اور بھٹو پھانسی سے بچ گئے


Ghulam Asghar Khan

اس سوشل میڈیائی عہد میں عجب رسم چلی ہے کہ وقتی جذبات پہ ٹرولنگ کر کے اس کی اہمیت کو اپنے انداز میں ٹھٹھا اڑا کر ختم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ شاید اس واقعے کی ایک ہی جہت ہو سکتی ہے۔ 6 مارچ 2024ء کو سپریم کورٹ نے ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کی سزا کالعدم قرار دی تو پڑھنے کو ملا؛ ”سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ۔ شکر ہے بھٹو صاحب پھانسی سے بچ گئے۔“

اس ٹرولنگ پہ مجھے تپ نہیں چڑھی بل کہ ان کی اخلاقی اور تاریخی کم فہمی پہ افسوس ہوا ہے کہ جو عالمی منظر نامے میں ایسے واقعات سے لاعلم ہیں۔ یہ انسانی سماج میں غلطیوں کو سدھارنے کا مہذب طریقہ ہے۔ ایسی ٹرولنگ کرنے والوں کو علم ہو کہ ہیرو وہی ہوتا ہے جو تاریخ میں قتل ہونے سے بچ جائے۔ بھٹو ایک انسان تھے، ان سے کئی سہو ہوئے ہوں گے مگر جس مقدمے میں انھیں سزا دی گئی؛ وہ اخلاقی، قانونی یا تاریخی سطح پر کبھی درست نہیں بنتی تھی۔ مولانا ظفر علی خان بہت پہلے کہہ گئے تھے :

ہیں نئی روش کی عدالتیں، اور نرالے ہی ڈھب کے ہیں فیصلے
نہ نظیر ہے نہ دلیل ہے، نہ وکیل ہے نہ اپیل ہے

یہی دلیل ان کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔ یہ معاملہ صرف بھٹو کا ہی نہیں ہے بل کہ دنیا کی تاریخ بھری پڑی ہے ایسی مثالوں سے، کہ جہاں تاریخ کی سب سے بڑی نا انصافیاں، انصاف کے ایوانوں میں ہوئی ہیں۔ جس کے بارے میں ابن ابی طالب نے کہا تھا کہ عدالت وہ جس نے رعایا کو غلام بنایا ہوا ہے۔ مگر ان عدالتوں کے فیصلے جب قوموں کے ضمیر پر داغ بن گئے تو ان قوموں نے بعد میں انھی فیصلوں کو علامتی طور پر بدل کر اپنے آپ کو اس تاریخی غلطی سے الگ کر لیا۔

ایتھنز والوں نے بھی سقراط کی قاتل جیوری کے پانچ سو ممبران کو پچھلی صدی میں علامتی سزائے موت کا حکم سنا کر خود کو ان بے ضمیر لوگوں سے الگ کیا۔ برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے 1972ء کے خونی واقعات پر شمالی آئر لینڈ کے لوگوں سے معافی مانگی۔ جنوبی افریقہ کے آخری نسل پرست صدر، ایف ڈبلیو کلارک نے نیلسن منڈیلا کے بیچ اور مفاہمت کمیشن کے سامنے مقامی لوگوں پر مصائب توڑنے پر تاسف کا اظہار کیا۔ 1633ء میں چرچ نے گلیلیو کو ”زمین حرکت میں ہے اور سورج ساکن ہے“ کی بات پر سزا سنائی تھی، 1992ء میں پوپ جان پال دوم نے چرچ کی غلطی تسلیم کی اور گلیلیو کے مقدمے پر معافی مانگی۔ 1993ء میں امریکی صدر بل کلنٹن نے ہوائی سے رسمی معافی نامہ سائن کیا کہ سو سال پہلے ہم نے اس ریاست پہ قبضہ کیا تھا۔ 2000ء میں آسٹریلیا کے وزیر اعظم کیون رڈ نے گوروں کی طرف سے ڈھائے جانے والے مظالم پر معذرت کی اور قدیم مقامی باشندوں کے وجود کو تسلیم کیا۔ جاپانی پارلیمنٹ نے جنگ عظیم دوم میں دو لاکھ عورتوں کو بہ طور طوائف استعمال کرنے پر 2007ء میں معذرت کی۔

2009ء میں امریکی صدر بننے پہ باراک اوباما نے کالے امریکیوں سے انھیں غلام بنانے کے امریکی عمل پر معافی مانگی اور 2016ء میں اوباما ہیرو شیما گئے اور ایٹمی حملوں کی ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کر کے جاپان سے معافی مانگی۔ اسرائیلی پارلیمان میں جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل نے ساٹھ لاکھ یہودیوں کے قتل عام پر جرمنی کی طرف سے معافی مانگی۔ ابھی پچھلے سال پرتگال کے سربراہ نے غلاموں کے نظام پر تمام سابقہ کالونیوں سے معافی مانگی ہے۔

سوال تو یہ ہے کہ ہم نے ابھی کتنی معافیاں مانگنی ہیں۔ سانحہ بابڑہ چارسدہ کو 76 سال ہونے کو ہیں، مگر آج تک کسی ادارے، عدالت، مرکزی یا صوبائی حکومت نے اس واقعے کو انصاف نہیں دیا کہ وہاں ریاستی اداروں نے 600 سے زائد خدائی خدمتگار قتل کر دیے تھے۔ بنگلا دیش میں کتنے قتل ابھی تک تشنۂ انصاف اور معافی طلب ہیں۔ ملتان کے چار سو سے زائد مزدوروں کے قتل بھی ایک مرد مومن کے نام لگتے ہیں اور بلدیہ ٹاؤن کراچی کے مزدوروں کی جلتی لاشوں نے بھی تاریخ میں مرنے سے انکار کیا ہوا ہے جس طرح ماڈل ٹاؤن لاہور کے دن دیہاڑے قتل ہونے والے ابھی تک مرنے سے انکاری ہیں۔

تاہم لگتا ہے کہ ان کا حال بھی ویسا ہی ہو گا کہ جس طرح حسین ابن علیؓ کو انصاف ملا۔ حسینؓ چاہتے تو مدینہ پہ قبضہ کر لیتے۔ انھوں نے کسی ایک تلوار والے کو ساتھ نہیں ملایا بل کہ اپنے اہل خانہ کو ساتھ لے کر حرمت حرم رسول کو پامالی سے بچانے کی کوشش کی اور مسلسل خطبے دیے جو کہ مکالمے کی دعوت تھی نہ کہ قتال کی، مگر وہ جس طرح قتل ہوئے اس کا خون بھی مسلمان قوم کے ضمیر پر داغ کی صورت موجود ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ ایک مقدمہ وہ بھی دائر کیا جائے اور خاندان رسالت کے اس بہیمانہ قتل کے مجرموں کو علامتی ہی سہی؛ سزائے موت سنائی جائے۔

Facebook Comments HS