9 مئی کے شرپسند
جس وقت یہ کالم لکھا جا رہا ہے پاکستان میں 14 ویں صدرمملکت کے انتخاب کا عمل جاری ہے۔ چاروں صوبائی اسمبلیاں اور ارکان پارلیمنٹ شام 4 بجے تک اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ حکومتی اتحاد کی جانب سے آصف علی زرداری اور سنی اتحاد کونسل کی طرف سے محمود خاں اچکزئی آمنے سامنے ہیں۔ اظہر من الشمس کہ آصف زرداری 2 تہائی اکثریت حاصل کر کے صدر منتخب ہوجائیں گے۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے سنی اتحاد کونسل (سابق تحریک انصاف) کے نزدیک وہی آئین اور وہی قانون جو اسے پسند ہو۔ محمود خاں اچکزئی نے صدارتی انتخابات ملتوی کرانے کے لیے الیکشن کمیشن کو اپیل کی جسے مسترد کر دیا گیا۔ الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ الیکٹورل کالج مکمل ہے جسے نامکمل کہہ کر صدارتی الیکشن روکا نہیں جا سکتا۔ آئین کی روسے عام انتخابات کے 30 دنوں کے اندر صدارتی انتخاب کروانا ضروری ہے اور 9 مارچ 30 واں دن ہی بنتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا تحریک انصاف نے پہلے کبھی آئین و قانون پر عمل کیا ہے جو کہ اب کرے گی؟ صوبائی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر رانا آفتاب نے کہہ دیا کہ وہ ”اجنبیوں“ کو ووٹ نہیں ڈالنے دیں گے۔ (غالباً ان کے نزدیک مخصوص کوٹے کے مرد و خواتین اجنبی ہیں ) ۔ سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ موجودہ صدارتی انتخابات متنازع ہیں کیونکہ مخصوص نشستوں کا معاملہ کورٹ میں ہے اس لیے الیکٹورل کالج مکمل نہیں۔ اگر مخصوص نشستوں کا سنی اتحاد کونسل کے حق میں فیصلہ ہوا تو صدارتی انتخابات دوبارہ کروانے پڑیں گے۔ پھر بھی ہم بطور احتجاج حصہ لے رہے ہیں۔ گویا پہلے ہی انتشار کی راہ ہموار کی جا رہی ہے تاکہ حسب سابق ”کھیڈاں گے نہ کھیڈن دیاں گے“ پر عمل کیا جا سکے۔ ایسی انتشاری سیاست سے ملک کا بھلا ہو گا نہ قوم کا لیکن تحریک انصاف کو اس سے کیا۔
مانا کہ عام انتخابات میں تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کو ووٹرز نے حیران کن ووٹوں سے نوازا۔ تسلیم کہ خیبرپختونخوا میں آزاد امیدواروں کی غالب اکثریت کو کامیابی نصیب ہوئی اور پنجاب میں بھی ٹکر کے ووٹ ملے۔ یہ ووٹرز کی اپنی سوچ تھی جس پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔ سوال مگر یہ کہ کیا قابل ذکر تعداد میں ووٹ حاصل کرنے کے باوجود تحریک انصاف قومی دھارے میں داخل ہونے کے لیے تیار ہے؟ کیا وہ انتشاری سیاست ترک کرنے پر آمادہ ہے؟
اگر نہیں تو پھر کیا قوم 2014 ء کے 126 روزہ دھرنے میں عمران خاں کی سول نافرمانی کو بھول جائے؟ کیا برطانیہ سے آئے ہوئے قومی خزانے کے 190 ملین پاؤنڈز ملک ریاض کو دینا کوئی جرم نہیں تھا؟ کیا بھارت اور اسرائیل سے ممنوعہ فنڈنگ کا حصول درست تھا؟ کیا توشہ خانہ پر ہاتھ صاف کرنا اور MBS کی تحفے میں دی گئی گھڑی بیچنا قابل مذمت نہیں؟ کیا صرف ساڑھے 3 سالوں میں پاکستان کو 24 ہزار ارب روپے کا مقروض کرنا اور عوض میں تعمیر و ترقی کی کوئی ایک اینٹ بھی نہ لگانا جرم عظیم نہیں؟ سب سے بڑھ کر کیا سانحہ 9 مئی کے شرپسندوں کو محض اس لیے معاف کر دیا جائے کہ تحریک انصاف نے عام انتخابات میں قابل ذکر تعداد میں ووٹ حاصل کیے۔
آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی زیرصدارت 5 مارچ کو 263 ویں کور کمانڈرز کانفرنس ہوئی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق اعلامیے میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا ”9 مئی کے منصوبہ سازوں، اشتعال دلانے والوں، حوصلہ افزائی کرنے والوں، شہداء کی یادگاروں کی بے حرمتی کرنے والوں اور فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے والوں کو یقینی طور پر آئین و قانون کی متعلقہ دفعات کے تحت انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ اس سلسلے میں مسخ شدہ، ابہام اور غلط معلومات پھیلانے کی بدنیتی پر مبنی کوششیں بالکل بے سود ہیں۔
