بھٹو صاحب کا مقدمہ: صدارتی ریفرنس میں کیا سقم تھا؟


سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو صاحب کی سزائے موت کے بارے میں صدارتی ریفرنس پر سماعت ہوئی اور کل سپریم کورٹ نے اپنی مختصر رائے جاری کی۔ اور اسے چیف جسٹس جناب فائز عیسیٰ صاحب نے خود عدالت عظمیٰ میں پڑھ کر سنایا۔ اس کے مطابق اس وقت جس طرز پر لاہور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں اس مقدمہ کی سماعت کی گئی اس سے انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوتے۔ اور جس طرز پر اس مقدمہ کی سماعت ہوئی اور جو فیصلہ کیا گیا، اس میں قانونی اور آئینی نقطہ نگاہ سے کئی سقم پائے جاتے ہیں۔ ذاتی طور پر عدالت عظمیٰ نے جو مختصر رائے جاری کی اس کا یہ حصہ خاکسار کو سب سے زیادہ پسند آیا ہے :

”اس لیے ہم لازم ہے کہ ہم عاجزی کے ساتھ اور خود احتسابی کے جذبے کے تحت اپنے ماضی کی کوتاہیوں اور غلطیوں کا سامنا کرتے ہوئے انھیں قبول کریں جس سے ہمارے اس پختہ عزم کی عکاسی ہو کہ ہم پوری دیانت کے ساتھ قانون کے مطابق انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا چاہتے ہیں۔ سفر کی درست سمت کا اس وقت تک انتخاب ممکن نہیں ہوتا جب تک غلطیوں کا اعتراف اور پھر اصلاح نہ کی جائے۔“

صدر پاکستان کی طرف سے سپریم کورٹ کو جو ریفرنس بھجوایا گیا تھا اس کا ایک حصہ یہ بھی تھا کہ کیا اس وقت بھٹو صاحب کے بارے میں جو فیصلہ سنایا گیا وہ قرآن مجید کے قوانین اور رسول کریم ﷺ کی سنت کے مطابق تھا؟ اور یہ سوال اٹھایا گیا ہے :

”کیا شہید ذو الفقار علی بھٹو کے خلاف مقدمہ قتل کا فیصلہ قرآن مجید اور نبی کریم ﷺکی سنت میں مذکور اسلامی قوانین کے تقاضے پورے کرتا ہے؟ اگر ایسا ہے، تو کیا موجودہ مقدمہ توبہ کے تصور کے تحت آتا ہے جس کا صریح ذکر قرآن مجید کی درج ذیل آیات میں ہے۔“

صدارتی ریفرنس کی اس معین شق کے بارے میں عدالت میں چیف جسٹس صاحب نے فرمایا کہ ہم بار بار اس بارے میں اعانت کے لئے کہتے رہے لیکن ہمیں چونکہ کوئی مدد فراہم نہیں کی گئی اس لئے ہم اس بارے میں رائے دینے سے قاصر ہیں۔ کیا اس ریفرنس میں قانونی اور آئینی سوالات سے ہٹ کر یہ مذہبی سوال اٹھانے کی کوئی ضرورت بھی تھی؟ اگر یہ سوال نظر انداز بھی کر دیا جائے تو خاکسار یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ اس بحث میں ’توبہ‘ کے نظریہ کا سوال اٹھانے کا جواز کیا تھا؟ یہ سوال مہمل ہے۔

اگر یہ سوال اٹھتا تو تب اٹھتا اگر کوئی ملزم یہ کہے کہ ہاں میں نے یہ جرم کیا تھا لیکن یہ ماضی کی بات ہے۔ اب میں اس جرم سے توبہ کر چکا ہوں اس لئے مجھے یہ سزا نہ دی جائے۔ لیکن ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے تو کبھی یہ موقف اپنایا ہی نہیں تھا۔ ان کا سیدھا سادا موقف تو یہ تھا کہ میں نے ہر گز یہ جرم نہیں کیا۔ یہ الزام سراسر غلط ہے۔ اس لئے ’توبہ‘ کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔

اگر اس قسم کا کوئی سوال اٹھانا ہی تھا تو اس کی نوعیت بالکل مختلف ہونی چاہیے تھی۔ کیونکہ لاہور ہائی کورٹ نے بھٹو صاحب کو سزائے موت دیتے ہوئے جو فیصلہ سنایا اس میں اس بات پر بھاشن دینے کے بعد کہ وزیر اعظم کو حقیقی معنی میں دینی تعلیمات کا پیروکار ہونا چاہیے، اس فیصلہ کے پیراگراف 611 میں لکھا:

