ہم سمجھتے کیا ہیں عمران خان کو؟
میں اور آپ عمران خان کو کیا سمجھتے ہیں؟ یعنی بطور ووٹر ہم ان کی آئین اور جمہوریت سے وابستگی یا پارلیمانی سیاست کے بارے میں سوچ کے انداز کا کیا تصور رکھتے ہیں؟ لیکن اس سے بھی زیادہ اہم شاید یہ سوال ہو سکتا ہے کہ عمران خان خود عمران خان کو کیا سمجھتے ہیں؟ جس پر مزید کچھ بعد میں۔
عمران کے جمہوری تصور کا سفر برطانیہ کی پارلیمانی جمہوریت اور سویڈن، فن لینڈ اور ناروے وغیرہ کے سوشلسٹ نظام کی مثال سے ہوتا ہوا چائنہ کے ایک پارٹی ماڈل اور بالآخر ریاست مدینہ جیسی ریاست بنانے کی خواہش تک پہنچتا ہے۔ اور ان نظاموں کے علاوہ ان کے دور حکومت میں کار سرکار کی دشواریوں اور مشکلات کے پیش نظر صدارتی نظام کی پسندیدگی کے بارے بھی سننے میں آیا۔ البتہ میرا خیال یہ ہے کہ بدقسمتی سے عمران کے حکومت میں آنے سے پہلے، اس کے دوران اور بعد کے فیصلوں سے لگتا ہے کہ وہ جمہوریت کو اپنے ہدف کی تکمیل کے لئے ایک ہتھیار یا ذاتی کامیابی کے ایک زینہ سے زیادہ کچھ اہمیت نہیں دیتے۔
اول تو آپ اس بات سے ہی اختلاف کر سکتے ہیں کہ عمران جمہوریت کو اہمیت نہی دیتے لیکن یہ بھی کہ اگر عمران اپنے ہدف کو حاصل کرنے کی خاطر کسی بھی انداز حکومت کو آزمانا یا اپنانا چاہیں تو اس میں کیا حرج ہے۔ مثال کے طور پر صدارتی نظام حکومت کو اور جب دنیا کی سب سے کامیاب جمہوریت میں بھی ایسا نظام ہی ہے۔ ہمیں پاکستان کی پارلیمان میں روایتی طور پر جیسے ’مفاد پرست، بدزبان اور کرپٹ‘ لوگ نظر آتے ہیں جن میں سے پھر ایک ملک کا وزیراعظم چنا جاتا ہے اور جس کی کارکردگی کا انحصار انہی کی سپورٹ پر ہوتا ہے تو اس سے کہیں بہتر یہ نہیں کہ ملک کے طول و عرض کے لوگ براہ راست ایک لیڈر کے لئے ووٹ دیں؟ حالانکہ ملک تین دفعہ پہلے ہی صدارتی نظام کے ناکام تجربوں سے گزر چکا ہے لیکن کچھ کی خواہش ہے کہ کاش ایک ’جاذب نظر، کرپشن فری اور خود دار‘ لیڈر بطور صدر آ جائے جس کے فیصلے بغیر چوں چرا کے نافذ ہوں اور ملک بس ترقی کے زینے طے کرتا ہی چلا جائے!
