشیدہ قبروں میں خوابیدہ ہیں اور ان کے مزار نہیں ہیں۔ اردو کے مشہور شاعر مصحفی نے ہندوستانی شہر بدایوں کے بارے کہا تھا۔

~ ظالم تری گلی بھی بداؤں سے کم نہیں
ہر گھر میں جس کے مزار شریف ہے

یہی صورتحال یہاں ہے۔ سب سے نمایاں اور بڑے بزرگ بہا الدین زکریا ہیں۔ ان کے مرید دنیا بھر سے ہر سال عرس کے موقع پر ان کے مزار شریف پر حاضری دینے آتے ہیں۔ عقیدت میں دو سے تین کلو میٹر پیچھے سے ہی ننگے پاؤں اور ”دم بہاوالحق“ کے نعرے مارتے مزار تک آتے ہیں۔ 1964 میں ملتان کی تاریخ کا یہ پہلا واقعہ تھا جب ملائشیا کے وزیر اعظم تنکو عبدالرحمن خصوصی طور پر شیخ بہا الدین اور ان کے پوتے شاہ رکن عالم کے مزار پر تشریف لائے۔ حضرت شاہ رکن عالم کا مزار اپنے ترچھے طرز تعمیر کی وجہ سے بہت مشہور ہے۔ اس عمارت کی تعمیر بادشاہ غیاث الدین تغلق نے تعمیر کروا تھا۔ اس مقبرے کو 1983 میں انٹرنیشنل آغا خان ایوارڈ برائے تعمیرات مل چکا ہے۔ اس طرح کے طرز تعمیر کی ہشت پہلو کہا جاتا ہے۔

یہاں ملتان کی چند غیر معروف مگر نابغہ روزگار علمی و ادبی شخصیات کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔

بیسویں صدی کے اوائل میں ملتان کی تحصیل کبیروالا کے ایک گاؤں میں ہر ”گوبند کھورانہ“ نامی بچہ پیدا ہوا۔ کون جانتا تھا کہ یہ بڑا ہو کر نوبل انعام کا مستحق قرار پائے گا۔ ان کو بائیو کیمسٹری میں 1968 میں نوبل انعام سے نوازا گیا۔ انہوں نے ایک پہلی بار لیبارٹری میں مصنوعی جین ( Artificial Gene) تیار کی جو کہ بعد میں آگے چل کر Insulin کی دریافت اور عام دستیابی کا مؤجب بنی۔ بعد ازاں وہ تقسیم برصغیر کے بعد ہندوستان چلے گئے۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہ ملتان کو بھی اتنے ہی عزیز ہیں جتنے ہندوستان کو ہیں۔

اسد ملتانی ایک منجھے ہوئے شاعر گزرے ہیں۔ شاعر مشرق علامہ اقبال کی فکری چھاپ آپ کے کلام میں نظر آتی ہے۔ سپوت ملتان و عظیم محقق اخلاق احمد قادری نے ”تاریخ ملتان“ میں یہ تک لکھا ہے کہ علامہ نے اسد ملتانی کو ”افسر الشعرا“ کا خطاب بھی دیا۔ کسی بھی ادیب و شاعر کے لئے یہ بہت سعادت کی بات ہے۔ اسد ملتانی نے فرمایا :

~ اہل ملتان از تکلف بے نیاز
سادہ دل ’شیریں زباں‘ مہمان نواز

اگر میں اپنے مضمون میں اس شخصیت کا ذکر نہ کیا تو بہت بڑی بددیانتی ہوگی۔ یہ ملتان کے چمن کا سب سے دل آویز پھول ہیں۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ خوش گفتار ’پر جوش مبلغ کے طور پر انگریز استعماریت کے خلاف نمودار ہوئے۔ ان سے راقم کا تعارف شورش کاشمیری کی تصانیف کے ذریعے ہوا تھا۔ مولانا ظفر علی خان نے آپ کے بارے تاریخی الفاظ کہے تھے ”بلبل چہک رہا ہے‘ ریاض رسول ﷺ میں“ ۔

فہرست بہت طویل ہو جائے گی۔ نیز یہ کہ کرہ ارض کا یہ خطہ عظیم الشان شخصیات سے مکمل رہا ہے۔ مگر نوجوان شعرا اور ادیبوں سے ایسی کچھ مہک نہیں آتی۔ خیر یہ صورتحال ملک گیر ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ جن ادبی جواہر اور پھولوں سے ہمارا دامن بھرا ہوا ہے ہم نے ان کو اپنی آنی والی نسل سے متعارف نہیں کروایا۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے بچوں کو اسلاف سے روشناس کروائیں۔

Facebook Comments HS