انتخابات قومی و ملکی مسائل کا واحد حل؟
پی ٹی آئی حکومت کے دھڑن تختہ ہونے کے بعد سے 8 فروری تک ہر طرف سے ایک ہی گونج سنائی دے رہی تھی ”شفاف انتخابات ہی قومی و ملکی مسائل کا واحد حل ہیں“ ۔ دوسری طرف انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے بے یقینی کی جو فضا چار سو پھیلی ہوئی تھی 8 فروری کو دور ہوئی۔ البتہ انتخابات کیسے ہوئے، کس ماحول میں ہوئے اور سب سے بڑی بات شفاف ہوئے کہ نہیں۔ یہ وہ سوالات ہیں جس سے آپ بخوبی آگاہ ہیں۔ انتخابات کے ہونے سے جہاں سیاسی جماعتوں، کارکنوں اور عوام میں پائی جانے والی تشویش کی لہر تو دور ہوئی مگر وہی بہت سے سوالات اور خدشات ہیں جو بدستور قائم ہیں بلکہ ہر نئی صبح کے ساتھ ان خدشات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
میرے لیے انتخابات سے قبل کا سلوگن ”شفاف انتخابات ہی قومی و ملکی مسائل کا واحد حل ہیں“ زیادہ اہم ہے اور میں اس متعلق سوچ رہا ہوں کہ واقعی 8 فروری کو ہونے والے انتخابات اس قابل ہیں کہ وہ قومی و ملکی مسائل کا حل نکال سکیں۔ کیا انتخابات سے قبل کا یہ نعرہ اب شرمندہ تعبیر ہو گا؟
انتخابات 2024 میں کوئی بھی ایک سیاسی جماعت سادہ اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ اسی لیے سابقہ پی ڈی ایم حکومت کی طرز کا فارمولا اپنا کر حکومت کی تشکیل نو کی جا رہی ہے اور قائد ایوان کا سہرا شہباز شریف کے سر سجا یا گیا ہے۔ یوں شہباز شریف دوسری دفعہ ایک مخلوط ایوان کے قائد ایوان قرار پائے ہیں۔ لیکن زمینی حالات سابقہ پی ڈی ایم حکومت سے زیادہ تلخ اور پیچیدہ ہیں۔ سابقہ پی ڈی ایم حکومت میں شامل تمام جماعتوں، بشمول پیپلز پارٹی نے وفاقی کابینہ میں وزارتیں لی تھی اور اپنی وزارتوں کی جوابدہی کے لیے بھی پیش تھے اور آنے والے الیکشن کے پیش نظر اپنی تمام تر توانائیاں کچھ کر گزارنے اور عوام کو ریلیف دینے میں لگا رہے تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ ریلیف دینے میں کامیاب ہوئے یا ریلیف لینے میں؟ اس کا فیصلہ بھی عوام کی عدالت میں ہو چکا ہے۔
موجودہ شہباز حکومت کو شدید مشکلات اس لیے بھی درپیش ہیں کہ ایک طرف سے پیپلز پارٹی نے تو دوسری طرف سے ایم کیو ایم نے وفاقی کابینہ میں شامل نہ ہونے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے، جب کہ ہر حکومت کے دست و بازو مولانا فضل الرحمان صاحب بھی اب کی دفعہ خفا ہیں اور میدان عمل میں للکارتے نظر آرہے ہیں۔
پی ٹی آئی کے آزاد امیدوار سنی اتحاد کونسل کی شکل میں موجودہ حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج اس لیے بھی ہیں کہ اب کی دفعہ اپوزیشن نشستوں پر بھاری اکثریت وکلا، قانون دان اور پڑھے لکھے لوگوں کی ہے جو ہر بات پر آئین پاکستان اٹھا اٹھا کر اسپیکر اور قائد ایوان کو امتحان میں ڈال رہے ہیں۔ ایسے میں ملک کو لاحق معاشی مسائل، سیاسی پیچیدگیوں کے ساتھ شہباز حکومت کو آئینی ترامیم اور دیگر قانون معاملات میں بھی سخت حالات کا سامنا کرنا ہو گا۔ براہ راست صدارتی آرڈیننس کے لیے زرداری کے صدر بننے کی صورت میں بھی مسائل ہوسکتے ہیں۔
ان تمام معاملات اور پیچیدگیوں کو مد نظر رکھ کر کیا ہم شہباز اسپیڈ کی شہباز شریف سے توقع رکھ سکتے ہیں؟ جب کہ شہباز اسپیڈ سابقہ پی ڈی ایم دور میں عوام کو بھاری پڑی اور عوام کے گلے کی ہڈی بن گئی۔
کیا ہم انتخابات سے قبل لگائے جانے والے نعرے کو محض ایک سیاسی نعرہ سمجھتے ہوئے پھر سے اپنے اور اپنے ملک کے مستقبل سے مایوس ہو کر بیٹھ جائیں یا پھر اس نعرے کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے اپنی توانائیاں بروئے کار لائیں۔ یہ نعرہ ”شفاف انتخابات ہی قومی و ملکی مسائل کا واحد حل ہیں“ نون لیگ کے ووٹ کو عزت دو، پیپلز پارٹی کے روٹی کپڑا اور مکان اور پی ٹی آئی کے نوجوانوں کے پاکستان سے زیادہ اہم اور بڑھ کر ہے۔ اگر اس نعرہ پر عمل نہ کر سکے تو پھر عوام کی مایوسی اور بڑھے گی اور اس کے بھیانک اثرات ہوں گے ۔
قیام پاکستان سے اب تک عوام اسی امید میں جی رہے ہیں کہ آنے والے انتخابات اور نئی بننے والی حکومت ان کے دکھوں کو اپنے دکھ سمجھے گی اور اس پر مرہم رکھے گی۔ مگر کیا ایسا ہو گا؟ کیا 8 فروری کے انتخابات ملک و قوم کو درپیش مسائل اور چیلنجز کا حل نکال سکیں گے۔ ؟ یا اگلے انتخابات میں پھر وہی نعرہ دہرایا جائے گا ”شفاف انتخابات ہی قومی و ملکی مسائل کا واحد حل ہیں“ اور یوں یہ کہانی چلتی رہے گی۔