It is, as is clear from the oath of the Prime Minister as prescribed in the Constitution, a constitutional requirement that the Prime Minister of Pakistan must be a Muslim and a believer inter alia in the total requirements and teachings of the Holy Quran and the Sunnah. He should not be a Muslim only in name who may flout with impunity his oath

ترجمہ: آئین میں درج وزیر اعظم کے حلف سے یہ واضح ہے کہ وزیر اعظم کو مسلمان ہونا چاہیے اور اسے قرآن کریم اور سنت کی تقاضوں اور تعلیمات پر یقین ہونا چاہیے۔ اسے صرف نام کا مسلمان نہیں ہونا چاہیے جو کہ احساس برتری کے ساتھ اپنے حلف سے کھیلتا رہے۔

جب بھٹو صاحب نے اس فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تو 18 سے 21 دسمبر 1978 بھٹو صاحب نے عدالت میں اپنا موقف خود پیش کیا۔ اسے ان کی زندگی کی آخری تقریر بھی کہا جا سکتا ہے۔ 19 دسمبر کو انہوں نے اس مسئلہ پر کہ انہیں محض نام کا مسلمان قرار دیا گیا ہے شدید احتجاج کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک اسلامی ریاست میں اور پھر ایک کلمہ گو کے لئے یہ بڑی ہی غیر معمولی بات ہے کہ وہ یہ ثابت کرے کہ وہ مسلمان ہے۔ میرے خیال میں یہ پہلا موقع ہے کہ ایک مسلم لیڈر، ایک مسلم صدر، ایک مسلم وزیر اعظم جسے مسلمانوں نے منتخب کیا ہے ایک دن خود کو ایسی پوزیشن میں پا رہا ہے جہاں اسے یہ کہنا پڑے کہ وہ مسلمان ہے۔

جیسا کہ میں نے پہلے عرض کی تھی کہ ایک مسلمان کے لئے یہ کافی ہے کہ وہ کلمہ پر یقین رکھتا ہے اور کلمہ پڑھتا ہے۔ انتخابی مہم کے دوران بڑی باتیں کہی گئیں۔ فتوے دیے گئے کیونکہ ہم ماڈرن اور ترقی پسند تھے۔ ہم جدید اور عصر حاضر کے معیار پر یقین رکھتے ہیں یہ فتوے دیے گئے کہ یہ شخص کافر ہے۔ یہ پارٹی کافر ہے۔ یہ فتوے صرف پاکستان کے عالموں نے نہیں دیے بلکہ ان کی درآمد بھی ہوئی اور انہیں الیکشن میں استعمال کیا گیا۔

(عدالت عظمیٰ سے چیئر مین ذوالفقار علی بھٹو کا تاریخی خطاب۔ مترجم ارشاد راؤ ناشر جمہوری پبلیکیشنز 2011 ص 27 تا 31 )

اس وقت کے آمروں کی ذہنیت اتنی پست ہو چکی تھی اور وہ بھٹو صاحب کے اسلام کا فیصلہ کرنے پر اتنا تلے بیٹھے تھے کہ اس جیل کے سیکیورٹی سپرنٹنڈنٹ کرنل رفیع الدین صاحب نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ جب بھٹو صاحب کو پھانسی دے دی گئی تو ان کی لاش کی تصویریں لی گئیں کہ ان کے ختنے بھی ہوئے تھے کہ نہیں۔ اور پھر کرنل صاحب پڑھنے والوں کو یہ تسلی دلاتے ہیں کہ ان کے اسلامی طرز پر ختنے ہوئے تھے۔ گویا کسی شخص کہ مذہب کا فیصلہ کرنے کا یہی ایک طریق رہ گیا تھا۔

(بھٹو کے آخری 323 دن مصنفہ کرنل رفیع الدین ص 127 )

مناسب ہوتا کہ اگر صدارتی ریفرنس میں یہ سوال اٹھایا جاتا کہ کیا عدالت کو کسی شخص کے مذہب کا فیصلہ کرنے کا یا اس بات کا فیصلہ کرنے کا کہ وہ محض نام کا مسلمان ہے یا صالح مسلمان ہے اور صادق و امین ہے، اختیار ہے یا نہیں۔ گو سپریم کورٹ نے اس مقدمہ کی اپیل کے فیصلہ کے پیراگراف 935 میں ہائی کورٹ کے فیصلہ کے ان اقتباسات کو غیر متعلقہ قرار دے دیا تھا لیکن ایسا ضابطہ ضرور بننا چاہیے جس کی روشنی میں آئندہ عدالتیں اس قسم کے معاملات میں دخل در معقولات سے پرہیز کریں۔

Facebook Comments HS