اور اگر آپ کی سوچ میں عمران جمہوریت اور اس کے تسلسل کو اہم سمجھتے ہیں تو پھر آپ اپنے آپ کو یقیناً ان سوالوں پر مطمئن کر چکے ہوں گے کہ وہ مشرف کے مارشل لاء میں شروع ہوئی جمہوریت میں مولانا فضل الرحمان سمیت کیوں حصہ دار بننا چاہ رہے تھے، یا عمران کا نواز شریف سے 2008 میں اختلاف انتخابات میں حصہ نہ لینے پر قائل نہ کر سکنے کے بعد سے کیوں ہوا، یا 2014 کا طاہر القادری کے ساتھ دھرنا نواز کے بطور وزیراعظم خود بنی گالہ آنے اور عمران کے سیاسی عمل میں شریک رہنے کے مذاکرات کے باوجود کیسے عمل پذیر ہو گیا اور عمران اس وقت کے چیف آف آرمی سٹاف کی طرف سے ملاقات کی دعوت کو نواز حکومت کے خاتمہ کی نوید سمجھتے ہوئے ان سے ملنے کے لیے دھرنے سے وکٹری سائن بنا کر کیوں جاتے دیکھے گئے۔
اوپر درج شدہ کے علاوہ 2018 میں حکومت سازی میں اسٹیبلشمنٹ کی کھلی مدد قبول کر لینا، اپنی حکومت میں سیاسی حریف پارٹیوں کی مینیجمنٹ اور اپوزیشن پارٹیوں کا احتسابی عمل ایجنسیوں کے حوالے کیے رکھنا وغیرہ کیسے ایک جمہوری سوچ رکھنے والے لیڈر کے لئے قابل قبول ٹھہرا۔ اور 2022 کی تحریک عدم اعتماد کے پیش ہونے پر ردعمل میں اٹھائے اقدام کو سپریم کورٹ کی طرف سے غیر آئینی قرار دیے جانے پر قومی اسمبلی کو اپنی پارٹی کی مشترکہ رائے کے خلاف استعفے دے دینے پر اصرار کر کے چھوڑ دینے کا کیا جمہوری جواز تھا اور بعد میں انہی استعفوں کو بوقت ضرورت واپس لینے کی کوشش کیا تھی؟ امید ہے کہ آپ کے پاس اس کا جواب صرف یہ نہیں ہو گا کہ ملک کے دوسرے سیاستدان کون سے فرشتے ہیں اور اگر صرف یہی ہے تب بھی ٹھیک ہے۔ بس ہمیں اس سوچ کی گنجائش بنا لینی چاہیے کہ عمران کی سیاست بھی بس پاور گیم ہے کوئی جمہوریت کی یا حق و باطل کی یا کرپشن کے خلاف جنگ نہیں ہے!
اب مضمون کا دوسرا سوال کہ عمران خود اپنے آپ کو کیا سمجھتے ہیں اور اس کا سراغ میرے خیال میں ان کے مذہبی بیانات سے لگایا جا سکتا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ عمران کا مذہبی بیانیہ ان کے سیاسی بیانیوں سے بھی زیادہ طاقتور ہے اور ان کے اسلامک ٹچ نے جو تاثر یا تصور ان کے فالوورز میں پیدا کر دیا ہے وہ کم از کم کچھ کے لئے تو ان سے مذہبی عقیدت کا رنگ بھی لے چکا ہے۔
عمران کے مذہبی بیانات اور ان کے ظاہری اور مخفی مطالب سے ان کے اپنے ہی بارے میں تصور کا کیا اندازہ لگانا ہے اس پر بھی میں بس سوال ہی اٹھا سکتا ہوں۔ مثال کے طور پر انہوں نے 2014 کے دھرنے کے دوران اپنے سیاسی سفر میں آئی مشکلات کا ذکر ایسے کیا کہ ’میں سمجھتا تھا کہ اللہ مجھے بھی مشکل وقت سے گزار رہا ہے، میری تیاری کروا رہا ہے جس طرح اس نے نبی کی تیاری کروائی‘ ۔ پھر پہلے تو ریاست مدینہ جیسی ریاست کے قیام کا بیانیہ اپنی اسٹیبلشمنٹ کی مدد اور ہارس ٹریڈنگ سے بنی حکومت کے قیام اور پھر اس کے دوام کی غرض میں سامنے آیا اور پھر اسی حکومت کی معاشی کارکردگی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ’ریاست مدینہ بھی پہلے پانچ سال معاشی طور پر مشکلات کا شکار رہی تھی‘ ۔
