میرا شہر ملتان

یہ امر بھی سچ ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں ملتان میں آلودگی کی شرح بڑھی ہے مگر با وجود اس کے ملتان کی فضا کس بھی حساس آدمی کے لئے اتنی متحرک ہو سکتی ہے کہ خوامخواہ کچھ کہنے کو جی چاہتا ہے۔ مجھ میں بھی کوئی چیز ابل سی رہی تھی کہ مدت ہوئی کچھ لکھا نہیں پھر اچانک زیر لب ایک تحریک پیدا ہوئی کہ کیوں نہ اپنے شہر پر ہی لکھا جائے۔ لیجیے پھر۔

Read more

خیام ہند حضرت ریاض خیر آبادی

قارئین آپ نے عمر خیام کا نام تو سن رکھا ہو گا وہ چاہے آپ کے لئے ماہر ریاضیات ’ماہر نجوم یا پھر شاعر کی حیثیت رکھتے ہوں ان کی پہچان ہر ایک کے لیے مختلف ضرور ہو سکتی ہے مگر اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ عمر خیام ایک نابغہ روزگار اور عظیم انسان تھے۔ ان کی پہچان بنیادی طور پر پاک و ہند میں ایک بادہ نوش شاعر کی ہے۔ ان کی شاعری آپ کو مے

Read more

خواہشیں ہیں صدیوں کی عمر تو ذرا سی ہے

جدھر نظر اٹھا کر دیکھو ایک دنیا سر و سامان کی فکر میں سرگرداں نظر آتی ہے۔ کوئی اس جستجو میں کامیاب ہوا تو کوئی ناکام۔ مگر یہ سودا اور دھن ہر سر میں موجود ہے کہ مکان ہو آراستہ اور لباس ہو پیراستہ۔ ایک بڑی گاڑی سواری کے لئے مل جائے اور چند نوکر ہمہ وقت خدمت میں پیش پیش رہیں۔ بازار کو جو نکلیں تو دس بیس سلامی کو آئیں اور اگر گھر میں بیٹھیں تو کوئی آ

Read more

تصوف

تصوف اور صوفی کے الفاظ کی تحقیق میں علمائے تصوف نے بہت کچھ کہا اور لکھا ہے بعض علماء اس کی لسانیاتی ( Etymology) تعریف بیان کرتے ہیں کہ یہ لفظ صوف سے نکلا ہے۔ یعنی صوفی وہ ہے جس نے صوف کا لباس پہنا ہو۔ صوف اونی کھادی ( ایک قسم کا موٹا کپڑا ) کو کہتے ہیں جو عیسائی راہب پہنا کرتے تھے۔ یہ کھردرا کپڑا ہوا کرتا تھا اس سے شاید خود کو عبادت کے لیے ایکٹو

Read more

تذکرہ وارث شاہ

آج ہم اپنے وطن پنجاب کے ان دو جانبازان عشق کا ذکر کرنا چاھتے ہیں جنہوں نے حسن و عشق کے موضوعات کو سدا کے لئے لا فانی کر دیا ۔ ایک ہیر اور دوسرا رانجھا ۔ جس شاعر نے اس قصہ کو خلعت دوام بخشا ہے اسکا نام سید وارث شاہ ہے ۔ قدرت نے اس عظیم الشان شاعر کو غیر معمولی ذہانت و لیاقت سے نوازا تھا جسکو اس نے بروۓ کار لاتے ہوئے ” ہیر رانجھا ”

Read more

استاد – ہمارے ناصح

ایشیائی شاعری کی دنیا میں واعظ ’شیخ‘ زاہد کے علاوہ ناصح سے بڑھ کر گالیاں شاید ہی کسی نے کھائی ہوں۔ بڑے سے بڑے شاعر نے بھی ان حضرات کی دل کھول کر ہجو اڑائی۔ حضرت امیر مینائی فرماتے ہیں باتیں ناصح کی سنیں یار کے نظارے کیے آنکھیں جنت میں رہیں کان جہنم میں رہے راقم اکثر یہ سوچتا تھا کہ شاعروں نے نصیحت کرنے والے کو برا کہا اور ان پے اتنا طنز کیوں کیا۔ بہاولپور یونیورسٹی کے

Read more