جو مضموم سیاسی مفادات کے حصول کے لیے منظم مہم کا حصہ ہیں تاکہ 9 مئی کی گھناؤنی سرگرمیوں پر پردہ ڈالا جا سکے“ ۔ اڈیالہ جیل میں قید عمران خاں نے حسب عادت اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کرتے ہوئے کورکمانڈر اعلامیے کی مکمل حمایت کا اعلان کیا اور کہا کہ 9 مئی کے پرتشدد واقعات کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔ اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے غیررسمی گفتگو کرتے ہوئے عمران خاں نے سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعے مجرموں کی شناخت کا مطالبہ کیا۔
یہ عمران خاں کی اپنا دامن بچانے کی ایک ناکام کوشش ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ وہ خود تو کسی فوٹیج میں موجود نہیں لیکن ان کا بھانجا حسان نیازی اور اس کی بہنیں تو جناح ہاؤس میں موجود تھیں۔ ڈاکٹر یاسمین راشد، صنم جاوید، عالیہ حمزہ اور دیگر کئی خواتین کی فوٹیج بھی موجود ہے۔ اس کے علاوہ جتنے شرپسند پابند سلاسل ہیں ان سب کی فوٹیج، آڈیوز اور ویڈیوز مکمل ثبوتوں کے ساتھ متعلقہ اداروں کے پاس موجود ہیں۔ عمران خاں کے اس بیان سے صاف ظاہر ہے کہ وہ ان سبھی لوگوں کو قربانی کے بکرے بنا کر اپنا دامن بچانا چاہتا ہے۔ ایسا ہونا مگر ممکن نہیں کیونکہ 9 مئی کا منصوبہ ساز تووہ خود ہے جس نے زمان پارک میں شرپسندوں کو پٹرول بم بنانے کی تربیت دلوائی۔
یوں تو کورکمانڈر کانفرنس میں 9 مئی کے شرپسندوں کو قرار واقعی سزا دلوانے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے لیکن بصد ادب گزارش ہے کہ 2 ماہ بعد سانحہ 9 مئی کو ایک سال ہو جائے گا لیکن تاحال کسی بھی شرپسند کو نہ صرف یہ کہ سزا نہیں سنائی گئی بلکہ چوہوں کی طرح بلوں میں گھسے مفرور بھی ایک ایک کر کے باہر آنے لگے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ مفروروں کو عدالتوں سے دھڑادھڑ ضمانتیں بھی ملنے لگی ہیں اور کئی مفروروں نے تو عام انتخابات میں حصہ بھی لیا۔
ہمیں یاد ہے کہ سانحہ 9 مئی کے فوراً بعد تحریک انصاف کی ساری قیادت یا تو جیلوں میں تھی یا پھر مفرور۔ سانحہ 9 مئی کے ملزمان کی حراست کے لیے جگہ جگہ چھاپے مارے جا رہے تھے۔ یہی نہیں بلکہ سمگلروں، حوالہ ہنڈی کرنے والوں اور ذخیرہ اندوزوں کے گرد بھی گھیرا تنگ کیا جا رہا تھا۔ پھر پتہ نہیں اچانک کیا ہوا کہ نرمی اور مصلحت نے پر پھیلائے اور شرپسندوں نے یہ جانا کہ ان پر ہاتھ ڈالنے والا کوئی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مفرور دھڑادھڑ باہر آئے اور بزعم خویش رہنماء آگ اگلنے لگے۔ ایسے لوگوں کو ملک و قوم کا ہمدرد کیسے کہا جا سکتا ہے جن کا ہر قدم ملکی سلامتی کے خلاف اٹھ رہا ہو۔
اس وقت وطن عزیز کی حالت یہ کہ خزانہ خالی اور ملک ڈیفالٹ کے کنارے پر ۔ ہر صاحب فکر و نظر پریشان کہ اس دور ابتلاء سے چھٹکارا کیسے ممکن ہو لیکن اڈیالہ جیل میں بیٹھے عمران خاں نے آئی ایم ایف کو خط لکھ کر قرضے کی اگلی قسط کی ادائیگی روکنے کی بھرپور سعی کی۔ آئی ایم ایف کا بھرپور تھپڑ تو عمران خاں کے منہ پر پڑ چکا جس نے بیان دیا کہ آئی ایم ایف کسی ملک کے اندرونی سیاسی معاملات پر تبصرہ نہیں کرتا۔ آئی ایم ایف کے ترجمان کا کہنا تھا ”پی ٹی آئی کی جانب سے 28 فروری کو خط ملا ہم پاکستان کی نئی حکومت کے ساتھ قلیل مدتی قرض کا دوسرا جائزہ مکمل کرنے کے کام کے لیے پرعزم ہیں۔ آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ ترقی کا ثمر ہر پاکستانی شہری تک پہنچے اور غریب طبقات کو تحفظ ملے“ ۔ سوال مگر یہ کہ کیا کوئی بھی محب وطن پاکستانی آئی ایم ایف کو اس قسم کا خط لکھ سکتا ہے جس میں ملکی بربادیوں کی داستانیں رقم کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی ہو۔