اپنی حکومت کے ختم ہونے پر ان لوگوں کے لئے جو ان کے مطابق ایجنسیوں کے دباؤ میں آ رہے تھے کہا کہ ’میری نظر میں وہ شرک ہے‘ ؛ حالانکہ اس سے پہلے خود اپنے اتحادیوں کو ایجنسیوں کے ہی ذریعے دباؤ میں رکھنے کا اقرار کر چکے تھے۔ اپنے سیاسی مخالف کو ووٹ دینے کو اللہ کی نافرمانی سے جوڑتے ہوئے کہا کہ ’اس کا مطلب آپ برائی کے ساتھ کھڑے ہیں، اس کا مطلب کہ اللہ کے فرمان کے خلاف آپ جا رہے ہیں‘ ۔
اوپر درج بیانات اور ان سے جو پیغام دینا مقصود لگتا ہے اس میں بہت معنویت ہے اور ان سے عمران کے انتہائی نرگسیت پسند اور خدائی مینڈیٹ کے دعوی دار ہونے کا تاثر تو ملتا ہی ہے۔ لیکن جہاں عمران پر مذہب کو سیاست کی غرض سے استعمال کرنے کا الزام لگایا جا سکتا ہے وہاں کیا یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ دراصل یہ سب بس ایک راسخ العقیدہ انسان کے جذبات کی عکاسی ہے؟ مجھے لگتا ہے کہ اس کا جواب عمران کے فالوورز کے جذبات کے اظہار میں مل سکتا ہے جو عمران کے خود اپنے بارے میں تصور کا بھی عکاس ہی ہو گا چونکہ ایسے جذبات کی ناصرف کبھی تردید یا تصحیح کی کوئی کوشش سامنے نہیں آئی بلکہ ایسے اظہار کو شاباشی ہی ملی اور میں اس زمن میں صرف ایک دو مثالیں ہی دینا چاہتا ہوں۔
ایک تو مثال اس بچے کی ہے جس نے ایک تقریب میں پی ٹی آئی کے اعلی عہدیداران کی موجودگی اور تالیوں میں یہ کہا کہ ’دنیا کے سب سے پہلے لکی پیرنٹس وہ تھے حضرت عبداللہ اور حضرت آمنہ کہ ان کو اللہ تعالی نے حضرت محمدؐ جیسے بیٹے سے نوازا اور دوسرے سب سے لکی پیرنٹس دنیا کے وہ ہیں مسٹر اکرام اللہ نیازی اور مسز شوکت خانم جنہیں اللہ تعالی نے عمران خان صاحب جیسے بیٹے سے نوازا‘ ۔ اس پر ایک مذہبی عالم نے یہ تبصرہ کر رکھا ہے کہ ’بچے پر شرعی قانون لاگو نہیں ہوتا، بچہ نابالغ ہے۔ لیکن اس بچے نے یہ الفاظ خود سے کہے ہیں یا اس کو کسی نے سکھلایا ہے کم از کم اس چیز کو تو پروب کرنا چاہیے کہ ہم کیسے اپنے بچوں کی تربیت کر رہے ہیں۔ کیا ہم اپنے بچوں کی یہ تربیت کر رہے ہیں کہ ہمارے فلاں سیاسی لیڈر کے والدین، رسول اللہ کے والدین کے بعد سب سے زیادہ خوش قسمت ہیں؟‘ ۔
دوسری مثال عمران کے ان ہمدردوں کی ہے جو ان کی عقیدت میں ایسے پیغام دیتے ہیں جیسے جنگ اخبار میں ایک کالم نگار کی یہ ٹویٹ ’عمران خان پر اللہ کی رحمت ہے، کالم میں لکھا تھا کہ اڈیالہ جیل میں کوئی رات کو آتا ہے عمران خان کو تھپکی دے کر ڈٹے رہنے کا حکم دیتا ہے، قرآنی آیات بتاتا ہے۔ پھر کسی نے بتایا کی خان تہجد کے بعد خودکلامی کرتا ہے۔ میں نے عرض کیا کہ خود کلامی نہیں وہ بہت بڑی ہستی سے باتیں کر رہا ہوتا ہے‘ ۔
سو اس اندیشہ کا کیا امکان ہے کہ پی ٹی آئی میں ایک ایسے رجحان کی پرورش ہو رہی ہے جو بتدریج سیاسی سے زیادہ مذہبی رنگ لے جائے گا؟ امید ہے آپ کے پاس اس کا جواب صرف یہ نہیں ہو گا کہ دوسرے بھی مذہب کے نام پر سیاست کرتے ہیں اور اگر صرف یہی ہے تب بھی ٹھیک ہے۔ بس ہمیں اس سوچ کی گنجائش بنا لینی چاہیے کہ عمران بقول خود آخری بال اور ہر حربہ آزما لینے تک کھیلنے والے کھلاڑی ہیں!
تو آخر میں پھر یہ سوال کہ ہم عمران کو کیا سمجھتے ہیں اور عمران خود اپنے آپ کو کیا سمجھتے ہیں اور اس سمجھ میں اگر کوئی گیپ ہے وہ کس سمت میں بھرتا ہوا نظر آ رہا ہے؟ کیا یہ گیپ عمران کی اپنے بارے یا ان کے عقیدت مندوں کی ان کے بارے سمجھ یا تصور کی طرف بھرتا ہوا نظر آ رہا ہے یا اس سمجھ کی طرف جس سے ہم اپنے سیاسی لیڈران کو ہمیشہ پرکھتے آئے ہیں؟


